کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کے اچھے اخلاق ، آپ کی حیاء اور آپ کے عمدہ طرز سلوک کا بیان
حدیث نمبر: 14188
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، إِلَّا إِنَّهُ قَالَ : " لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ " . ¤ وَرِجَالُهُ كَذَلِكَ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ رِزْقِ اللَّهِ الْكَلُوذَانِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اس لئے مبعوث کیا گیا ہے ، تاکہ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کروں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تاکہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کروں ۔ “ اس روایت کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، تاہم محمد بن رزق اللہ کا کلوذانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14188
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14189
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ خُلُقًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَقَدْ رَكِبَ بِي مِنْ خَيْبَرَ عَلَى عَجُزِ نَاقَتِهِ لَيْلًا ، فَجَعَلْتُ أَنْعَسُ ، فَضَرَبَ رَأْسِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ فَمَسَّنِي بِيَدِهِ ، يَقُولُ : " يَا هَذِهِ مَهْلًا يَا بِنْتَ حُيَيٍّ مَهْلًا " . حَتَّى إِذَا جَاءَ الصَّهْبَاءَ قَالَ : " إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ يَا صَفِيَّةُ مِمَّا صَنَعْتُ بِقَوْمِكِ ، إِنَّهُمْ قَالُوا لِي كَذَا ، وَقَالُوا لِي كَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الرَّبِيعَ ابْنَ أَخِي صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش اخلاق کوئی نہیں دیکھا ، مجھے آپ کے بارے میں یاد ہے ، خیبر میں رات کے وقت آپ نے مجھے اونٹ کے پچھلے حصے میں سوار کروایا ، میں اونگھنے لگی ، اور میرا سر پالان کے پچھلے حصے سے ٹکرانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہاتھ کے ذریعے چھو کر یہ فرما دیتے تھے : اے حیی کی صاحبزادی ! سنبھل کے ، اے حیی کی صاحبزادی ! ذرا سنبھل کے ، یہاں تک کہ آپ صہباء تشریف لے آئے ، آپ نے فرمایا : اے صفیہ ! میں تمہارے سامنے اس حوالے سے وجہ بیان کرتا ہوں ، جو میں نے تمہاری قوم کے ساتھ سلوک کیا ، اُن لوگوں نے میرے بارے میں یہ کہا: تھا ، اور وہ کہا: تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ بیں ، البتہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ربیع سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14189
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7119 و 7120)»
حدیث نمبر: 14190
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَى شَرِّ الْقَوْمِ يَتَأَلَّفُهُ بِذَلِكَ ، وَكَانَ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَيَّ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي خَيْرُ الْقَوْمِ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا خَيْرٌ أَمْ أَبُو بَكْرٍ ؟ قَالَ : " أَبُو بَكْرٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا خَيْرٌ أَمْ عُمَرُ ؟ قَالَ : " عُمَرُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا خَيْرٌ أَمْ عُثْمَانُ ؟ قَالَ : " عُثْمَانُ " . فَلَمَّا سَأَلَتُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَّ عَنِّي ، فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حاضرین میں سب سے برے فرد کے ساتھ بھی مکمل طور پر متوجہ ہو کر بات چیت کیا کرتے تھے ، آپ اس طرح اُس کی تالیف قلب کیا کرتے تھے ، میرے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آپ مکمل طور پر متوجہ ہو کر بات چیت کرتے تھے ، یہاں تک کہ میں یہ گمان کرتا تھا ، کہ میں سب حاضرین سے بہتر ہوں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں زیادہ بہتر ہوں یا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں زیادہ بہتر ہوں ، یا عمر رضی اللہ عنہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں زیادہ بہتر ہوں یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عثمان ، جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا اور آپ نے میرا ذکر نہیں کیا ، تو میری یہ خواہش ہوئی کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہ ہی کیا ہوتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14190
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14191
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملات کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو آپ نے اس کو اختیار کیا ، جو ان دونوں میں زیادہ آسان تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14191
