کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کی قدر و منزلت کا عظیم ہونا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ وَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي بَابِ الْإِجْمَاعِ بِتَمَامِهِ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کی طرف نظر کی ، تو اس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو سب دلوں سے بہتر پایا ، تو اُس نے انہیں اپنی ذات کے لئے منتخب کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا ۔ “
یہ روایت اس سے پہلے اجماع سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2367) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8582) اخرجه الطبراني فى الصغير المعجم 3600»
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى الْعَرْشِ فَقَالَ : أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ إِلَّا غَفَرْتَ لِي ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : وَمَا مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : تَبَارَكَ اسْمُكَ ، لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى عَرْشِكَ فَرَأَيْتُ فِيهِ مَكْتُوبًا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَكَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَهُ مَعَ اسْمِكَ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : يَا آدَمُ ، إِنَّهُ آخِرُ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ ، وَإِنَّ أُمَّتَهُ آخِرُ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ ، وَلَوْلَا هُوَ مَا خَلَقْتُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سیدنا آدم علیہ السلام سے وہ خطا سرزد ہوئی ، جو ان سے سرزد ہوئی تھی ، تو انہوں نے اپنا سر اٹھا کر عرش کی طرف دیکھا اور کہا: اے اللہ ! میں تجھ سے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں کہ تو میری مغفرت کر دے ! تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : محمد کے بارے میں تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ تو انہوں نے عرض کی : تیرا اسم برکت والا ہے ، جب تو نے مجھے پیدا کیا ، تو میں نے سر اٹھا کر تیرے عرش کی طرف دیکھا ، تو میں نے اس میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا ، تو مجھے یہ پتہ چل گیا کہ تیرے نزدیک اُن سے زیادہ قدر و منزلت اور کسی کی نہیں ہو گی ، جن کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ رکھا ہے ، تو اللہ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف وحی کی : اے آدم ! وہ آخری نبی ہوں گے ، جو تمہاری ذریت سے تعلق رکھتے ہوں گے اور ان کی اُمت تمہاری ذریت میں سے آخری امت ہو گی ، اگر وہ نہ ہوتے ، تو میں نے تمہیں پیدا نہیں کرنا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (992)»
وَعَنْ عَلِيٍّ الْهِلَالِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَكَانِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، فَإِذَا فَاطِمَةُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، قَالَ : فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرْفَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ : " حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ ، مَا الَّذِي يُبْكِيكِ ؟ " ، قَالَتْ : أَخْشَى الضَّيْعَةَ مِنْ بَعْدِكَ ، قَالَ : " يَا حَبِيبَتِي ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ، ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ وَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ ، يَا فَاطِمَةُ ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ يُعْطِ أَحَدًا قَبْلَنَا وَلَا يُعْطِي أَحَدًا بَعْدَنَا : أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، وَأَنَا أَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللَّهِ ، وَأَنَا أَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللَّهِ ، وَأَنَا أَبُوكِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ وَقَدِ اتُّهِمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس بیماری کے دوران آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، جس میں آپ کا وصال ہوا تھا ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے سرہانے موجود تھیں ، وہ رونے لگیں ، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اُٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے میری محبوب فاطمہ ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے آپ کے بعد ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے میری محبوب ! کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف توجہ کی اور پھر اُس میں سے تمہارے باپ کو منتخب کر کے اسے اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا ، پھر اس نے زمین کی طرف توجہ کی اور اس میں سے تمہارے شوہر کو منتخب کر لیا ، اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی کی : میں تمہاری شادی اُس کے ساتھ کروا دوں گا ، اے فاطمہ ! ہم اس گھرانے کے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سات خصوصیات عطا کی ہیں ، جو ہم سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں ، اور نہ ہمارے بعد کسی کو عطا کی جائیں گی ، میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، اور میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمام انبیاء کرام سے زیادہ معزز ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہوں اور میں تمہارا باپ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو مکمل روایت کے طور پر اہل بیت کے فضیلت سے متعلق باب میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن حبیب ہے ، جس پر اس حدیث کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13918
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَاخْتَارَ مِنْهُمْ أَبَاكِ ، فَبَعَثَهُ نَبِيًّا ، ثُمَّ اطَّلَعَ الثَّانِيَةَ فَاخْتَارَ بَعْلَكِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ فَأَنْكَحْتُهُ وَاتَّخَذْتُهُ وَصِيًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” کیا تم یہ نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف متوجہ ہو کر ان میں سے تمہارے باپ کو منتخب کر لیا ، اور اسے نبی بنا کے مبعوث کیا ، پھر اس نے دوسری مرتبہ متوجہ ہو کر تمہارے شوہر کو منتخب کر لیا ، اور اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی کی ، تو میں نے تمہاری شادی اُس سے کروا دی اور میں نے اسے وصی بنایا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13919
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن, قال الهيثمي: رواه بأسانيد وأحدها حسن ۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (8 / 253)
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَبِيُّنَا خَيْرُ الْأَنْبِيَاءِ " . رَوَاهُ بِأَسَانِيدَ وَأَحَدُهَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
اُن صحابی کے حوالے سے معجم صغیر میں یہ روایت منقول ہے : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہمارا نبی ، تمام انبیاء سے بہتر ہے ۔ “
یہ روایت انہوں نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13920
