کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خالد بن سنان کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13817
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْسٍ يُقَالُ لَهُ : خَالِدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ لِقَوْمِهِ : أَنَا أُطْفِئُ عَنْكُمْ نَارَ الْحَرَّتَيْنِ . فَقَالَ لَهُ عِمَارَةُ بْنُ زِيَادٍ - رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ - : وَاللَّهِ مَا قُلْتَ لَنَا يَا خَالِدُ قَطُّ إِلَّا حَقًّا ، فَمَا شَأْنُكَ وَشَأْنُ نَارِ الْحَرَّتَيْنِ ؟ تَزْعُمُ أَنَّكَ تُطْفِئُهَا ؟ قَالَ : فَانْطَلَقَ مَعَهُ عِمَارَةُ بْنُ زِيَادٍ فِي نَاسٍ مِنْ قَوْمِهِ حَتَّى أَتَوْهَا وَهِيَ تَخْرُجُ مِنْ شَقِّ جَبَلٍ فِي حَرَّةٍ يُقَالُ لَهَا : حَرَّةُ أَشْجَعٍ ، فَخَطَّ لَهُمْ خَالِدُ خُطَّةً فَأَجْلَسَهُمْ فِيهَا وَقَالَ : إِنْ أَبْطَأْتُ عَنْكُمْ فَلَا تَدْعُونِي بِاسْمِي . فَخَرَجَتْ كَأَنَّهَا خَيْلٌ شُقُرٌ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَاسْتَقْبَلَهَا خَالِدٌ [ فَجَعَلَ ] يَضْرِبُهَا بِعَصَاهُ وَيَقُولُ : بَدَا بَدَا كُلُّ مُنْتَهَى مَرَدَا زَعَمَ ابْنُ رَاعِيَةِ الْمِعْزَى أَنِّي لَا أَخْرُجُ مِنْهَا وَثِيَابِي تَنْدَى ، حَتَّى دَخَلَ مَعَهَا الشِّقَّ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِمْ . قَالَ : فَقَالَ عِمَارَةُ بْنُ زِيَادٍ : فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ صَاحِبُكُمْ حَيًّا لَقَدْ خَرَجَ إِلَيْكُمْ بَعْدُ . فَقَالُوا : إِنَّهُ قَدْ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَهُ بِاسْمِهِ . قَالَ : فَادْعُوهُ بِاسْمِهِ ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ صَاحِبُكُمْ حَيًّا لَقَدْ خَرَجَ بَعْدُ . فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَهُ بِاسْمِهِ . ، قَالَ : فَدَعُوهُ بِاسْمِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ آخِذًا بِرَأْسِهِ قَالَ : أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَدْعُونِي بِاسْمِي ؟ فَقَدْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُونِي ، فَادْفِنُونِي ، فَإِذَا مَرَّتْ بِكُمُ الْحُمُرُ فِيهَا حِمَارٌ أَبْتَرُ فَانْبُشُونِي ، فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونِي حَيًّا . قَالَ : فَمَرَّتْ بِهِمُ الْحُمُرُ فِيهَا حِمَارٌ أَبْتَرُ ، فَقَالَ : انْبُشُوهُ ، فَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَنْبُشَهُ . فَقَالَ عِمَارَةُ بْنُ زِيَادٍ : لَا تُحَدِّثُ مُضَرُ عَنَّا أَنَّا نَنْبُشُ مَوْتَانَا ، وَاللَّهِ لَا تَنْبُشُوهُ أَبَدًا .قَالَ : وَقَدْ كَانَ خَالِدٌ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ فِي عُكْمِ امْرَأَتِهِ لَوْحَيْنِ ، فَإِذَا أَشْكَلَ عَلَيْكُمْ أَمْرٌ فَانْظُرُوا فِيهِمَا فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ مَا تَسْأَلُونَ عَنْهُ ، وَلَا تَمَسُّهُمَا حَائِضٌ . قَالَ : فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى امْرَأَتِهِ سَأَلُوهَا عَنْهُمَا ، فَأَخْرَجَتْهُمَا وَهِيَ حَائِضٌ ، فَذَهَبَ مَا كَانَ فِيهِمَا مِنْ عِلْمٍ . قَالَ : وَقَالَ أَبُو يُونُسَ : قَالَ سِمَاكٌ : إِنَّ ابْنَ خَالِدِ بْنِ سِنَانٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ قَالَ : يَأْتِي أَحْيَانًا بِالْمَنَاكِيرِ . قُلْتُ : وَهَذَا مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو عبس سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ، جس کا نام خالد بن سنان تھا ، اس نے اپنی قوم سے کہا: میں تم سے دو پتھریلے علاقوں کی گرمی بجھا دیتا ہوں ، تو اس کی قوم کے ایک فرد عمارہ بن زیاد نے اس سے کہا: اللہ کی قسم ! اے خالد ! تم نے ہمیں جو بھی بات کہی ہے ، وہ حق ہی ثابت ہوئی ہے ، اب تمہارا اور دو پتھریلے علاقوں کی آگ کا کیا معاملہ ہے ؟ تم یہ کہہ رہے ہو کہ تم اسے بجھا دو گے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : پھر عمارہ بن زیاد اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ اس کے ساتھ گیا ، یہاں تک کہ وہ لوگ وہاں آئے ، تو وہ ایک پتھریلے علاقے میں پہاڑ کے کونے سے نکل رہی تھی ( یعنی لاوا بہہ رہا تھا ) اسے ” حرہ اشجع“ کہا: جاتا تھا ، تو خالد نے ان لوگوں کے لئے ایک لکیر لگائی ، اور ان لوگوں کو اس لکیر میں بٹھا دیا اور یہ کہا: اگر مجھے تمہارے پاس آنے میں تاخیر ہو جائے ، تو تم نے میرا نام لے کر مجھے نہیں بلانا ، وہ آگ ( یعنی لاوا ) یوں نکل رہی تھی جیسے سرخ رنگ کے گھوڑے ہوتے ہیں ، جو ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے ہوں ، پھر خالد نے اس آگ کی طرف رخ کیا اور اپنے عصا کے ذریعے اسے مارنے لگا اور یہ کہا: بَدَا بَدَا كُلُّ مُنْتَهَى مَرَدَا زَعَمَ ابْنُ رَاعِيَةِ الْمِعْزَى أَنِّي لَا أَخْرُجُ مِنْهَا وَثِيَابِي تَنْدَى