عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ ، طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ ، مَحْتَسِبًا وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَلَهُ الْجَنَّةُ - أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ - وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ : الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَبَهْتُ الْمُؤْمِنِ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ أَوْ يَمِينٌ صَابِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ، کہ وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، اور اپنے من کی خوشی کے ساتھ اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے ، اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے ، اطاعت و فرمانبرداری سے کام لے ، تو اُسے جنت نصیب ہو گی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ جنت میں داخل ہو گا ، اور پانچ کام ایسے ہیں ، جن کا کوئی کفارہ نہیں ہے ، کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا ، کسی جان کو ناحق طور پر قتل کرنا ، مؤمن پر بہتان لگانا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جھوٹی قسم اٹھانا ، جس کے ذریعے آدمی کسی کا مال ناحق طور پر ہتھیا لے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَائِشَةَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ، هُمْ أَصْحَابُ الْبِدَعِ ، وَأَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ ، لَيْسَ لَهُمْ تَوْبَةٌ ، أَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ ، وَهُمْ مِنِّي بَرَاءٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” اے عائشہ ! بے شک وہ لوگ ، جنہوں نے اپنے دین میں فرقہ بندی اختیار کی ، وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے ، وہ لوگ بدعت کے پیروکار اور نفسانی خواہشات کے پیروکار تھے ، اُن کے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ، میں اُن سے لاتعلق ہوں ، اور وہ مجھ سے لاتعلق ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ حَجَبَ التَّوْبَةَ عَنْ كُلِّ صَاحِبِ بِدْعَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَارُونَ بْنِ مُوسَى الْفَرْوِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کو ، ہر بدعتی سے محجوب کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہارون بن موسیٰ فروی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہارون بن موسیٰ فروی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَكَ الْمُقَذِّرُونَ " ، قُلْتُ : ذَكَرَ صَاحِبُ النِّهَايَةِ أَنَّهُمُ الَّذِينَ يَأْتُونَ الْقَاذُورَاتِ مِنَ الذُّنُوبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گندگی کرنے والے ، ہلاکت کا شکار ہو گئے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” النہایہ “ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں ، جو گندے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ، معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ، معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