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (94)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَأَلْتُ رَبِّي مَسْأَلَةً فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ ، قُلْتُ : يَا رَبِّ ، قَدْ كَانَتْ قَبْلِي رُسُلٌ ، مِنْهُمْ مَنْ سَخَّرْتَ لَهُ الرِّيَاحَ وَمِنْهُمْ مَنْ كَانَ يُحْيِي الْمَوْتَى ، فَقَالَ : أَلَمْ أَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَيْتُكَ ؟ أَلَمْ أَجِدْكَ ضَالًّا فَهَدَيْتُكَ ؟ أَلَمْ أَجِدْكَ عَائِلًا فَأَغْنَيْتُكَ ؟ أَلَمْ أَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْتُ عَنْكَ وِزْرَكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى يَا رَبِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی ، میری یہ خواہش تھی کہ میں نے وہ دعا نہ مانگی ہوتی ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! مجھ سے پہلے کے رسولوں میں سے کسی کے لئے ہواؤں کو مسخر کیا گیا ، ان میں سے کوئی مردوں کو زندہ کر دیتا تھا ، تو پروردگار نے فرمایا : کیا ایسا نہیں ہے کہ میں نے تمہیں یتیم پایا ، تو تمہیں پناہ دی ، اور میں نے تمہیں ” ضال “ پایا ، تو تمہاری رہنمائی کی ، کیا ایسا نہیں ہے کہ میں نے تمہیں تنگ دست پایا ، تو تمہیں خوشحال کر دیا ، کیا میں نے تمہیں شرح صدر نصیب نہیں کیا ؟ اور تمہارا بوجھ تم سے اُٹھا نہیں لیا ؟ تو میں نے عرض کی : جی ہاں ! اے میرے پروردگار ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12289)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ : إِنَّ رَبِّي وَرَبَّكَ يَقُولُ : كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ ؟ قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ مَعِي " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ . . . . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : میرے اور آپ کے پروردگار نے یہ فرمایا ہے : کہ میں نے آپ کے ذکر کو کیسے بلند کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : اللہ بہتر جانتا ہے ، تو ( سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ) ” جب میرا ذکر کیا جائے گا ، تو میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1380)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ ، بِيَدَيْ لِوَاءُ الْحَمْدِ ، تَحْتِي آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ” میں “ تمام اولاد آدم کا سردار ہوؤں گا اور یہ فخر کے طور پر نہیں کہتا ، اور وہ سب سے پہلا فرد ہوؤں گا جس کے لئے زمین کو شق کیا جائے گا ، اور سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوؤں گا ، جس کی شفاعت قبول ہو گی ، ہاتھ میں ” لواء حمد “ ہو گا ، اور سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب اُس کے نیچے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان کلابی ہے ، ابن حبان نے اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13923
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7493)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخْرَ ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ خَبَّابٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں رسولوں کا قائد ہوں ، اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، اور یہ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں ، اور پہلا ایسا فرد ہوں ، جس کی شفاعت قبول ہو گی ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن عطاء بن خباب ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : إِنَّ أَكْرَمَ خَلِيقَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : رَحِمَكَ اللَّهُ ، الْمَلَائِكَةُ ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَكْرَمَ خَلِيقَةِ اللَّهِ عَلَى اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے ، لوگوں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے ، فرشتوں کا کیا معاملہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری مخلوق میں سب سے زیادہ معزز سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن طلحہ پربوعی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْهُ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ أَقْرَبَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ عَلَى الْكُرْسِيِّ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن سب سے زیادہ مقرب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے ، جو کرسی پر اس کے بائیں جانب بیٹھے ہوں گے ۔ اس روایت کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنِ اللَّهَ فَضَّلَ مُحَمَّدًا عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ وَعَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ وَبِمَا فَضَّلَهُ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ : ( وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ ) ، وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ) فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، فَمَا فَضْلُهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : ( وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ ) وَقَالَ لِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ) فَأَرْسَلَهُ اللَّهُ إِلَى الْإِنْسِ وَالْجِنِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . [ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ] . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام آسمان والوں اور تمام زمین والوں پر فضیلت عطا کی ہے ۔ “ ایک شخص بولا: اے ابوعباس ! اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں اور زمین والوں پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کس حوالے سے فضیلت عطا کی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اہل آسمان کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ” ان میں سے جو یہ کہے کہ میں اس کے علاوہ معبود ہوں ، تو اس کی جزا میں ہم اسے جہنم دیں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ” بے شک ہم نے تمہیں فتح مبین عطا کی ، تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے ۔ “ انہوں نے یہ آیت مکمل تلاوت کی ، اُن سے کہا: گیا : اے ابوعباس ! اُنہیں دیگر انبیاء پر کس طرح فضیلت حاصل ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” ہم نے جس بھی رسول کو مبعوث کیا ، اُسے اس کی قوم کی زبان کے ہمراہ مبعوث کیا“ ۔ اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ” اور ہم نے تمہیں تمام انسانوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں اور جنات کی طرف بھیجا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حکم بن ابان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے یہ روایت امام ابویعلیٰ نے انتہائی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11610)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ قَرَأَ ( عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا ) " ، قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " . فَقَطْ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے ، اور بے شک تمہارے آقا ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے خلیل ہیں ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن اولاد آدم کے سردار ہوں گے ۔ “ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس میں سے صرف یہ حصہ مذکور ہے : ” اور تمہارے آقا ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے خلیل ہیں ۔ “ اور یہ حدیث کے درمیان میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10256)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خِيَارُ وَلَدِ آدَمَ خَمْسَةٌ : نُوحٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَعِيسَى وَمُوسَى وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَيْرُهُمْ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اولاد آدم میں ، منتخب لوگ پانچ ہیں ، سیدنا نوح علیہ السلام ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان سب میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہتر ہیں ۔ “ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات پر درود و سلام نازل کرے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13929
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2368)»