حدیث نمبر: 14184
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَى صَاحِبَ بَزٍّ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ ، فَخَرَجَ وَهُوَ عَلَيْهِ ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْسُنِي قَمِيصًا كَسَاكَ اللَّهُ مِنْ ثِيَابِ الْجَنَّةِ . فَنَزَعَ الْقَمِيصَ فَكَسَاهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى صَاحِبِ الْحَانُوتِ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ وَبَقِيَ مَعَهُ دِرْهَمَانِ ، فَإِذَا هُوَ بِجَارِيَةٍ فِي الطَّرِيقِ تَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ ؟ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَفَعَ لِي أَهْلِي دِرْهَمَيْنِ أَشْتَرِي بِهِمَا دَقِيقًا فَهَلَكَا ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهَا الدِّرْهَمَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ ، ثُمَّ وَلَّتْ وَهِيَ تَبْكِي . فَدَعَاهَا فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ وَقَدْ أَخَذْتِ الدِّرْهَمَيْنِ ؟ " . فَقَالَتْ : أَخَافَ أَنْ يَضْرِبُونِي ، فَمَشَى مَعَهَا إِلَى أَهْلِهَا ، فَسَلَّمَ فَعَرَفُوا صَوْتَهُ ، ثُمَّ عَادَ فَسَلَّمَ ، ثُمَّ عَادَ فَثَلَّثَ فَرَدُّوا . فَقَالَ : " أَسْمِعْتُمْ أَوَّلَ السَّلَامِ ؟ " . فَقَالُوا : نَعَمْ ، وَلَكِنْ أَحْبَبْنَا أَنْ تَزِيدَنَا مِنَ السَّلَامِ ، فَمَا أَشْخَصَكَ بِأَبِينَا وَأُمِّنَا ؟ قَالَ : " أَشْفَقَتْ هَذِهِ الْجَارِيَةُ أَنْ تَضْرِبُوهَا " . قَالَ صَاحِبُهَا : هِيَ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ ; لِمَمْشَاكَ مَعَهَا ، فَبَشَّرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَيْرِ وَبِالْجَنَّةِ ، وَقَالَ : " لَقَدْ بَارَكَ اللَّهُ فِي الْعَشَرَةِ ، كَسَا اللَّهُ نَبِيَّهُ قَمِيصًا وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَمِيصًا ، وَأَعْتَقَ مِنْهَا رَقَبَةً ، وَأَحْمَدُ اللَّهَ هُوَ الَّذِي رَزَقَنَا هَذَا بِقُدْرَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابْلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ ایک کپڑے والے کے پاس آئے ، آپ نے اس سے ایک قمیص چار درہم کے عوض میں خریدی ، پھر آپ تشریف لے گئے ، وہ قمیص آپ نے پہنی ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ یہ قمیص مجھے پہننے کے لئے دے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کی قمیص پہنائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قمیص اتاری ، اور وہ اسے پہننے کے لئے دیدی ، پھر آپ واپس اس دوکاندار کے پاس گئے ، اور چار درہم کے عوض میں اس سے ایک اور قمیص خریدی ، اب آپ کے پاس دو درہم باقی بچ گئے تھے ، راستے میں ایک بچی رو رہی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے گھر والوں نے مجھے دو درہم دیے تھے ، تاکہ میں ان کے ذریعے آٹا خریدوں ، تو وہ گم ہو گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی بچ جانے والے دو درہم اسے دیدیے ، پھر وہ لڑکی روتی ہوئی واپس مڑی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا : اب تم کیوں رو رہی ہو ؟ جبکہ تم نے دو درہم لے لیے ہیں ، وہ بولی: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ گھر والے مجھے ماریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس لڑکی کے ساتھ چلتے ہوئے اس کے گھر والوں کے پاس گئے ، آپ نے سلام کیا تو لوگوں نے آپ کی آواز پہچان لی ، آپ نے پھر سلام کیا ، پھر آپ نے سلام کیا ، جب آپ نے تیسری مرتبہ سلام کیا ، تو ان لوگوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے پہلا سلام سن لیا تھا ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن ہماری یہ خواہش تھی کہ آپ ہمیں مزید سلام کریں ، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کا کس سلسلے میں آنا ہوا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کنیز کو یہ ڈر تھا کہ تم اس کی پٹائی کرو گے ، اس کنیز کے مالک نے کہا: یہ اللہ کی راہ میں آزاد ہے ، کیونکہ آپ اس کے ساتھ چل کے آئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو بھلائی اور جنت کی خوشخبری دی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دس درہموں میں برکت دے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایک قمیص پہنائی ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قمیص پہننے کے لئے دی ، اور اس رقم کے ذریعے ایک گردن کو بھی آزاد کروا دیا ، تو میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس نے اپنی قدرت کے ذریعے ہمیں یہ چیز نصیب کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14184
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13607)»