حدیث نمبر: 13822
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَسَّمَ الْخَلْقَ قِسْمَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمَا قِسْمًا ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ( أَصْحَابُ الْيَمِينِ ) ( وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ ) فَأَنَا مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَأَنَا مِنْ خَيْرِ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ، ثُمَّ جَعَلَ الْقِسْمَيْنِ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ( فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ) فَأَنَا مِنْ خَيْرِ السَّابِقِينَ ، ثُمَّ جَعَلَ الْبُيُوتَ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهَا قَبِيلَةً فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ( شُعُوبًا وَقَبَائِلَ ) فَأَنَا أَتْقَى وَلَدِ آدَمَ وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ ، ثُمَّ جَعَلَ الْقَبَائِلَ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا بَيْتًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ( إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَعَبَايَةُ بْنُ رِبْعِيٍّ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے ان دونوں میں سے زیادہ بہتر حصے میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” دائیں طرف والے لوگ “ ” اور بائیں طرف والے لوگ “ تو میں دائیں طرف والے لوگوں میں سے ہوں اور میں دائیں طرف والے لوگوں میں سے سب سے بہتر ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں حصوں کو مختلف گھروں میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان میں سے سب سے بہتر گھر میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” دائیں طرف والے لوگ ، دائیں طرف والے لوگ کیا ہیں اور بائیں طرف والے لوگ ، بائیں طرف والے لوگ کیا ہیں ، اور سبقت والے لوگ جو سبقت لے جانے والے ہیں ۔ “ تو میں سبقت لے جانے والے بہتر افراد میں سے ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مختلف گھروں کو مختلف قبائل کی شکل میں تقسیم کیا تو اس نے مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” گروہ اور قبیلے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو میں سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، پھر اللہ تعالیٰ نے قبائل کو مختلف گھرانوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان میں سے سب سے بہتر گھرانے میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی سے دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور ایک راوی عبایہ بن ربعی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13822
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2674)»