کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کی اصل ( یعنی آپ کے آباؤ اجداد ) کے معزز ہونے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ( وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ ) قَالَ : مِنْ صُلْبِ نَبِيٍّ إِلَى نَبِيٍّ حَتَّى صِرْتَ نَبِيًّا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور سجدہ کرنے والوں میں تمہارا منتقل ہونا “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کی پشت سے ، دوسرے نبی کی طرف منتقل ہوتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نبی بن گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13819
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2362)»
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَرَجْتُ مِنْ نِكَاحٍ وَلَمْ أَخْرُجْ مِنْ سِفَاحٍ ، مِنْ لَدُنْ آدَمَ إِلَى أَنْ وَلَدَنِي أَبِي وَأُمِّي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، صَحَّحَ لَهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری پیدائش نکاح کے نتیجے میں ہوئی ہے ، سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک میں کسی زنا کے نتیجے میں ( اگلی پشت میں منتقل ) نہیں ہوا ، یہاں تک کہ میرے ماں باپ کے ہاں میری پیدائش ہو گئی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن محمد بن علی ہے ، امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی نقل کردہ حدیث کو مستدرک میں صحیح قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13820
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا وَلَّدَنِي مِنْ سِفَاحِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ ، وَمَا وَلَّدَنِي إِلَّا نِكَاحٌ كَنِكَاحِ الْإِسْلَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ الْمَدِينِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ ، وَلَمْ أَعْرِفِ الْمَدِينِيَّ وَلَا شَيْخَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ز مانہ جاہلیت کے زنا سے متعلق کوئی چیز میری پیدائش میں حصہ نہیں بنی ، میں صرف نکاح کے نتیجے میں پیدا ہوا ہوں ، جو اسلام کے نکاح کی مانند ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مدینی کے حوالے سے حویرث سے نقل کی ہے ، اور میں نہ مدینی سے واقف ہوں اور نہ اس کے استاد سے واقف ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13821
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10812)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَسَّمَ الْخَلْقَ قِسْمَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمَا قِسْمًا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ( أَصْحَابُ الْيَمِينِ ) ( وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ ) فَأَنَا مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَأَنَا مِنْ خَيْرِ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ، ثُمَّ جَعَلَ الْقِسْمَيْنِ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ( فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ) فَأَنَا مِنْ خَيْرِ السَّابِقِينَ ، ثُمَّ جَعَلَ الْبُيُوتَ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهَا قَبِيلَةً فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ( شُعُوبًا وَقَبَائِلَ ) فَأَنَا أَتْقَى وَلَدِ آدَمَ وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ ، ثُمَّ جَعَلَ الْقَبَائِلَ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا بَيْتًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ( إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَعَبَايَةُ بْنُ رِبْعِيٍّ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے ان دونوں میں سے زیادہ بہتر حصے میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” دائیں طرف والے لوگ “ ” اور بائیں طرف والے لوگ “ تو میں دائیں طرف والے لوگوں میں سے ہوں اور میں دائیں طرف والے لوگوں میں سے سب سے بہتر ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں حصوں کو مختلف گھروں میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان میں سے سب سے بہتر گھر میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” دائیں طرف والے لوگ ، دائیں طرف والے لوگ کیا ہیں اور بائیں طرف والے لوگ ، بائیں طرف والے لوگ کیا ہیں ، اور سبقت والے لوگ جو سبقت لے جانے والے ہیں ۔ “ تو میں سبقت لے جانے والے بہتر افراد میں سے ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مختلف گھروں کو مختلف قبائل کی شکل میں تقسیم کیا تو اس نے مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” گروہ اور قبیلے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو میں سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، پھر اللہ تعالیٰ نے قبائل کو مختلف گھرانوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان میں سے سب سے بہتر گھرانے میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی سے دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور ایک راوی عبایہ بن ربعی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13822
