کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کی سخاوت کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الْأَجْوَدِ الْأَجْوَدِ ؟ اللَّهُ الْأَجْوَدُ الْأَجْوَدُ ، وَأَنَا أَجْوَدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَأَجْوَدُهُمْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَ عِلْمَهُ ؛ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَاحِدَةً ، وَرَجُلٌ جَادَ بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُقْتَلَ " " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں سب سے بڑے سخی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا سخی ہے ، اور میں اولاد آدم میں سب سے زیادہ سخی ہوں ، اور میرے بعد ان میں سب سے زیادہ سخی وہ شخص ہے ، جو علم حاصل کرے اور اپنے علم کو پھیلائے ، اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا ، اور ایک وہ شخص ہے ، جو اپنی جان کے ہمراہ اللہ کی راہ میں ( جنگ میں ) حصہ لے ، یہاں تک کہ شہید ہو جائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14178
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2790)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّ أَبَا أَسِيدٍ كَانَ يَقُولُ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمْنَعُ شَيْئًا يُسْأَلُهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أَسِيدٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوبکر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ یہ کہا: کرتے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی چیز مانگی جاتی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہیں کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے غزوہ بدر سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی نے ، سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14179
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ شَيْئًا فَأَرَادَ أَنْ يَفْعَلَهُ قَالَ : " نَعَمْ " . وَإِذَا أَرَادَ أَلَّا يَفْعَلَ سَكَتَ ، وَكَانَ لَا يَقُولُ لِشَيْءٍ : لَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي كِتَابِ الْأَدْعِيَةِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی چیز پوچھی جاتی تھی اور آپ کا ویسا کرنے کا ارادہ ہوتا تھا ، تو آپ فرماتے تھے : ٹھیک ہے ، اور اگر آپ کا وہ کام کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا تھا ، تو آپ خاموش رہتے تھے ، آپ یہ نہیں کہتے تھے : جی نہیں !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو دعاؤں سے متعلق کتاب میں ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14180
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلَهُ أَرْضًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَكَتَبَ لَهُ بِهَا ، فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ لَهُمْ : أَسْلِمُوا فَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةَ مَنْ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الْعُذْرِيُّ ، وَقِيلَ فِيهِ : مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک عرب شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے آپ سے دو پہاڑوں کے درمیان موجود زمین مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے وہ زمین لکھ دی ، وہ شخص مسلمان ہوا ، اور اپنی قوم کے پاس گیا اور ان سے کہنے لگا : تم لوگ مسلمان ہو جاؤ ! میں تم لوگوں کے پاس ایک ایسے فرد کی طرف سے آیا ہوں جو اتنا عطیہ دیدیتے ہیں کہ پھر غربت کا خوف نہیں رہتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یحیی عذری ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14181
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4877)»
وَعَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ : بَعَثَنِي مُعَوِّذُ بْنُ عَفْرَاءَ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ عَلَيْهِ أُجَرُ مَنْ قِثَّاءِ زُغْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ الْقِثَّاءَ ، وَكَانَتْ حِلْيَةٌ قَدْ قَدِمَتْ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَمَلَأَ يَدَهُ مِنْهَا فَأَعْطَانِيهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ نے مجھے کھجوروں کے ایک گچھے کے ہمراہ بھیجا ، اس کے ساتھ ککڑی بھی تھی ، انہوں نے اس کے ہمراہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی کو پسند کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے زیورات آئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن میں سے ہاتھ بھر کے وہ مجھے دیدیے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14182
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (374/24)»
وَفِي رِوَايَةٍ : فَأَعْطَانِي مَلْءَ كَفِّي حَلْيًا أَوْ ذَهَبًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : فَقَالَ : " تَحَلَّيْ بِهَذَا " . وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بھر کے زیور ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سونا مجھے عطا کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اسے نقل کیا ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : آپ نے فرمایا : ” تم یہ زیور پہن لینا ۔ “ ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14183
