مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ عِظَمِ قَدْرِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کی قدر و منزلت کا عظیم ہونا
وَعَنْ عَلِيٍّ الْهِلَالِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَكَانِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، فَإِذَا فَاطِمَةُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، قَالَ : فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرْفَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ : " حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ ، مَا الَّذِي يُبْكِيكِ ؟ " ، قَالَتْ : أَخْشَى الضَّيْعَةَ مِنْ بَعْدِكَ ، قَالَ : " يَا حَبِيبَتِي ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ، ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ وَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ ، يَا فَاطِمَةُ ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ يُعْطِ أَحَدًا قَبْلَنَا وَلَا يُعْطِي أَحَدًا بَعْدَنَا : أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، وَأَنَا أَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللَّهِ ، وَأَنَا أَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللَّهِ ، وَأَنَا أَبُوكِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ وَقَدِ اتُّهِمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤سیدنا علی ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس بیماری کے دوران آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، جس میں آپ کا وصال ہوا تھا ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے سرہانے موجود تھیں ، وہ رونے لگیں ، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اُٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے میری محبوب فاطمہ ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے آپ کے بعد ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے میری محبوب ! کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف توجہ کی اور پھر اُس میں سے تمہارے باپ کو منتخب کر کے اسے اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا ، پھر اس نے زمین کی طرف توجہ کی اور اس میں سے تمہارے شوہر کو منتخب کر لیا ، اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی کی : میں تمہاری شادی اُس کے ساتھ کروا دوں گا ، اے فاطمہ ! ہم اس گھرانے کے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سات خصوصیات عطا کی ہیں ، جو ہم سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں ، اور نہ ہمارے بعد کسی کو عطا کی جائیں گی ، میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، اور میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمام انبیاء کرام سے زیادہ معزز ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہوں اور میں تمہارا باپ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو مکمل روایت کے طور پر اہل بیت کے فضیلت سے متعلق باب میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن حبیب ہے ، جس پر اس حدیث کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے ۔