حدیث نمبر: 13824
وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : أَتَى نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّا نَسْمَعُ مِنْ قَوْمِكَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ مِنْهُمْ : إِنَّمَا مَثَلُ مُحَمَّدٍ مَثَلَ نَخْلَةٌ نَبَتَتْ فِي الْكِبَا - قَالَ حُسَيْنٌ : الْكِبَا : الْكُنَاسَةُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أَنَا ؟ " . قَالُوا : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " . قَالَ : فَمَا سَمِعْنَاهُ يَنْتَمِي قَبْلَهَا " إِلَّا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ ثُمَّ فَرَّقَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا ، فَأَنَا خَيْرُهُمْ بَيْتًا وَخَيْرُهُمْ نَفْسًا " . - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : ہم نے آپ کی قوم کے افراد کو باتیں کرتے ہوئے سنا ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے یہ کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کھجور کے اس درخت کی مانند ہے جو کوڑے میں اگ جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں کون ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ، راوی کہتے ہیں : ہم نے اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نسب اس طرح بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خبردار ! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا ، پھر اس نے اس مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان دونوں حصوں میں سے بہتر حصے میں رکھا ، پھر اس نے اس کو مختلف قبائل میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان میں سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، پھر اس نے ان کو مختلف گھرانوں میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان میں سب سے بہتر گھرانے میں رکھا ، تو میں گھرانے کے اعتبار سے ، اُن سب میں بہتر ہوں ، اور ذاتی اعتبار سے اُن سب میں بہتر ہوں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے ان صاحب کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13824
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (165/4)»