مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كَرَامَةِ أَصْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کی اصل ( یعنی آپ کے آباؤ اجداد ) کے معزز ہونے کا بیان
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَمْدَحَكَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَاتِ ، لَا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ " . فَأَنْشَأَ يَقُولُ :
مِنْ قَبْلَهَا طِبْتَ فِي الظِّلَالِ وَفِي مُسْتَوْدَعٍ حَيْثُ يُخْصَفُ الْوَرَقُ ثُمَّ هَبَطْتَ الْبِلَادَ لَا بَشَرٌ
أَنْتَ وَلَا مُضْغَةٌ وَلَا عَلَقُ بَلْ نُطْفَةٌ تَرْكَبُ السَّفِينَ وَقَدْ
أَلْجَمَ نَسْرًا وَأَهْلَهُ الْغَرَقُ تُنْقَلُ مِنْ صَالِبٍ إِلَى رَحِمٍ
إِذَا مَضَى عَالَمٌ بَدَا طَبَقُ حَتَّى احْتَوَى بَيْتَكَ الْمُهَيْمِنُ مِنْ
خِنْدَفَ عَلْيَاءَ تَحْتَهَا النُّطُقُ وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ
الْأَرْضُ وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الْأُفُقُ فَنَحْنُ فِي ذَلِكَ الضِّيَاءِ وَفِي
النُّورِ وَسُبْلِ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
سیدنا خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کی تعریف بیان کرنا چاہتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پیش کرو ، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو بند نہ کرے ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھنا شروع کیے : ” اس سے پہلے آپ سایوں میں پاکیزہ رہے ، اور ودیعت کے طور والی جگہ پر رہے ، جہاں پتوں کے ذریعے جسم کو چھپایا جاتا ، پھر آپ شہروں کی طرف اترے ، آپ اس وقت نہ بشر تھے ، نہ گوشت کا ٹکڑا تھے ، نہ جما ہوا خون تھے ، بلکہ نطفہ تھے ( اور اس حالت میں ) آپ ( سیدنا نوح علیہ السلام کی ) کشتی پر سوار ہوئے ، جبکہ غرق ہونے نے ” نسر “ ( نام کے قوم نوح کے بت ) اور اس کے ماننے والوں کے منہ میں لگام ڈال دی تھی ، آپ ( اپنے اجداد میں سے مردوں کی ) پشتوں سے ( خواتین کے ) رحموں میں منتقل ہوتے رہے ، جب ایک عالم ( یعنی پشت ) گزر جاتی ، تو دوسرا طبقہ سامنے آ جاتا ، یہاں تک کہ آپ کے شرف نے ” خندف “ کے خاندان کے بلند مقام میں جگہ بنائی ، جب آپ کی پیدائش ہوئی تو آپ کے نور کی وجہ سے زمین روشن ہو گئی اور افق چمک اُٹھا ، تو اس نور اور ضیاء کی روشنی میں ہم ہدایت کے راستوں پر گامزن ہیں “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