حدیث نمبر: 17463
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حُنَيْنٍ نَزَلْنَا قَفْرًا مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْمَعُوا ، مَنْ وَجَدَ شَيْئًا فَلْيَأْتِ بِهِ ، وَمَنْ وَجَدَ عَظْمًا أَوْ سِنًّا فَلْيَأْتِ بِهِ " ، قَالَ : فَمَا كَانَ إِلَّا سَاعَةٌ حَتَّى جَعَلْنَاهُ رُكَامًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَرَوْنَ هَذَا ؟ فَكَذَلِكَ تُجْمَعُ الذُّنُوبُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْكُمْ كَمَا جَمَعْتُمْ هَذَا ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَجُلٌ ، فَلَا يُذْنِبُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً ; فَإِنَّهَا مُحْصَاةٌ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نُفَيْعٌ أَبُو دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے ، تو ہم نے ایک ویران جگہ پر پڑاؤ کیا وہاں کوئی چیز موجود نہیں تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ جمع کرو ! جسے جو چیز ملے ، وہ لے آئے ، جسے ہڈی ملے یا کوئی اور چیز ملے ، وہ اسے لے آئے ، راوی بیان کرتے ہیں : تھوڑی ہی دیر میں ایک ڈھیر اکٹھا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اسے دیکھ رہے ہو ؟ اسی طرح گناہ تم میں سے کسی ایک شخص کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں ، جس طرح تم نے اس کو اکٹھا کیا ہے ، تو آدمی کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے ، اور چھوٹا یا بڑا کوئی گناہ نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ وہ اس شخص کے خلاف شمار ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیح ابوداؤد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17463
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5485)»