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (273/24) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (359/6)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَى صَاحِبَ بَزٍّ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ ، فَخَرَجَ وَهُوَ عَلَيْهِ ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْسُنِي قَمِيصًا كَسَاكَ اللَّهُ مِنْ ثِيَابِ الْجَنَّةِ . فَنَزَعَ الْقَمِيصَ فَكَسَاهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى صَاحِبِ الْحَانُوتِ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ وَبَقِيَ مَعَهُ دِرْهَمَانِ ، فَإِذَا هُوَ بِجَارِيَةٍ فِي الطَّرِيقِ تَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ ؟ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَفَعَ لِي أَهْلِي دِرْهَمَيْنِ أَشْتَرِي بِهِمَا دَقِيقًا فَهَلَكَا ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهَا الدِّرْهَمَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ ، ثُمَّ وَلَّتْ وَهِيَ تَبْكِي . فَدَعَاهَا فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ وَقَدْ أَخَذْتِ الدِّرْهَمَيْنِ ؟ " . فَقَالَتْ : أَخَافَ أَنْ يَضْرِبُونِي ، فَمَشَى مَعَهَا إِلَى أَهْلِهَا ، فَسَلَّمَ فَعَرَفُوا صَوْتَهُ ، ثُمَّ عَادَ فَسَلَّمَ ، ثُمَّ عَادَ فَثَلَّثَ فَرَدُّوا . فَقَالَ : " أَسْمِعْتُمْ أَوَّلَ السَّلَامِ ؟ " . فَقَالُوا : نَعَمْ ، وَلَكِنْ أَحْبَبْنَا أَنْ تَزِيدَنَا مِنَ السَّلَامِ ، فَمَا أَشْخَصَكَ بِأَبِينَا وَأُمِّنَا ؟ قَالَ : " أَشْفَقَتْ هَذِهِ الْجَارِيَةُ أَنْ تَضْرِبُوهَا " . قَالَ صَاحِبُهَا : هِيَ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ ; لِمَمْشَاكَ مَعَهَا ، فَبَشَّرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَيْرِ وَبِالْجَنَّةِ ، وَقَالَ : " لَقَدْ بَارَكَ اللَّهُ فِي الْعَشَرَةِ ، كَسَا اللَّهُ نَبِيَّهُ قَمِيصًا وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَمِيصًا ، وَأَعْتَقَ مِنْهَا رَقَبَةً ، وَأَحْمَدُ اللَّهَ هُوَ الَّذِي رَزَقَنَا هَذَا بِقُدْرَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابْلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ ایک کپڑے والے کے پاس آئے ، آپ نے اس سے ایک قمیص چار درہم کے عوض میں خریدی ، پھر آپ تشریف لے گئے ، وہ قمیص آپ نے پہنی ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ یہ قمیص مجھے پہننے کے لئے دے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کی قمیص پہنائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قمیص اتاری ، اور وہ اسے پہننے کے لئے دیدی ، پھر آپ واپس اس دوکاندار کے پاس گئے ، اور چار درہم کے عوض میں اس سے ایک اور قمیص خریدی ، اب آپ کے پاس دو درہم باقی بچ گئے تھے ، راستے میں ایک بچی رو رہی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے گھر والوں نے مجھے دو درہم دیے تھے ، تاکہ میں ان کے ذریعے آٹا خریدوں ، تو وہ گم ہو گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی بچ جانے والے دو درہم اسے دیدیے ، پھر وہ لڑکی روتی ہوئی واپس مڑی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا : اب تم کیوں رو رہی ہو ؟ جبکہ تم نے دو درہم لے لیے ہیں ، وہ بولی: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ گھر والے مجھے ماریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس لڑکی کے ساتھ چلتے ہوئے اس کے گھر والوں کے پاس گئے ، آپ نے سلام کیا تو لوگوں نے آپ کی آواز پہچان لی ، آپ نے پھر سلام کیا ، پھر آپ نے سلام کیا ، جب آپ نے تیسری مرتبہ سلام کیا ، تو ان لوگوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے پہلا سلام سن لیا تھا ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن ہماری یہ خواہش تھی کہ آپ ہمیں مزید سلام کریں ، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کا کس سلسلے میں آنا ہوا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کنیز کو یہ ڈر تھا کہ تم اس کی پٹائی کرو گے ، اس کنیز کے مالک نے کہا: یہ اللہ کی راہ میں آزاد ہے ، کیونکہ آپ اس کے ساتھ چل کے آئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو بھلائی اور جنت کی خوشخبری دی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دس درہموں میں برکت دے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایک قمیص پہنائی ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قمیص پہننے کے لئے دی ، اور اس رقم کے ذریعے ایک گردن کو بھی آزاد کروا دیا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس نے اپنی قدرت کے ذریعے ہمیں یہ چیز نصیب کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14184
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13607)»