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2471)»
حدیث نمبر: 14192
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُرْسِلُهُ ، وَلَمْ يَكُنْ يَرَى رُكْبَتَيْهِ أَوْ رُكْبَتَهُ خَارِجًا عَنْ رُكْبَةِ جَلِيسِهِ ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَافِحُهُ إِلَّا أَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ ، ثُمَّ لَمْ يَصْرِفْهُ عَنْهُ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ كَلَامِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی شخص آپ کا ہاتھ پکڑتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ سے خود ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے ، یہاں تک کہ دوسرا شخص خود آپ کا ہاتھ چھوڑ دیتا تھا ، اور نہ ہی کبھی آپ کو یوں دیکھا گیا کہ آپ نے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کے سامنے گھٹنے پھیلائے ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی شخص مصافحہ کرتا تھا ، آپ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے ، اور اس وقت تک اس سے منہ نہیں پھیرتے تھے ، جب تک وہ بات کر کے فارغ نہیں ہو جاتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14192
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2473)»
حدیث نمبر: 14193
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ يَسْتَعِينُهُ فِي شَيْءٍ قَالَ عِكْرِمَةُ : أُرَاهُ فِي دَمٍ ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ ؟ " . قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : لَا ، وَلَا أَجْمَلْتَ . فَغَضِبَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ ، وَهَمُّوا أَنْ يَقُومُوا إِلَيْهِ . فَأَشَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ : أَنْ كُفُّوا . فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَلَغَ إِلَى مَنْزِلِهِ دَعَا الْأَعْرَابِيَّ إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَالَ لَهُ : " إِنَّكَ جِئْتَنَا ، فَسَأَلْتَنَا فَأَعْطَيْنَاكَ ، فَقُلْتَ مَا قُلْتَ " . فَزَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ ؟ " . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : نَعَمْ فَجَزَاكَ اللَّهُ مِنْ أَهْلٍ وَعَشِيرٍ خَيْرًا . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ كُنْتَ جِئْتَنَا فَسَأَلْتَنَا فَأَعْطَيْنَاكَ ، فَقُلْتَ مَا قُلْتَ وَفِي نَفْسِ أَصْحَابِي عَلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ ، فَإِذَا جِئْتَ فَقُلْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ مَا قُلْتَ بَيْنَ يَدَيَّ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْ صُدُورِهِمْ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ الْأَعْرَابِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ كَانَ جَاءَنَا ، فَسَأَلَنَا فَأَعْطَيْنَاهُ ، فَقَالَ مَا قَالَ ، وَإِنَّا قَدْ دَعَوْنَاهُ فَأَعْطَيْنَاهُ فَزَعَمَ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ أَكَذَاكَ ؟ " . قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : نَعَمْ ، فَجَزَاكَ اللَّهُ مِنْ أَهْلٍ وَعَشِيرٍ خَيْرًا . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ هَذَا الْأَعْرَابِيِّ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ فَشَرَدَتْ عَلَيْهِ ، فَاتَّبَعَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَزِيدُوهَا إِلَّا نُفُورًا ، فَقَالَ صَاحِبُ النَّاقَةِ : خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ نَاقَتِي فَأَنَا أَرْفَقُ بِهَا وَأَعْلَمُ بِهَا ، فَتَوَجَّهَ إِلَيْهَا صَاحِبُ النَّاقَةِ فَأَخَذَ لَهَا مِنْ قُشَامِ الْأَرْضِ ، وَدَعَاهَا حَتَّى جَاءَتْ وَاسْتَجَابَتْ ، وَشَدَّ عَلَيْهَا رَحْلَهَا وَاسْتَوَى عَلَيْهَا ، وَلَوْ أَنِّي أَطَعْتُكُمْ حَيْثُ قَالَ مَا قَالَ دَخَلَ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، وہ کسی کام کے سلسلے میں آپ سے مدد لینا چاہ رہا تھا ، عکرمہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے وہ قتل کا کوئی معاملہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی چیز دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کر دیا ہے ؟ دیہاتی نے کہا: جی نہیں ! آپ نے ٹھیک نہیں کیا ، تو مسلمانوں میں سے بعض لوگ غصے میں آ گئے اور انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ اُٹھ کر اس کی طرف جائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ تم لوگ رک جاؤ ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر گئے ، تو آپ نے دیہاتی کو گھر بلوایا اور اس سے فرمایا : تم ہمارے پاس آئے تھے ، تم نے ہم سے مانگا ، ہم نے تمہیں عطا کر دیا ، اور اس کے بارے میں تم نے ایک بات کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے مزید کچھ دیا اور دریافت کیا : کیا میں نے تمہارے ساتھ ٹھیک سلوک کیا ہے ؟ اس دیہاتی نے کہا: جی ہاں ! اللہ تعالیٰ آپ کو اہل خانہ اور خاندان کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم ہمارے پاس آئے تھے ، تم نے ہم سے مانگا ، ہم نے تمہیں دیا ، پھر اس کے بارے میں تم نے ایک بات کی ، میرے ساتھیوں کے من میں تمہارے لیے اُس حوالے سے کچھ الجھن ہے ، جب تم جاؤ گے ، تو ان کے درمیان یہ کہہ دینا کہ جو تم نے میرے سامنے کہا: ہے ، تاکہ اُن کے دل کی الجھن ختم ہو جائے ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ۔
راوی کہتے ہیں : پھر وہ دیہاتی آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ساتھی ہمارے پاس آیا ، اس نے ہم سے مانگا ، ہم نے اسے دیا ، اس نے ایک بات کی ، پھر ہم نے اسے بلایا اور اسے دیا ، پھر اس کا یہ کہنا ہے کہ یہ راضی ہو گیا ہے ، کیا ایسا ہی ہے ؟ اس دیہاتی نے کہا: جی ہاں ! اللہ تعالیٰ آپ کو اہل خانہ اور خاندان کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” میری اور اس دیہاتی کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جس کے پاس اونٹنی ہوتی ہے ، وہ اونٹنی اس شخص کی نافرمانی کرتی ہے ، لوگ اس کے پیچھے جاتے ہیں ، تو اس اونٹنی کے متنفر ہونے میں اضافہ ہی ہوتا ہے ، اونٹنی کا مالک کہتا ہے : تم لوگ میرے اور میری اونٹنی کے درمیان جگہ کو چھوڑ دو ، کیونکہ میں اس سے زیادہ واقف ہوں ، اور اس کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں ، پھر اونٹنی کا مالک اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور اس کے لئے زمین سے کھانے کی چیز اٹھاتا ہے ، اور اسے بلاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ آ جاتی ہے ، اور اس کی بات مان لیتی ہے ، پھر وہ اس پر پالان رکھتا ہے ، اور اس پر سوار ہو جاتا ہے ، تو اگر میں تمہاری کہی ہوئی ہر بات مان لوں ، تو ( ہو سکتا ہے ، وہ اپنی بات پر اصرار کرنے والا شخص ) جہنم میں چلا جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14193
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2476)»
حدیث نمبر: 14194
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُ يَدَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو رخصت کرتے تھے ، تو آپ اس کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے اور اس کا ہاتھ اُس وقت تک نہیں چھوڑتے تھے ، جب تک دوسرا شخص ، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ نہیں چھوڑ دیتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالرحمن بن امیہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14194
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2472)»
حدیث نمبر: 14195
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ : مَا أَقْبَحَ مَا صَنَعْتَ . وَلَا قَالَ لِشَيْءٍ يُعْجِبُهُ : مَا أَحْسَنَ مَا صَنَعْتَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو سال خدمت کی ہے ، جو بات آپ کو ناگوار گزری ہو ، ایسی کسی چیز کے بارے میں ، آپ نے کبھی مجھے یہ نہیں کہا: کہ تم نے جو کیا ہے وہ کتنا برا ہے ؟ اور جو چیز آپ کو پسند آئی ہو ، اُس کے بارے میں آپ نے کبھی یہ نہیں کہا: کہ یہ کتنا اچھا کام ہے ، جو تم نے کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14195
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3628 و 3629)»
حدیث نمبر: 14196
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَيْضًا قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ مَا دَرَيْتُ شَيْئًا قَطُّ وَافَقَهُ ، وَلَا شَيْئًا قَطُّ خَالَفَهُ ، رَضِيَ مِنَ اللَّهِ بِمَا كَانَ ، وَإِنْ كَانَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ لَيَقُولُ : لَوْ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا يَقُولُ : " دَعُوهُ ; فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ إِلَّا مَا أَرَادَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا إِنِ انْتُهِكَتْ لِلَّهِ حُرْمَةٌ ، فَانِ انْتُهِكَتْ لِلَّهِ حُرْمَةٌ كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ غَضَبًا لِلَّهِ ، وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ سُخْطٌ لِلَّهِ ، فَانْ كَانَ فِيهِ لِلَّهِ سُخْطٌ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے ، مجھے نہیں یاد کہ کبھی ایسا ہوا ہو ، کہ آپ نے کبھی کسی چیز کی موافقت کی ہو ، یا کسی چیز کی مخالفت کی ہو ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی سامنے آتا تھا ، آپ اس سے راضی ہوتے تھے ، اگر آپ کی ازواج میں سے کوئی خاتون یہ کہہ دیتی تھیں : اگر تم اس طرح اور اس طرح کر لیتے تو یہ مناسب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : اسے رہنے دو ! کیونکہ ہو گا صرف وہی ، جو اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہو ، میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات کے لئے کسی حوالے سے انتقام لیا ہو ، البتہ جب اللہ تعالیٰ کی کسی حرمت کی پامالی ہوتی تھی ، تو معاملہ مختلف تھا ، جب اللہ تعالیٰ کی کسی حرمت کو پامال کیا جاتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، آپ سب سے زیادہ غضبناک ہوتے تھے اور جب بھی آپ کے سامنے دو معاملات پیش کیے گئے ، تو آپ نے اس کو اختیار کیا ، جو زیادہ آسان ہوتا تھا ، جبکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا پہلو نہ پایا جاتا ہو ، اگر اس میں ناراضگی کا پہلو پایا جاتا ہوتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سب سے زیادہ دور رہتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14196
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1100)»
حدیث نمبر: 14197
وَعَنْ مُهَاجِرٍ - مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ - قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِنِينَ فَلَمْ يَقُلْ لِشَيْءٍ صَنَعْتُ : لِمَ صَنَعْتَهُ ؟ وَلَا لِشَيْءِ تَرَكْتُ : لِمَ تَرَكْتَهُ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام ، مہاجر بیان کرتے ہیں : میں نے چند سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے ، میں نے اگر کوئی کام کیا ، تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں فرمایا : کہ تم نے یہ کیوں کیا ؟ اور جس کام کو میں نے چھوڑ دیا ہو ، اُس کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ تم نے اسے کیوں چھوڑ دیا ؟ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14197
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (330/20)»
حدیث نمبر: 14198
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ : قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدِي فَمَا تَرَكَ يَدِي حَتَّى تَرَكْتُ يَدَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْجَلْدُ بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر سے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور آپ نے میرا ہاتھ اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ میں نے آپ کے ہاتھ کو نہیں چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جلد بن ایوب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14198
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (234/19)»
حدیث نمبر: 14199
وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : دَخَلَ نَفَرٌ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالُوا : حَدِّثْنَا بِبَعْضِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : وَمَا أُحَدِّثُكُمْ ؟ كُنْتُ جَارَهُ ، فَكَانَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ أَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَكَتَبْتُ الْوَحْيَ . وَكَانَ إِذَا ذَكَرْنَا الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا ، وَإِذَا ذَكَرْنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا ، وَإِنْ ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهُ مَعَنَا . فَكُلُّ هَذَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
خارجہ بن زید بن ثابت بیان کرتے ہیں : کچھ افراد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئے ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں کیا حدیث بیان کروں ؟ میں آپ کا پڑوسی تھا ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ مجھے پیغام بھیج کر بلواتے تھے اور میں وحی نوٹ کر لیتا تھا ، جب ہم آخرت کو یاد کرتے تھے ، تو آپ بھی ہمارے ساتھ اسے یاد کرتے تھے ، جب ہم دنیا کا ذکر کرتے تھے تو آپ بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکر کرتے تھے ، جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تھے تو آپ بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکر کرتے تھے ، تو ساری چیزیں یہی ہیں ، جن کے بارے میں ، میں تمہیں بیان کر سکتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14199
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4882)»
حدیث نمبر: 14200
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَضْحَكِ النَّاسِ ، وَأَطْيَبِهِمْ نَفْسًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ مسکرانے والے اور سب سے زیادہ خوش مزاج تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14200