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2674)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : إِنَّا لَقُعُودٌ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّتِ امْرَأَةٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : هَذِهِ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّ مَثَلَ مُحَمَّدٍ فِي بَنِي هَاشِمٍ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ فِي وَسَطِ النَّتَنِ . فَانْطَلَقَتِ الْمَرْأَةُ فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، ثُمَّ قَامَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَالٍ تَبْلُغُنِي عَنْ أَقْوَامٍ ؟ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ سَبْعًا فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَسَكَنَهَا ، وَأَسْكَنَ سَمَاوَاتِهِ مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ ، [ وَخَلَقَ الْأَرْضَ سَبْعًا فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَأَسْكَنَهَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ ] وَخَلَقَ الْخَلْقَ فَاخْتَارَ مِنَ الْخَلْقِ بَنِي آدَمَ ، وَاخْتَارَ مِنْ بَنِي آدَمَ الْعَرَبَ ، وَاخْتَارَ مِنَ الْعَرَبِ مُضَرَ ، وَاخْتَارَ مِنْ مُضَرَ قُرَيْشًا ، وَاخْتَارَ مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ ، وَاخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، فَأَنَا مِنْ خِيَارٍ إِلَى خِيَارٍ ، فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَلِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَلِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ " . وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ يُعْتَبَرُ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک خاتون وہاں سے گزری ، حاضرین میں سے کسی نے کہا: یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں ، تو حاضرین میں سے ایک شخص بولا: بنو ہاشم میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال اس طرح ہے ، جس طرح ریحانہ ( نامی پھول ) گندگی کے درمیان میں موجود ہو ، وہ خاتون گئیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار نمایاں تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” ان اقوال کا کیا معاملہ ہے ؟ جو کچھ لوگوں کے حوالے سے مجھ تک پہنچے ہیں ، بے شک اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو پیدا کیا اور ان میں سے سب سے اوپر والے کو اختیار کیا ، پھر اس نے ان آسمانوں میں اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہا ، وہاں رہائش دی ، اس نے سات زمینیں پیدا کیں اور اس نے سب سے اوپر والی ( زمین ) کو منتخب کر کے ان میں جس مخلوق کو چاہا ، وہاں رہنے دیا ، اس نے مخلوق کو پیدا کیا اور تمام مخلوق میں اولاد آدم کو منتخب کیا اور اولاد آدم میں عربوں کو منتخب کیا ، اور عربوں میں مضر قبیلے کے لوگوں کو منتخب کیا اور مضر میں قریش کو منتخب کیا اور قریش میں بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا ، تو میں بہترین لوگوں سے بہترین لوگوں کی طرف سے منتقل ہوتا رہا ، جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا ، وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص عربوں سے بغض رکھے گا ، وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ، ان کے ساتھ بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا ، تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص عربوں سے بغض رکھے گا وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی حماد بن واقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی روایت کا اعتبار کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13823
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13650)»
وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : أَتَى نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّا نَسْمَعُ مِنْ قَوْمِكَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ مِنْهُمْ : إِنَّمَا مَثَلُ مُحَمَّدٍ مَثَلَ نَخْلَةٌ نَبَتَتْ فِي الْكِبَا - قَالَ حُسَيْنٌ : الْكِبَا : الْكُنَاسَةُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أَنَا ؟ " . قَالُوا : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " . قَالَ : فَمَا سَمِعْنَاهُ يَنْتَمِي قَبْلَهَا " إِلَّا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ ثُمَّ فَرَّقَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا ، فَأَنَا خَيْرُهُمْ بَيْتًا وَخَيْرُهُمْ نَفْسًا " . - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : ہم نے آپ کی قوم کے افراد کو باتیں کرتے ہوئے سنا ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے یہ کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کھجور کے اس درخت کی مانند ہے جو کوڑے میں اگ جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں کون ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ، راوی کہتے ہیں : ہم نے اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نسب اس طرح بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خبردار ! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا ، پھر اس نے اس مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان دونوں حصوں میں سے بہتر حصے میں رکھا ، پھر اس نے اس کو مختلف قبائل میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان میں سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، پھر اس نے ان کو مختلف گھرانوں میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان میں سب سے بہتر گھرانے میں رکھا ، تو میں گھرانے کے اعتبار سے ، اُن سب میں بہتر ہوں ، اور ذاتی اعتبار سے اُن سب میں بہتر ہوں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے ان صاحب کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13824
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (165/4)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي كَمَثَلِ نَخْلَةٍ نَبَتَتْ فِي مَزْبَلَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُنْكَرٌ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ الزُّبَيْرِ ، إِنْ صَحَّ عَنْهُ ، فَإِنَّ فِيهِ ابْنَ لَهِيعَةَ وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری اور میرے اہل بیت کی مثال ، کھجور کے اُس درخت کی مانند ہے جو کوڑے کی جگہ میں اُگ جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یہ منکر ہے ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ، تو یہ مستند طور پر ان سے منقول ہو گا ، کیونکہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13825
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منکر
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ : إِنَّ مَثَلَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَثَلُ نَخْلَةٍ فِي كَبْوَةٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ وَهَذَا الظَّنُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کھجور کے اس درخت کی مانند ہے ، جو گندی جگہ میں ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے بارے میں یہی گمان ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13826
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2400)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تُوُفِّيَ ابْنٌ لِصَفِيَّةَ ، عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَتْ عَلَيْهِ وَصَاحَتْ ، فَأَتَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا : " يَا عَمَّةُ ، مَا يُبْكِيكِ ؟ " . قَالَتْ : تُوُفِّيَ ابْنِي . قَالَ : " يَا عَمَّةُ ، مَنْ تُوَفِّيَ لَهُ وَلَدٌ فِي الْإِسْلَامِ فَصَبَرَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . فَسَكَتَتْ . ثُمَّ خَرَجَتْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَقْبَلَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : يَا صَفِيَّةُ ، قَدْ سَمِعْتُ صُرَاخَكَ ، إِنَّ قَرَابَتَكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنْ تُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا . فَبَكَتْ فَسَمِعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُكْرِمُهَا وَيُحِبُّهَا فَقَالَ : " يَا عَمَّةُ ، أَتَبْكِينَ وَقَدْ قُلْتُ لَكِ مَا قُلْتُ ؟ " . قَالَتْ : لَيْسَ ذَاكَ أَبْكَانِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَقْبَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : إِنَّ قَرَابَتَكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنْ تُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا . قَالَ : فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، هَجِّرْ بِالصَّلَاةِ " . فَهَجَّرَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ قَرَابَتِي لَا تَنْفَعُ ؟ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي ، فَإِنَّهَا مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . فَقَالَ عُمَرُ : فَتَزَوَّجْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - لِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ أَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْهُ سَبَبٌ وَنَسَبٌ . ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَرْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَإِذَا هُمْ يَتَفَاخَرُونَ وَيَذْكُرُونَ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقُلْتُ : مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالُوا : إِنَّ الشَّجَرَةَ لِتَنْبُتَ فِي الْكِبَا . وَقَالَ : فَمَرَرْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، هَجِّرْ بِالصَّلَاةِ " . فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أَنَا ؟ " . قَالُوا : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " انْسُبُونِي " . قَالُوا : أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . قَالَ : " أَجَلْ ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ ، فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْتَذِلُونَ أَصْلِي ؟ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَفْضَلُهُمْ أَصْلًا وَخَيْرُهُمْ مَوْضِعًا " . قَالَ : فَلَمَّا سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِذَلِكَ قَالَتْ : قُومُوا فَخُذُوا السِّلَاحَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أُغْضِبَ . قَالَ : فَأَخَذُوا السِّلَاحَ ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَرَى مِنْهُمْ إِلَّا الْحَدَقَ ، حَتَّى أَحَاطُوا بِالنَّاسِ فَجَعَلُوهُمْ فِي مِثْلِ الْحَرَّةِ ، حَتَّى تَضَايَقَتْ بِهِمْ أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ وَالسِّكَكِ ، ثُمَّ قَامُوا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا تَأْمُرُنَا بِأَحَدٍ إِلَّا أَبَرْنَا عِتْرَتَهُ . فَلَمَّا رَأَى النَّفَرُ مِنْ قُرَيْشٍ ذَلِكَ ، قَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَذَرُوا وَتَنَصَّلُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " النَّاسُ دِثَارٌ وَالْأَنْصَارُ شِعَارٌ " . فَأَثْنَى عَلَيْهِمْ وَقَالَ خَيْرًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں ، ان کا بیٹا فوت ہو گیا ، وہ اس پر رونے لگیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : اے پھوپھی جان ! آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ انہوں نے کہا: میرا بیٹا فوت ہو گیا ہے ، آپ نے فرمایا : اے پھوپھی جان ! جس کا اسلام میں بچہ فوت ہو جائے اور وہ صبر سے کام لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔ تو وہ خاتون خاموش ہو گئیں ، پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے نکلیں ، ان کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوا ، تو انہوں نے کہا: اے صفیہ ! میں نے آپ کے رونے کی آواز سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی رشتہ داری آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں دے پائے گی ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رونے کی آواز سنی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بڑا احترام کرتے تھے اور ان سے محبت بھی رکھتے تھے ، آپ نے فرمایا : اے پھوپھی جان ! میں نے آپ کو ایک بات بتائی ہے اور اس کے باوجود آپ رو رہی ہیں ؟ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس وجہ سے نہیں رو رہی ہوں ، عمر بن خطاب کا مجھ سے سامنا ہوا ، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول کے ساتھ آپ کی رشتہ داری ، اللہ کی بارگاہ میں ، آپ کے کسی کام نہیں آئے گی ، راوی کہتے ہیں ، تو آپ غصے میں آ گئے ، آپ نے فرمایا : اے بلال ! لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کرو ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے جمع ہونے کا اعلان کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میری رشتہ داری فائدہ نہیں دے گی ، قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا ، صرف میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ دنیا اور آخرت میں ملا رہے گا ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اسی وجہ سے میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اُم کلثوم کے ساتھ شادی کی تھی ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن یہ بات سنی تھی ، تو میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا بھی رشتہ قائم ہو جائے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلا ، تو میرا گزر قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے پاس سے ہوا ، وہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے تھے اور زمانہ جاہلیت کے امور کا ذکر کر رہے تھے ، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول ہم میں سے ہیں ، انہوں نے کہا: بعض اوقات درخت کسی کوڑے میں بھی اگ جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! لوگوں کو جمع ہونے کے لئے کہو ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : میں کون ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ میرا نسب بیان کرو ! لوگوں نے عرض کی : آپ سیدنا محمد بن عبدالله بن عبدالمطلب ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں محمد بن عبداللہ ہوں ، اور میں اللہ کا رسول بھی ہوں ، لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ میری اصل کو ہلکا قرار دیتے ہیں ، اللہ کی قسم ! میں اصل کے اعتبار سے ان سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں ، اور مقام کے اعتبار سے اُن سب میں بہتر ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب انصار نے اس بارے میں سنا ، تو انہوں نے کہا: تم لوگ اٹھو اور ہتھیار اٹھا لو ! کیونکہ اللہ کے رسول کو غصہ دلایا گیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے ہتھیار اٹھا لیے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، ان کا ہجوم بہت زیادہ تھا ، انہوں نے لوگوں کو گھیر لیا اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مسجد کے دروازے اور گلیاں ان سے بھر گئے ، پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں جس شخص کے بارے میں حکم دیں گے ، ہم اس کی نسل فنا کر دیں گے ، جب قریش سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور آپ کے سامنے معذرت پیش کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دوسرے لوگ اوپر اوڑھنے والی چادر ہیں ، اور انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی تعریف کی اور ان لوگوں کے بارے میں بھلائی کی بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13827
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2363)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ حِينَ خَلَقَ الْخَلْقَ بَعَثَ جِبْرِيلَ فَقَسَّمَ النَّاسَ قِسْمَيْنِ ، فَقَسَّمَ الْعَرَبَ قِسْمًا وَقَسَّمَ الْعَجَمَ قِسْمًا ، وَكَانَتْ خِيَرَةُ اللَّهِ فِي الْعَرَبِ ، ثُمَّ قَسَّمَ الْعَرَبَ قِسْمَيْنِ ، فَقَسَّمَ الْيَمَنَ قِسْمًا وَقَسَّمَ مُضَرَ قِسْمًا وَقُرَيْشًا قِسْمًا ، وَكَانَتْ خِيَرَةُ اللَّهِ فِي قُرَيْشٍ ، ثُمَّ أَخْرَجَنِي مِنْ خَيْرِ مَنْ أَنَا مِنْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ، تو اس نے جبرائیل کو بھیجا ، اس نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ، اس نے عربوں کو ایک قسم بنایا اور عجمیوں کو ایک قسم بنایا ، اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہتری ( یا منتخب ہونا ) عربوں میں ہے ، پھر اس نے عربوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، یمن کو ایک قسم بنایا اور مضر کو ایک قسم بنایا ، اور قریش کو ایک قسم بنایا ، تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہتری قریش میں ہے ، پھر اس نے مجھے بہتر ( خاندان ) میں سے نکالا ، جس سے میرا تعلق ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ : " قَلَبْتُ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا أَفْضَلَ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ أَرَ بَيْتًا أَفْضَلَ مِنْ بَيْتِ بَنِي هَاشِمٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا : ” میں نے زمین کے مشرقی حصے اور مغربی حصے کھنگال لیے ، لیکن مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آیا ، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ، اور نہ ہی کوئی ایسا گھرانہ نظر آیا ، جو بنو ہاشم کے گھرانے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13829
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَمْدَحَكَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَاتِ ، لَا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ " . فَأَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ مِنْ قَبْلَهَا طِبْتَ فِي الظِّلَالِ وَفِي مُسْتَوْدَعٍ حَيْثُ يُخْصَفُ الْوَرَقُ ثُمَّ هَبَطْتَ الْبِلَادَ لَا بَشَرٌ ¤ أَنْتَ وَلَا مُضْغَةٌ وَلَا عَلَقُ بَلْ نُطْفَةٌ تَرْكَبُ السَّفِينَ وَقَدْ ¤ أَلْجَمَ نَسْرًا وَأَهْلَهُ الْغَرَقُ تُنْقَلُ مِنْ صَالِبٍ إِلَى رَحِمٍ ¤ إِذَا مَضَى عَالَمٌ بَدَا طَبَقُ حَتَّى احْتَوَى بَيْتَكَ الْمُهَيْمِنُ مِنْ ¤ خِنْدَفَ عَلْيَاءَ تَحْتَهَا النُّطُقُ وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ ¤ الْأَرْضُ وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الْأُفُقُ فَنَحْنُ فِي ذَلِكَ الضِّيَاءِ وَفِي ¤ النُّورِ وَسُبْلِ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کی تعریف بیان کرنا چاہتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پیش کرو ، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو بند نہ کرے ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھنا شروع کیے : ” اس سے پہلے آپ سایوں میں پاکیزہ رہے ، اور ودیعت کے طور والی جگہ پر رہے ، جہاں پتوں کے ذریعے جسم کو چھپایا جاتا ، پھر آپ شہروں کی طرف اترے ، آپ اس وقت نہ بشر تھے ، نہ گوشت کا ٹکڑا تھے ، نہ جما ہوا خون تھے ، بلکہ نطفہ تھے ( اور اس حالت میں ) آپ ( سیدنا نوح علیہ السلام کی ) کشتی پر سوار ہوئے ، جبکہ غرق ہونے نے ” نسر “ ( نام کے قوم نوح کے بت ) اور اس کے ماننے والوں کے منہ میں لگام ڈال دی تھی ، آپ ( اپنے اجداد میں سے مردوں کی ) پشتوں سے ( خواتین کے ) رحموں میں منتقل ہوتے رہے ، جب ایک عالم ( یعنی پشت ) گزر جاتی ، تو دوسرا طبقہ سامنے آ جاتا ، یہاں تک کہ آپ کے شرف نے ” خندف “ کے خاندان کے بلند مقام میں جگہ بنائی ، جب آپ کی پیدائش ہوئی تو آپ کے نور کی وجہ سے زمین روشن ہو گئی اور افق چمک اُٹھا ، تو اس نور اور ضیاء کی روشنی میں ہم ہدایت کے راستوں پر گامزن ہیں “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13830
