حدیث نمبر: 13830
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَمْدَحَكَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَاتِ ، لَا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ " . فَأَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ مِنْ قَبْلَهَا طِبْتَ فِي الظِّلَالِ وَفِي مُسْتَوْدَعٍ حَيْثُ يُخْصَفُ الْوَرَقُ ثُمَّ هَبَطْتَ الْبِلَادَ لَا بَشَرٌ ¤ أَنْتَ وَلَا مُضْغَةٌ وَلَا عَلَقُ بَلْ نُطْفَةٌ تَرْكَبُ السَّفِينَ وَقَدْ ¤ أَلْجَمَ نَسْرًا وَأَهْلَهُ الْغَرَقُ تُنْقَلُ مِنْ صَالِبٍ إِلَى رَحِمٍ ¤ إِذَا مَضَى عَالَمٌ بَدَا طَبَقُ حَتَّى احْتَوَى بَيْتَكَ الْمُهَيْمِنُ مِنْ ¤ خِنْدَفَ عَلْيَاءَ تَحْتَهَا النُّطُقُ وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ ¤ الْأَرْضُ وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الْأُفُقُ فَنَحْنُ فِي ذَلِكَ الضِّيَاءِ وَفِي ¤ النُّورِ وَسُبْلِ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کی تعریف بیان کرنا چاہتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پیش کرو ، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو بند نہ کرے ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھنا شروع کیے : ” اس سے پہلے آپ سایوں میں پاکیزہ رہے ، اور ودیعت کے طور والی جگہ پر رہے ، جہاں پتوں کے ذریعے جسم کو چھپایا جاتا ، پھر آپ شہروں کی طرف اترے ، آپ اس وقت نہ بشر تھے ، نہ گوشت کا ٹکڑا تھے ، نہ جما ہوا خون تھے ، بلکہ نطفہ تھے ( اور اس حالت میں ) آپ ( سیدنا نوح علیہ السلام کی ) کشتی پر سوار ہوئے ، جبکہ غرق ہونے نے ” نسر “ ( نام کے قوم نوح کے بت ) اور اس کے ماننے والوں کے منہ میں لگام ڈال دی تھی ، آپ ( اپنے اجداد میں سے مردوں کی ) پشتوں سے ( خواتین کے ) رحموں میں منتقل ہوتے رہے ، جب ایک عالم ( یعنی پشت ) گزر جاتی ، تو دوسرا طبقہ سامنے آ جاتا ، یہاں تک کہ آپ کے شرف نے ” خندف “ کے خاندان کے بلند مقام میں جگہ بنائی ، جب آپ کی پیدائش ہوئی تو آپ کے نور کی وجہ سے زمین روشن ہو گئی اور افق چمک اُٹھا ، تو اس نور اور ضیاء کی روشنی میں ہم ہدایت کے راستوں پر گامزن ہیں “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13830
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4167)»