حدیث نمبر: 13917
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى الْعَرْشِ فَقَالَ : أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ إِلَّا غَفَرْتَ لِي ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : وَمَا مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : تَبَارَكَ اسْمُكَ ، لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى عَرْشِكَ فَرَأَيْتُ فِيهِ مَكْتُوبًا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَكَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَهُ مَعَ اسْمِكَ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : يَا آدَمُ ، إِنَّهُ آخِرُ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ ، وَإِنَّ أُمَّتَهُ آخِرُ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ ، وَلَوْلَا هُوَ مَا خَلَقْتُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سیدنا آدم علیہ السلام سے وہ خطا سرزد ہوئی ، جو ان سے سرزد ہوئی تھی ، تو انہوں نے اپنا سر اٹھا کر عرش کی طرف دیکھا اور کہا: اے اللہ ! میں تجھ سے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں کہ تو میری مغفرت کر دے ! تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : محمد کے بارے میں تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ تو انہوں نے عرض کی : تیرا اسم برکت والا ہے ، جب تو نے مجھے پیدا کیا ، تو میں نے سر اٹھا کر تیرے عرش کی طرف دیکھا ، تو میں نے اس میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا ، تو مجھے یہ پتہ چل گیا کہ تیرے نزدیک اُن سے زیادہ قدر و منزلت اور کسی کی نہیں ہو گی ، جن کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ رکھا ہے ، تو اللہ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف وحی کی : اے آدم ! وہ آخری نبی ہوں گے ، جو تمہاری ذریت سے تعلق رکھتے ہوں گے اور ان کی اُمت تمہاری ذریت میں سے آخری امت ہو گی ، اگر وہ نہ ہوتے ، تو میں نے تمہیں پیدا نہیں کرنا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (992)»