حدیث نمبر: 13837
وَعَنْ رُقَيْقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمٍ - وَكَانَتْ لِدَةَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - قَالَتْ : تَتَابَعَتْ عَلَى قُرَيْشٍ سُنُونَ أَمْحَلَتِ الضَّرْعَ وَأَوْدَقَتِ الْعَظْمَ ، فَبَيْنَا أَنَا رَاقِدَةٌ الَّهُمَّ أَوْ مَهْمُومَةٌ إِذَا هَاتِفٌ يَصْرُخُ بِصَوْتٍ صَحِلٍ يَقُولُ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْمَبْعُوثَ قَدْ أَظَلَّتْكُمْ أَيَّامَهُ ، وَهَذَا إِبَّانُ نُجُومِهِ ، فَحَيْهَلَا بِالْحَيَا وَالْخِصْبِ ، أَلَا فَانْظُرُوا رَجُلًا مِنْكُمْ وَسِيطًا عِظَامًا جَسَامًا أَبْيَضَ بَضًّا ، أَوْطَفَ ، أَهْدَبَ ، سَهْلَ الْخَدَّيْنِ ، أَشَمَّ الْعِرْنِينِ ، لَهُ فَخْرٌ يَكْظِمُ عَلَيْهِ ، وَسُنَّةٌ يَهْدِي إِلَيْهِ ، فَلْيُخْلِصْ هُوَ وَوَلَدُهُ وَلْيَهْبِطْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ ، فَلْيَشْنُوا مِنَ الْمَاءِ وَلْيَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ وَلِيَسْتَلِمُوا الرُّكْنَ ، ثُمَّ لِيَرْقُوا أَبَا قُبَيْسٍ ، ثُمَّ لِيَدْعُ الرَّجُلُ وَلِيُؤَمِّنِ الْقَوْمُ فَغُثْتُمْ مَا شِئْتُمْ . فَأَصْبَحْتُ - عِلْمُ اللَّهِ - مَذْعُورَةً اقْشَعَرَّ جِلْدِي وَوَلِهَ عَقْلِي ، وَاقْتَصَصْتُ رُؤْيَايَ ، وَفَشَتْ فِي شِعَابِ مَكَّةَ ، فَوَالْحُرْمَةِ وَالْحَرَمِ ، مَا بَقِيَ بِهَا أَبْطَحِيٌّ إِلَّا قَالَ : هَذَا شَيْبَةُ الْحَمْدِ . وَتَنَاهَتْ إِلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ ، وَهَبَطَ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ ، فَشَنُّوا وَمَسُّوا وَاسْتَلَمُوا ثُمَّ ارْتَقَوْا أَبَا قُبَيْسٍ وَاصْطَفُّوا حَوْلَهُ ، مَا يَبْلُغُ سَعْيُهُمْ مَهِلَّهُ ، حَتَّى إِذَا اسْتَوَوْا بِذُرْوَةِ الْجَبَلِ ، قَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ وَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ أَيْفَعُ أَوْ كَرُبَ ، فَرَفَعَ يَدَهُ وَقَالَ : اللَّهُمَّ سَادَّ الْخَلَّةِ ، وَكَاشِفَ الْكُرْبَةِ ، أَنْتَ عَالِمٌ مُعَلِّمٌ غَيْرَ مُعَلَّمٍ وَمَسْئُولٌ غَيْرَ مُبَخَّلٍ ، وَهَذِهِ عُبُدَاؤُكَ وَإِمَاؤُكَ بَعَذَرَاتِ حَرَمِكَ ، يَشْتَكُونَ إِلَيْكَ سِنِيهِمْ ، أَذْهَبْتَ الْخَلْفَ وَالظِّلْفَ ، اللَّهُمَّ فَأَمْطِرَنَ عَلَيْنَا غَيْثًا مُغْدِقًا مُرِيعًا . فَوَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا رَامُوا حَتَّى تَفَجَّرَتِ السَّمَاءُ بِمَائِهَا ، وَاكْتَظَّ الْوَادِي بِثَجِيجِهِ ، فَسَمِعَتْ شِيخَانُ قُرَيْشٍ وَجِلَّتُهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ ، وَحَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ ، وَهِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ ، يَقُولُونَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ : هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْبَطْحَاءِ . أَيْ عَاشَ بِكَ أَهْلُ الْبَطْحَاءِ وَفِي ذَلِكَ تَقُولُ رُقَيْقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيٍّ : ¤ بِشَيْبَةِ الْحَمْدِ أَسْقَى اللَّهُ بَلْدَتَنَا وَقَدْ فَقَدْنَا الْحَيَا وَاجْلَوَّذَ الْمَطَرُ فَجَادَ بِالْمَاءِ جَوْنِيٌّ لَهُ سُبُلٌ ¤ سَحًّا فَعَاشَتْ بِهِ الْأَنْعَامُ وَالشَّجَرُ مَنًّا مِنَ اللَّهُ بِالْمَيْمُونِ طَائِرُهُ ¤ وَخَيْرِ مَنْ بُشِّرَتْ يَوْمًا بِهِ مُضَرُ مُبَارَكُ الْأَمْرِ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِهِ ¤ مَا فِي الْأَنَامِ لَهُ عَدْلٌ وَلَا خَطَرُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ رقیقہ بنت ابوصیفی بن ہاشم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہ سیدنا عبدالمطلب کی والدہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : قریش