وَعَنْ أُمِّ سُنْبُلَةَ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ ، فَأَبَيْنَ أَزْوَاجُهُ أَنْ يَقْبَلْنَهَا ، فَقُلْنَ : إِنَّا لَا نَأْخُذُ . فَأَمَرَهُنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذْنَهَا ، ثُمَّ أَقْطَعَهَا وَادِيًا فَاشْتَرَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ مِنْ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ قَيْظِيٍّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ ایک تحفہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اسے قبول کرنے سے سے انکار کر دیا ، انہوں نے کہا: ہم یہ نہیں لیں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ازواج کو حکم دیا ، تو ان ازواج نے اسے قبول کر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وادی اُسے جاگیر کے طور پر دی ۔ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے وہ زمین خرید لی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیظی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14185
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : اجْتَمَعْتُ أَنَا وَالْعَبَّاسُ ، وَفَاطِمَةُ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَبُرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، وَكَثُرَتْ مَؤُونَتِي ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَفْعَلُ ذَلِكَ " . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَفْعَلُ ذَلِكَ " . فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا كَانَتْ مَعِيشَتِي مِنْهَا ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَفْعَلُ ذَلِكَ " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَبَقِيَّتُهُ رَوَاهَا أَبُو دَاوُدَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي هَذَا الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَكَ فِي كِتَابِهِ مِنْ هَذَا الْخُمُسِ فَاقْسِمْهُ فِي مَقَامِكَ كَيْ لَا يُنَازِعَنِي أَحَدٌ بَعْدَكَ فَافْعَلْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَفْعَلُ ذَلِكَ " . فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَّمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَسَّمْتُهُ . ¤ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ، فاطمہ اور زید بن حارثہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، میرے اخراجات زیادہ ہو گئے ہیں ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لئے فلاں فلاں چیز کا حکم دیدیں ، یعنی میرے لئے اناج کے اتنے وسق کا حکم دے دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم ایسا کر لیں گے ، فاطمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو میرے لئے بھی اسی کی مانند حکم دے دیں ، جو آپ نے اپنے چچا کے لئے حکم دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم ایسا کر دیں گے ، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی ، میرا گزر بسر اُسی سے ہوتا تھا ، پھر آپ نے وہ واپس لے لی ، اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو وہ واپس کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم ایسا کر دیں گے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو آپ مجھے اس حق کا نگران مقرر کر دیں ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آپ کے لئے مقرر کیا ہے ، جس کا تعلق خمس سے ہے ، اسے میں آپ کی جگہ تقسیم کر دیا کروں ، تاکہ آپ کے بعد میرے ساتھ کوئی جھگڑا نہ کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم ایسا کر دیں گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا نگران مقرر کیا ، آپ کی زندگی میں ، میں ہی اسے تقسیم کرتا رہا ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا نگران مقرر کیا ، اور اسے میں ہی تقسیم کرتا رہا ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14186
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2460) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (642)»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ أَبِي ، دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَتُحِبُّ الدَّرَاهِمَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالٌ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا " . قَالَ : فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَنِي ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَتَاهُ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ، فَقَالَ : خُذْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : لَكَ - فَأَخَذْتُ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میرے والد شہید ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا : کیا تم درہموں کو پسند کرتے ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر ہمارے پاس مال آیا ، تو میں تمہیں اتنے اتنے دوں گا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مجھے ادائیگی کرنے سے پہلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ، تو ان کے پاس بحرین سے مال آیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم اس طرح وصول کر لو ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے ارشاد فرمایا تھا ، تو میں نے وہ وصول کر لیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14187
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2461)»