یہاں تک کہ وہ اس آگ کے ہمراہ اس دراڑ میں داخل ہو گیا ، اسے ان لوگوں کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، راوی کہتے ہیں : تو عمارہ بن زیاد نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر تمہارا ساتھی زندہ ہوتا ، تو وہ اب تک نکل کر تمہارے پاس آ جاتا ، ان لوگوں نے کہا: اس نے ہمیں اس بات سے منع کیا تھا کہ ہم اس کا نام لے کر اُسے بلائیں ، عمارہ نے کہا: تم اسے اس کا نام لے کر بلاؤ ! اللہ کی قسم ! اگر وہ زندہ ہوتا ، تو وہ نکل کر آ چکا ہوتا ، تو کسی نے کہا: اس نے ہمیں اس بات سے منع کیا تھا کہ ہم اس کا نام لے کر اسے بلائیں ، راوی کہتے ہیں : پھر اُن لوگوں نے اس کا نام لے کر اسے بلایا ، تو وہ نکل کر اُن کے پاس آیا ، اس نے اپنے سر کو پکڑا ہوا تھا ، اس نے کہا: کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرا نام لے کر مجھے بلاؤ ، اللہ کی قسم ! تم لوگوں نے مجھے قتل کر دیا ہے ، اب تم لوگ مجھے دفن کرو ، جب گدھے تمہارے پاس سے گزریں گے ، جن میں ایک ایسا گدھا ہو گا کہ جس کی دم کٹی ہوئی ہو گی ، تو تم میری قبر کو کھود دینا ، تم مجھے زندہ پا لو گے ، راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں کے پاس سے گدھے گزرے ، جن میں ایک دم کٹا گدھا موجود تھا ، تو کسی نے کہا: تم اس کی قبر کھود دو ! کیونکہ اس نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم اس کی قبر کو کھو دیں ، تو عمارہ بن زیاد نے کہا: کہیں مضر قبیلے کے لوگ ہمارے بارے میں یہ باتیں نہ کریں کہ ہم اپنے مردوں کی قبریں کھود دیتے ہیں ، اللہ کی قسم ! تم اس کی قبر کو کبھی نہ کھودنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : خالد نے ان لوگوں کو یہ بتایا تھا کہ اس کی بیوی کے سامان میں دو ” الواح“ ہیں ، جب تم لوگوں کو کسی معاملے میں مشکل درپیش ہو ، تو تم اُن کو دیکھ لینا ، تم جس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہو گے ، تمہیں اس کا حل مل جائے گا ، لیکن کوئی حیض والی عورت اسے نہ چھوئے ، راوی کہتے ہیں : جب وہ لوگ اس کی بیوی کے پاس آئے اور انہوں نے اس خاتون سے وہ الواح مانگیں ، تو اس عورت نے وہ الواح نکال کر دیں ، تو وہ عورت اس وقت حیض کی حالت میں تھی ، تو ان الواح میں جو علم تھا ، وہ ختم ہو گیا ۔ ابویونس کہتے ہیں : سماک نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : خالد بن سنان کا بیٹا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : میرے بھتیجے کو خوش آمدید !
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن مہدی ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات منکر روایات نقل کر دیتا ہے ، میں کہتا ہوں : یہ ان ( منکر روایات ) میں سے ایک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13817
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11793)»
حدیث نمبر: 13818
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ذُكِرَ خَالِدُ بْنُ سِنَانٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ذَاكَ نَبِيٌّ ضَيَّعَهُ قَوْمُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : جَاءَتْ بِنْتُ خَالِدِ بْنِ سِنَانٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَسَطَ لَهَا ثَوْبَهُ . وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَلَكِنْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ مَعَ وَرَعِهِ ، وَابْنُ مَعِينٍ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مُعَارِضٌ لِلْحَدِيثِ الصَّحِيحِ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ، الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعِلَّاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ " . قَالَ الْبَزَّارُ : رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مُرْسَلًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خالد بن سنان کا ذکر کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ نبی تھا ، اُس کی قوم نے اُسے ضائع کر دیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” خالد بن سنان کی صاحبزادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس خاتون کے لئے اپنا کپڑا بچھا دیا تھا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن اس کے پرہیزگار ہونے کے باوجود امام أحمد اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ یہ والی روایت اُس ” صحیح “ حدیث کے برخلاف ہے ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے : ” میں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں ، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں ، اور میرے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔ “ امام بزار کہتے ہیں :یہ روایت ثوری نے سالم کے حوالے سے سعید بن جبیر سے ” مرسل “ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13818
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2361)»