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7838)»
حدیث نمبر: 14201
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي لَأَمْزَحُ وَلَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا " . ¤ قَالُوا : إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں مزاح بھی کرتا ہوں ، لیکن میں صرف حق بات کہتا ہوں ۔ “ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ ہمارے ساتھ مزاح کر لیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں صرف حق بات کہتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14201
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14202
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَتَاهُ الْوَحْيُ أَوْ وَعَظَ قُلْتَ : نَذِيرُ قَوْمٍ أَتَاهُمُ الْعَذَابُ ، فَإِذَا ذَهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ رَأَيْتَ أَطْلَقَ النَّاسِ وَجْهًا ، وَأَكْثَرَهُمْ ضَحِكًا ، وَأَحْسَنَهُمْ بِشْرًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی ، یا جب آپ وعظ کر رہے ہوتے تھے ، تو میں یہ سوچتا تھا کہ آپ لوگوں کو ڈرا رہے ہیں ، جن کے پاس عذاب آنے والا ہے ، اور جب آپ کی یہ صورت حال ختم ہو جاتی تھی ، تو میں یہ سوچا کرتا تھا کہ آپ سب سے زیادہ خندہ پیشانی والے ، سب سے زیادہ مسکرانے والے ، سب سے زیادہ خوش اخلاق تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14202
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2477)»
حدیث نمبر: 14203
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ ، وَكُثَيِّرًا بَنِي الْعَبَّاسِ ، ثُمَّ يَقُولُ : " مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ : فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ ، فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ ، فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْزَمُهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں عبداللہ ، عبیداللہ اور کثیر کی صف بناتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے : جو مجھ تک پہلے پہنچ جائے گا ، تو اسے یہ یہ ملے گا ، تو وہ ( بچے ) دوڑ کر آتے تھے ، اور آپ کی پشت اور سینے پر گر جاتے تھے اور آپ انہیں بوسہ دیتے تھے اور انہیں ساتھ لپٹا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14203
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1836)»
حدیث نمبر: 14204
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَلْتَفِتُ إِذَا مَشَى ، وَكَانَ رُبَّمَا تَعَلَّقَ رِدَاؤُهُ بِالشَّجَرَةِ أَوِ الشَّيْءِ فَلَا يَلْتَفِتُ حَتَّى يَرْفَعُوهُ ; لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَمْزَحُونَ وَيَضْحَكُونَ ، وَكَانُوا قَدْ أَمِنُوا الْتِفَاتَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے ، بعض اوقات آپ کی چادر درخت سے ، یا کسی چیز سے اٹک جاتی تھی ، تو آپ توجہ نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ لوگ اسے اٹھا لیتے تھے ، لوگ مزاح کرتے تھے اور ہنسا کرتے تھے ، انہیں یہ پتہ ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف توجہ نہیں کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14204
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14205
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پردے میں موجود ، پردہ نشین خواتین سے زیادہ حیاء والے تھے ، جب آپ کو کوئی چیز ناگوار گزرتی تھی ، تو ہمیں آپ کے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (206/18)»
حدیث نمبر: 14206
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْمُقَدِّمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین ، پردہ دار خواتین سے زیادہ حیا والے تھے ، جب آپ کو کوئی چیز ناگوار گزرتی تھی ، تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے پتہ چل جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حیاء ، ساری کی ساری بھلائی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14206
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2458)»
حدیث نمبر: 14207
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْتَسِلُ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ ، وَمَا رُئِيَ عَوْرَتَهُ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجروں کے پار غسل کرتے تھے ، آپ کی شرمگاہ کو کبھی نہیں دیکھا گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14207
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2459)»