پر کچھ سال مسلسل ایسے آئے کہ جنہوں نے تھنوں کو خشک کر دیا اور ہڈیوں کو کمزور کر دیا ، ایک مرتبہ میں پریشانی کے عالم میں لیٹی ہوئی تھی ، اسی دوران کسی پکارنے والے نے پکار کر یہ کہا: اے قریش کے گروہ ! یہ مبعوث ہونے والے نبی کا زمانہ تمہارے سامنے آنے لگا ہے ، یہ ان کی آمد کا وقت ہے ، تو حیاء اور خوشحالی کے لیے تیار ہو جاؤ ! خبردار ! تم لوگ اپنے میں سے ایک ایسے شخص کا جائزہ لو ، جو بھرپور جسم کا مالک ہو ، جس کا رنگ سفید ہو ، جلد خوبصورت ہو ، اس میں ایسی بردباری ہو ، جس کی وجہ سے وہ غصے پر ق ابوپاتا ہو ، اور ایسا طریقہ ہو کہ اس کی طرف رہنمائی کی جاتی ہو ، وہ اور ان کی اولاد الگ ہوں ، پھر قریش کی ہر شاخ سے تعلق رکھنے والے ایک ایک فرد کو اس کے ساتھ ہونا چاہیے ، وہ غسل کریں ، خوشبو لگائیں ، رکن کا استلام کریں اور پھر ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر وہ شخص دعا کرے اور باقی لوگ آمین کہیں ، تو تم لوگوں پر جتنی چاہو گے ، اتنی بارش ہو گی ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : اللہ جانتا ہے ، جب اگلے دن صبح میں بیدار ہوئی ، تو میں پریشان تھی اور میری جلد پر کپکپی طاری تھی اور میری عقل ماؤف ہو رہی تھی ، میں نے اپنا خواب بیان کیا ، تو بہت جلد یہ مکہ کی گلیوں میں پھیل گیا ، حرمت اور حرم کی قسم ہے ، ابطح کے ہر فرد نے یہی کہا: اس سے مراد شیبہ الحمد ( یعنی جناب عبدالمطلب ) ہو سکتے ہیں ، قریش کے افراد ان کے پاس آئے ، ہر قبیلے کا ایک فرد ان کے پاس آیا ، ان لوگوں نے غسل کیا ، خوشبو لگائی حجر اسود کا استلام کیا ، پھر وہ لوگ ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ گئے ، لوگوں نے ان کے اردگرد صفیں بنا لیں ، یہاں تک کہ جب وہ لوگ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے ، تو جناب عبدالمطلب کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جو کم عمر لڑکے تھے ، تو جناب عبدالمطلب نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور کہا: ” اے اللہ ! خلل کو بند کرنے والے ، پریشانی کو ختم کرنے والے ، تو علم رکھنے والا ہے ، جسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ، تو ایسی ذات ہے جس سے مانگا جاتا ہے ، اور تو بخل کرنے والا نہیں ہے ، یہ تیرے بندے ہیں اور یہ تیری کنیزیں ہیں ، جو تیرے حرم کے پڑوس میں رہتے ہیں ، وہ تیری بارگاہ میں پریشانی کا ذکر کر رہے ہیں ، اس قحط سالی کے حوالے سے ، جو انہیں لاحق ہے ، جس کے نتیجے میں جانور مرتے جا رہے ہیں ، اے اللہ ! تو ہم پر ایسی بارش کر دے ، جو سیراب کرنے والی ہو ۔ “ راوی کہتے ہیں : رب کعبہ کی قسم ! ابھی وہ لوگ واپس نہیں آئے تھے کہ اسی دوران آسمان سے بارش شروع ہو گئی اور نشیبی حصے میں پانی بہنے لگے ، میں نے قریش کے کچھ لوگوں کو سنا ، جن میں عبداللہ بن جدعان اور حرب بن امیہ اور ہشام بن مغیرہ تھے ، وہ عبدالمطلب سے یہ کہ رہے تھے : اے ابوالبطحاء ! آپ کو مبارک باد ہو ، ان کی مراد یہ تھی کہ آپ کی وجہ سے اہل بطحاء کو زندگی نصیب ہوئی ہے ، اس بارے میں سیدہ رقیقہ بنت ابوصیفی رضی اللہ عنہا نے یہ اشعار کہے تھے : ” اے شیبۃ الحمد ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے شہر کو سیراب کر دیا ، پہلے ہم زندگی کو غیر موجود پاتے تھے لیکن پھر بھرپور بارش شروع ہو گئی پانی آ گیا اور اس نے نشیبی علاقے میں راستے بنا لیے جس نے جانوروں اور درختوں کو زندگی دیدی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان ہے جس کی آمد بابرکت ہے ، اور آج کے دن مضر ( قبیلے کے افراد کو ) دی جانے والی سب سے بہتر خوشخبری ہے یہ بابرکت معاملے والے ہیں ان کے وسیلے سے بارش مانگی گئی مخلوق میں کوئی بھی ان کے برابر کا نہیں اور نہ ہی ( کسی کے بارے میں ایسا ) سوچا جا سکتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13837
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (259/24)»