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4167)»
وَعَنْ مَيْمُونٍ قَالَ : سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : مَا كَانَ اسْمُ أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ آمِنَةُ بِنْتُ وَهْبٍ ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهَذَا مِمَّا لَا يَحْتَاجُ إِلَى إِسْنَادٍ . ¤
محمد محی الدین
میمون بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کا نام کیا تھا ؟ انہوں نے بتایا : سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یہ ایسی بات ہے جس میں سند کی ضرورت نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13831
درجۂ حدیث محدثین: رواه الطبراني، وهذا مما لا يحتاج إلى إسناد.
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5093)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَمَّا بَلَغَ مَعْدُ بْنُ عَدْنَانَ أَرْبَعِينَ رَجُلًا ، وَقَعُوا فِي عَسْكَرِ مُوسَى فَانْتَهَبُوهُ ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا رَبِّ ، هَؤُلَاءِ وَلَدُ مَعْدٍ قَدْ أَغَارُوا عَلَى عَسْكَرِي ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ : يَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ ، لَا تَدْعُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّ مِنْهُمُ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ النَّذِيرَ الْبَشِيرَ يَجِيءُ ، وَمِنْهُمُ الْأُمَّةُ الْمَرْحُومَةُ ، أُمَّةُ مُحَمَّدٍ الَّذِينَ يَرْضَوْنَ مِنَ اللَّهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ وَيَرْضَى اللَّهُ عَنْهُمْ بِالْقَلِيلِ مِنَ الْعَمَلِ ، فَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، نَبِيُّهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمُتَوَاضِعُ فِي هَيْئَتِهِ الْمُجْتَمِعُ لَهُ اللُّبُّ فِي سُكُوتِهِ ، يَنْطِقُ بِالْحِكْمَةِ وَيَسْتَعْمِلُ الْحِلْمَ ، أَخْرَجْتُهُ مِنْ خَيْرِ جِيلٍ مِنْ أَمَّتِهِ قُرَيْشًا ، ثُمَّ أَخْرَجْتُهُ مِنْ هَاشِمٍ صَفْوَةً مِنْ قُرَيْشٍ ، فَهُمْ خَيْرٌ مِنْ خَيْرٍ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُ ، وَهُوَ وَأُمَّتُهُ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب معد بن عدنان کی اولاد چالیس افراد تک پہنچ گئی ، تو انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر دیا اور ان کا سامان لوٹ لیا ، تو سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے ان لوگوں کے خلاف دعا کی اور یہ کہا: اے میرے پروردگار ! یہ لوگ معد کی اولاد ہیں ، جنہوں نے میرے لشکر پر حملہ کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : ” اے موسیٰ بن عمران ! تم ان کے خلاف دعا نہ کرو ، کیونکہ ان لوگوں میں سے اُمی نبی پیدا ہوں گے ، جو ڈرانے والے اور خوشخبری سنانے والے ہوں گے ، اور انہی لوگوں میں ایک امت پیدا ہو گی ، جس پر رحم کیا گیا ہو گا ، اور وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھوڑا سا رزق ملنے پر بھی راضی ہوں گے ، اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے تھوڑا سا عمل ظاہر ہونے پر راضی ہو گا ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں جنت میں داخل کر دے گا ، ان لوگوں کے نبی سیدنا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں گے ، جو ظاہری ہیئت کے اعتبار سے تواضع اختیار کرنے والے ہوں گے ، اور ان کی خاموشی میں ان کے لئے عقل مندی کو اکٹھا کیا گیا ہو گا ، وہ حکمت کے مطابق بات چیت کریں گے ، بردباری سے پیش آئیں گے ، میں انہیں ان کی امت کے سب سے بہترین خاندان قریش میں پیدا کروں گا ، اور پھر میں انہیں قریش کے منتخب خاندان بنو ہاشم میں پیدا کروں گا ، تو وہ ایک بھلائی سے دوسری بھلائی کی طرف منتقل ہوتے رہیں گے ، اور ان کی امت بھی بھلائی کی طرف منتقل ہوتی رہے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7629)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ، أَنَا أَعْرَبُ الْعَرَبْ ، وُلِدْتُ فِي بَنِي قُرَيْشٍ ، نَشَأْتُ فِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، فَأَنَّى يَأْتِينِي اللَّحْنُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِمْ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نبی ہوں ، یہ بات جھوٹ نہیں ہے ، اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ، میں عربوں میں سب سے زیادہ فصیح اللسان ہوں ، میری پیدائش بنو قریش میں ہوئی تھی ، اور میری نشوونما بنو سعد بن بکر میں ہوئی ، تو میرے اندر لحن کہاں سے آ سکتا ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13833
