حدیث نمبر: 14185
وَعَنْ أُمِّ سُنْبُلَةَ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ ، فَأَبَيْنَ أَزْوَاجُهُ أَنْ يَقْبَلْنَهَا ، فَقُلْنَ : إِنَّا لَا نَأْخُذُ . فَأَمَرَهُنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذْنَهَا ، ثُمَّ أَقْطَعَهَا وَادِيًا فَاشْتَرَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ مِنْ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ قَيْظِيٍّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ ایک تحفہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اسے قبول کرنے سے سے انکار کر دیا ، انہوں نے کہا: ہم یہ نہیں لیں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ازواج کو حکم دیا ، تو ان ازواج نے اسے قبول کر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وادی اُسے جاگیر کے طور پر دی ۔ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے وہ زمین خرید لی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیظی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14185
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف