حدیث نمبر: 17465
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ قَرَضٍ - أَوْ قَرَظٍ - قَالَ : إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ الْيَوْمَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُوبِقَاتِ . ¤ قَالَ حُمَيْدٌ : فَقُلْتُ لِأَبِي قَتَادَةَ : فَكَيْفَ لَوْ أَدْرَكَ زَمَانَنَا هَذَا ؟ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : لَكَانَ لِذَلِكَ أَقْوَلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَالَ : عُبَادَةُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : عَبَّادُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَبَعْضُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن قرص رضی اللہ عنہ ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ لفظ ہے : ) ۔ قرط فرماتے ہیں : ” آج کل تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک ( یعنی ہلکے ) ہوتے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم لوگ انہیں ہلاکت کا شکار کرنے والے اعمال شمار کرتے تھے ۔ “ حمید کہتے ہیں : میں نے ابوقتادہ سے دریافت کیا : اگر وہ ہمارا زمانہ پا لیتے ، تو پھر کیا کہتے ؟ ابوقتادہ نے کہا: پھر تو یہ بات زیادہ موزوں ہونی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے لفظ ” عبادہ “ نقل کیا ہے ، جبکہ امام طبرانی نے اس میں لفظ ” عباد “ نقل کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، امام أحمد اور امام طبرانی کی اسانید کے بعض رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (470/3)»