مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كَرَامَةِ أَصْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کی اصل ( یعنی آپ کے آباؤ اجداد ) کے معزز ہونے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تُوُفِّيَ ابْنٌ لِصَفِيَّةَ ، عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَتْ عَلَيْهِ وَصَاحَتْ ، فَأَتَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا : " يَا عَمَّةُ ، مَا يُبْكِيكِ ؟ " . قَالَتْ : تُوُفِّيَ ابْنِي . قَالَ : " يَا عَمَّةُ ، مَنْ تُوَفِّيَ لَهُ وَلَدٌ فِي الْإِسْلَامِ فَصَبَرَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . فَسَكَتَتْ . ثُمَّ خَرَجَتْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَقْبَلَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : يَا صَفِيَّةُ ، قَدْ سَمِعْتُ صُرَاخَكَ ، إِنَّ قَرَابَتَكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنْ تُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا . فَبَكَتْ فَسَمِعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُكْرِمُهَا وَيُحِبُّهَا فَقَالَ : " يَا عَمَّةُ ، أَتَبْكِينَ وَقَدْ قُلْتُ لَكِ مَا قُلْتُ ؟ " . قَالَتْ : لَيْسَ ذَاكَ أَبْكَانِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَقْبَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : إِنَّ قَرَابَتَكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنْ تُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا . قَالَ : فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، هَجِّرْ بِالصَّلَاةِ " . فَهَجَّرَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ قَرَابَتِي لَا تَنْفَعُ ؟ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي ، فَإِنَّهَا مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . فَقَالَ عُمَرُ : فَتَزَوَّجْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - لِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ أَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْهُ سَبَبٌ وَنَسَبٌ . ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَرْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَإِذَا هُمْ يَتَفَاخَرُونَ وَيَذْكُرُونَ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقُلْتُ : مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالُوا : إِنَّ الشَّجَرَةَ لِتَنْبُتَ فِي الْكِبَا . وَقَالَ : فَمَرَرْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، هَجِّرْ بِالصَّلَاةِ " . فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أَنَا ؟ " . قَالُوا : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " انْسُبُونِي " . قَالُوا : أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . قَالَ : " أَجَلْ ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ ، فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْتَذِلُونَ أَصْلِي ؟ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَفْضَلُهُمْ أَصْلًا وَخَيْرُهُمْ مَوْضِعًا " . قَالَ : فَلَمَّا سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِذَلِكَ قَالَتْ : قُومُوا فَخُذُوا السِّلَاحَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أُغْضِبَ . قَالَ : فَأَخَذُوا السِّلَاحَ ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَرَى مِنْهُمْ إِلَّا الْحَدَقَ ، حَتَّى أَحَاطُوا بِالنَّاسِ فَجَعَلُوهُمْ فِي مِثْلِ الْحَرَّةِ ، حَتَّى تَضَايَقَتْ بِهِمْ أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ وَالسِّكَكِ ، ثُمَّ قَامُوا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا تَأْمُرُنَا بِأَحَدٍ إِلَّا أَبَرْنَا عِتْرَتَهُ . فَلَمَّا رَأَى النَّفَرُ مِنْ قُرَيْشٍ ذَلِكَ ، قَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَذَرُوا وَتَنَصَّلُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " النَّاسُ دِثَارٌ وَالْأَنْصَارُ شِعَارٌ " . فَأَثْنَى عَلَيْهِمْ وَقَالَ خَيْرًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں ، ان کا بیٹا فوت ہو گیا ، وہ اس پر رونے لگیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : اے پھوپھی جان ! آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ انہوں نے کہا: میرا بیٹا فوت ہو گیا ہے ، آپ نے فرمایا : اے پھوپھی جان ! جس کا اسلام میں بچہ فوت ہو جائے اور وہ صبر سے کام لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔ تو وہ خاتون خاموش ہو گئیں ، پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے نکلیں ، ان کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوا ، تو انہوں نے کہا: اے صفیہ ! میں نے آپ کے رونے کی آواز سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی رشتہ داری آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں دے پائے گی ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رونے کی آواز سنی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بڑا احترام کرتے تھے اور ان سے محبت بھی رکھتے تھے ، آپ نے فرمایا : اے پھوپھی جان ! میں نے آپ کو ایک بات بتائی ہے اور اس کے باوجود آپ رو رہی ہیں ؟ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس وجہ سے نہیں رو رہی ہوں ، عمر بن خطاب کا مجھ سے سامنا ہوا ، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول کے ساتھ آپ کی رشتہ داری ، اللہ کی بارگاہ میں ، آپ کے کسی کام نہیں آئے گی ، راوی کہتے ہیں ، تو آپ غصے میں آ گئے ، آپ نے فرمایا : اے بلال ! لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کرو ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے جمع ہونے کا اعلان کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میری رشتہ داری فائدہ نہیں دے گی ، قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا ، صرف میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ دنیا اور آخرت میں ملا رہے گا ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اسی وجہ سے میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اُم کلثوم کے ساتھ شادی کی تھی ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن یہ بات سنی تھی ، تو میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا بھی رشتہ قائم ہو جائے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلا ، تو میرا گزر قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے پاس سے ہوا ، وہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے تھے اور زمانہ جاہلیت کے امور کا ذکر کر رہے تھے ، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول ہم میں سے ہیں ، انہوں نے کہا: بعض اوقات درخت کسی کوڑے میں بھی اگ جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! لوگوں کو جمع ہونے کے لئے کہو ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : میں کون ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ میرا نسب بیان کرو ! لوگوں نے عرض کی : آپ سیدنا محمد بن عبدالله بن عبدالمطلب ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں محمد بن عبداللہ ہوں ، اور میں اللہ کا رسول بھی ہوں ، لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ میری اصل کو ہلکا قرار دیتے ہیں ، اللہ کی قسم ! میں اصل کے اعتبار سے ان سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں ، اور مقام کے اعتبار سے اُن سب میں بہتر ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب انصار نے اس بارے میں سنا ، تو انہوں نے کہا: تم لوگ اٹھو اور ہتھیار اٹھا لو ! کیونکہ اللہ کے رسول کو غصہ دلایا گیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے ہتھیار اٹھا لیے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، ان کا ہجوم بہت زیادہ تھا ، انہوں نے لوگوں کو گھیر لیا اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مسجد کے دروازے اور گلیاں ان سے بھر گئے ، پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں جس شخص کے بارے میں حکم دیں گے ، ہم اس کی نسل فنا کر دیں گے ، جب قریش سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور آپ کے سامنے معذرت پیش کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دوسرے لوگ اوپر اوڑھنے والی چادر ہیں ، اور انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی تعریف کی اور ان لوگوں کے بارے میں بھلائی کی بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