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( )»
وَعَنِ الْجَفْشِيشِ الْكِنْدِيِّ قَالَ : جَاءَ قَوْمٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَنْتَ مِنَّا . وَادَّعَوْهُ فَقَالَ : " لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا ، نَحْنُ وَلَدُ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جفشیش کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کندہ قبیلے کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو انہوں نے عرض کی : آپ ہم سے ہیں ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کا دعویٰ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم ماں کی طرف خود کو منسوب نہیں کرتے ہیں ، اور اپنے باپ کی نفی نہیں کرتے ہیں ، ہم نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13834
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (219) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2190)»
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الْجَفْشِيشِ قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا جفشیش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث روایت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13835
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2191)»
وَعَنْ سِيَابَةَ بْنِ عَاصِمٍ السُّلَمِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ:” أَنَا ابْنُ الْعَوَاتِكِ“». ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.¤
محمد محی الدین
سیدنا سیابہ بن عاصم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ” عاتکہ “ نامی خواتین کا بیٹا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13836
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6724)»
وَعَنْ رُقَيْقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمٍ - وَكَانَتْ لِدَةَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - قَالَتْ : تَتَابَعَتْ عَلَى قُرَيْشٍ سُنُونَ أَمْحَلَتِ الضَّرْعَ وَأَوْدَقَتِ الْعَظْمَ ، فَبَيْنَا أَنَا رَاقِدَةٌ الَّهُمَّ أَوْ مَهْمُومَةٌ إِذَا هَاتِفٌ يَصْرُخُ بِصَوْتٍ صَحِلٍ يَقُولُ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْمَبْعُوثَ قَدْ أَظَلَّتْكُمْ أَيَّامَهُ ، وَهَذَا إِبَّانُ نُجُومِهِ ، فَحَيْهَلَا بِالْحَيَا وَالْخِصْبِ ، أَلَا فَانْظُرُوا رَجُلًا مِنْكُمْ وَسِيطًا عِظَامًا جَسَامًا أَبْيَضَ بَضًّا ، أَوْطَفَ ، أَهْدَبَ ، سَهْلَ الْخَدَّيْنِ ، أَشَمَّ الْعِرْنِينِ ، لَهُ فَخْرٌ يَكْظِمُ عَلَيْهِ ، وَسُنَّةٌ يَهْدِي إِلَيْهِ ، فَلْيُخْلِصْ هُوَ وَوَلَدُهُ وَلْيَهْبِطْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ ، فَلْيَشْنُوا مِنَ الْمَاءِ وَلْيَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ وَلِيَسْتَلِمُوا الرُّكْنَ ، ثُمَّ لِيَرْقُوا أَبَا قُبَيْسٍ ، ثُمَّ لِيَدْعُ الرَّجُلُ وَلِيُؤَمِّنِ الْقَوْمُ فَغُثْتُمْ مَا شِئْتُمْ . فَأَصْبَحْتُ - عِلْمُ اللَّهِ - مَذْعُورَةً اقْشَعَرَّ جِلْدِي وَوَلِهَ عَقْلِي ، وَاقْتَصَصْتُ رُؤْيَايَ ، وَفَشَتْ فِي شِعَابِ مَكَّةَ ، فَوَالْحُرْمَةِ وَالْحَرَمِ ، مَا بَقِيَ بِهَا أَبْطَحِيٌّ إِلَّا قَالَ : هَذَا شَيْبَةُ الْحَمْدِ . وَتَنَاهَتْ إِلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ ، وَهَبَطَ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ ، فَشَنُّوا وَمَسُّوا وَاسْتَلَمُوا ثُمَّ ارْتَقَوْا أَبَا قُبَيْسٍ وَاصْطَفُّوا حَوْلَهُ ، مَا يَبْلُغُ سَعْيُهُمْ مَهِلَّهُ ، حَتَّى إِذَا اسْتَوَوْا بِذُرْوَةِ الْجَبَلِ ، قَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ وَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ أَيْفَعُ أَوْ كَرُبَ ، فَرَفَعَ يَدَهُ وَقَالَ : اللَّهُمَّ سَادَّ الْخَلَّةِ ، وَكَاشِفَ الْكُرْبَةِ ، أَنْتَ عَالِمٌ مُعَلِّمٌ غَيْرَ مُعَلَّمٍ وَمَسْئُولٌ غَيْرَ مُبَخَّلٍ ، وَهَذِهِ عُبُدَاؤُكَ وَإِمَاؤُكَ بَعَذَرَاتِ حَرَمِكَ ، يَشْتَكُونَ إِلَيْكَ سِنِيهِمْ ، أَذْهَبْتَ الْخَلْفَ وَالظِّلْفَ ، اللَّهُمَّ فَأَمْطِرَنَ عَلَيْنَا غَيْثًا مُغْدِقًا مُرِيعًا . فَوَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا رَامُوا حَتَّى تَفَجَّرَتِ السَّمَاءُ بِمَائِهَا ، وَاكْتَظَّ الْوَادِي بِثَجِيجِهِ ، فَسَمِعَتْ شِيخَانُ قُرَيْشٍ وَجِلَّتُهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ ، وَحَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ ، وَهِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ ، يَقُولُونَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ : هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْبَطْحَاءِ . أَيْ عَاشَ بِكَ أَهْلُ الْبَطْحَاءِ وَفِي ذَلِكَ تَقُولُ رُقَيْقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيٍّ : ¤ بِشَيْبَةِ الْحَمْدِ أَسْقَى اللَّهُ بَلْدَتَنَا وَقَدْ فَقَدْنَا الْحَيَا وَاجْلَوَّذَ الْمَطَرُ فَجَادَ بِالْمَاءِ جَوْنِيٌّ لَهُ سُبُلٌ ¤ سَحًّا فَعَاشَتْ بِهِ الْأَنْعَامُ وَالشَّجَرُ مَنًّا مِنَ اللَّهُ بِالْمَيْمُونِ طَائِرُهُ ¤ وَخَيْرِ مَنْ بُشِّرَتْ يَوْمًا بِهِ مُضَرُ مُبَارَكُ الْأَمْرِ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِهِ ¤ مَا فِي الْأَنَامِ لَهُ عَدْلٌ وَلَا خَطَرُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ رقیقہ بنت ابوصیفی بن ہاشم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہ سیدنا عبدالمطلب کی والدہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : قریش پر کچھ سال مسلسل ایسے آئے کہ جنہوں نے تھنوں کو خشک کر دیا اور ہڈیوں کو کمزور کر دیا ، ایک مرتبہ میں پریشانی کے عالم میں لیٹی ہوئی تھی ، اسی دوران کسی پکارنے والے نے پکار کر یہ کہا: اے قریش کے گروہ ! یہ مبعوث ہونے والے نبی کا زمانہ تمہارے سامنے آنے لگا ہے ، یہ ان کی آمد کا وقت ہے ، تو حیاء اور خوشحالی کے لیے تیار ہو جاؤ ! خبردار ! تم لوگ اپنے میں سے ایک ایسے شخص کا جائزہ لو ، جو بھرپور جسم کا مالک ہو ، جس کا رنگ سفید ہو ، جلد خوبصورت ہو ، اس میں ایسی بردباری ہو ، جس کی وجہ سے وہ غصے پر ق ابوپاتا ہو ، اور ایسا طریقہ ہو کہ اس کی طرف رہنمائی کی جاتی ہو ، وہ اور ان کی اولاد الگ ہوں ، پھر قریش کی ہر شاخ سے تعلق رکھنے والے ایک ایک فرد کو اس کے ساتھ ہونا چاہیے ، وہ غسل کریں ، خوشبو لگائیں ، رکن کا استلام کریں اور پھر ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر وہ شخص دعا کرے اور باقی لوگ آمین کہیں ، تو تم لوگوں پر جتنی چاہو گے ، اتنی بارش ہو گی ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : اللہ جانتا ہے ، جب اگلے دن صبح میں بیدار ہوئی ، تو میں پریشان تھی اور میری جلد پر کپکپی طاری تھی اور میری عقل ماؤف ہو رہی تھی ، میں نے اپنا خواب بیان کیا ، تو بہت جلد یہ مکہ کی گلیوں میں پھیل گیا ، حرمت اور حرم کی قسم ہے ، ابطح کے ہر فرد نے یہی کہا: اس سے مراد شیبہ الحمد ( یعنی جناب عبدالمطلب ) ہو سکتے ہیں ، قریش کے افراد ان کے پاس آئے ، ہر قبیلے کا ایک فرد ان کے پاس آیا ، ان لوگوں نے غسل کیا ، خوشبو لگائی حجر اسود کا استلام کیا ، پھر وہ لوگ ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ گئے ، لوگوں نے ان کے اردگرد صفیں بنا لیں ، یہاں تک کہ جب وہ لوگ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے ، تو جناب عبدالمطلب کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جو کم عمر لڑکے تھے ، تو جناب عبدالمطلب نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور کہا: ” اے اللہ ! خلل کو بند کرنے والے ، پریشانی کو ختم کرنے والے ، تو علم رکھنے والا ہے ، جسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ، تو ایسی ذات ہے جس سے مانگا جاتا ہے ، اور تو بخل کرنے والا نہیں ہے ، یہ تیرے بندے ہیں اور یہ تیری کنیزیں ہیں ، جو تیرے حرم کے پڑوس میں رہتے ہیں ، وہ تیری بارگاہ میں پریشانی کا ذکر کر رہے ہیں ، اس قحط سالی کے حوالے سے ، جو انہیں لاحق ہے ، جس کے نتیجے میں جانور مرتے جا رہے ہیں ، اے اللہ ! تو ہم پر ایسی بارش کر دے ، جو سیراب کرنے والی ہو ۔ “ راوی کہتے ہیں : رب کعبہ کی قسم ! ابھی وہ لوگ واپس نہیں آئے تھے کہ اسی دوران آسمان سے بارش شروع ہو گئی اور نشیبی حصے میں پانی بہنے لگے ، میں نے قریش کے کچھ لوگوں کو سنا ، جن میں عبداللہ بن جدعان اور حرب بن امیہ اور ہشام بن مغیرہ تھے ، وہ عبدالمطلب سے یہ کہ رہے تھے : اے ابوالبطحاء ! آپ کو مبارک باد ہو ، ان کی مراد یہ تھی کہ آپ کی وجہ سے اہل بطحاء کو زندگی نصیب ہوئی ہے ، اس بارے میں سیدہ رقیقہ بنت ابوصیفی رضی اللہ عنہا نے یہ اشعار کہے تھے : ” اے شیبۃ الحمد ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے شہر کو سیراب کر دیا ، پہلے ہم زندگی کو غیر موجود پاتے تھے لیکن پھر بھرپور بارش شروع ہو گئی پانی آ گیا اور اس نے نشیبی علاقے میں راستے بنا لیے جس نے جانوروں اور درختوں کو زندگی دیدی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان ہے جس کی آمد بابرکت ہے ، اور آج کے دن مضر ( قبیلے کے افراد کو ) دی جانے والی سب سے بہتر خوشخبری ہے یہ بابرکت معاملے والے ہیں ان کے وسیلے سے بارش مانگی گئی مخلوق میں کوئی بھی ان کے برابر کا نہیں اور نہ ہی ( کسی کے بارے میں ایسا ) سوچا جا سکتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13837
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (259/24)»