حدیث نمبر: 13921
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَأَلْتُ رَبِّي مَسْأَلَةً فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ ، قُلْتُ : يَا رَبِّ ، قَدْ كَانَتْ قَبْلِي رُسُلٌ ، مِنْهُمْ مَنْ سَخَّرْتَ لَهُ الرِّيَاحَ وَمِنْهُمْ مَنْ كَانَ يُحْيِي الْمَوْتَى ، فَقَالَ : أَلَمْ أَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَيْتُكَ ؟ أَلَمْ أَجِدْكَ ضَالًّا فَهَدَيْتُكَ ؟ أَلَمْ أَجِدْكَ عَائِلًا فَأَغْنَيْتُكَ ؟ أَلَمْ أَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْتُ عَنْكَ وِزْرَكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى يَا رَبِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی ، میری یہ خواہش تھی کہ میں نے وہ دعا نہ مانگی ہوتی ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! مجھ سے پہلے کے رسولوں میں سے کسی کے لئے ہواؤں کو مسخر کیا گیا ، ان میں سے کوئی مردوں کو زندہ کر دیتا تھا ، تو پروردگار نے فرمایا : کیا ایسا نہیں ہے کہ میں نے تمہیں یتیم پایا ، تو تمہیں پناہ دی ، اور میں نے تمہیں ” ضال “ پایا ، تو تمہاری رہنمائی کی ، کیا ایسا نہیں ہے کہ میں نے تمہیں تنگ دست پایا ، تو تمہیں خوشحال کر دیا ، کیا میں نے تمہیں شرح صدر نصیب نہیں کیا ؟ اور تمہارا بوجھ تم سے اُٹھا نہیں لیا ؟ تو میں نے عرض کی : جی ہاں ! اے میرے پروردگار ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12289)»