مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كَرَامَةِ أَصْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کی اصل ( یعنی آپ کے آباؤ اجداد ) کے معزز ہونے کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَمَّا بَلَغَ مَعْدُ بْنُ عَدْنَانَ أَرْبَعِينَ رَجُلًا ، وَقَعُوا فِي عَسْكَرِ مُوسَى فَانْتَهَبُوهُ ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا رَبِّ ، هَؤُلَاءِ وَلَدُ مَعْدٍ قَدْ أَغَارُوا عَلَى عَسْكَرِي ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ : يَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ ، لَا تَدْعُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّ مِنْهُمُ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ النَّذِيرَ الْبَشِيرَ يَجِيءُ ، وَمِنْهُمُ الْأُمَّةُ الْمَرْحُومَةُ ، أُمَّةُ مُحَمَّدٍ الَّذِينَ يَرْضَوْنَ مِنَ اللَّهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ وَيَرْضَى اللَّهُ عَنْهُمْ بِالْقَلِيلِ مِنَ الْعَمَلِ ، فَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، نَبِيُّهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمُتَوَاضِعُ فِي هَيْئَتِهِ الْمُجْتَمِعُ لَهُ اللُّبُّ فِي سُكُوتِهِ ، يَنْطِقُ بِالْحِكْمَةِ وَيَسْتَعْمِلُ الْحِلْمَ ، أَخْرَجْتُهُ مِنْ خَيْرِ جِيلٍ مِنْ أَمَّتِهِ قُرَيْشًا ، ثُمَّ أَخْرَجْتُهُ مِنْ هَاشِمٍ صَفْوَةً مِنْ قُرَيْشٍ ، فَهُمْ خَيْرٌ مِنْ خَيْرٍ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُ ، وَهُوَ وَأُمَّتُهُ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب معد بن عدنان کی اولاد چالیس افراد تک پہنچ گئی ، تو انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر دیا اور ان کا سامان لوٹ لیا ، تو سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے ان لوگوں کے خلاف دعا کی اور یہ کہا: اے میرے پروردگار ! یہ لوگ معد کی اولاد ہیں ، جنہوں نے میرے لشکر پر حملہ کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : ” اے موسیٰ بن عمران ! تم ان کے خلاف دعا نہ کرو ، کیونکہ ان لوگوں میں سے اُمی نبی پیدا ہوں گے ، جو ڈرانے والے اور خوشخبری سنانے والے ہوں گے ، اور انہی لوگوں میں ایک امت پیدا ہو گی ، جس پر رحم کیا گیا ہو گا ، اور وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھوڑا سا رزق ملنے پر بھی راضی ہوں گے ، اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے تھوڑا سا عمل ظاہر ہونے پر راضی ہو گا ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں جنت میں داخل کر دے گا ، ان لوگوں کے نبی سیدنا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں گے ، جو ظاہری ہیئت کے اعتبار سے تواضع اختیار کرنے والے ہوں گے ، اور ان کی خاموشی میں ان کے لئے عقل مندی کو اکٹھا کیا گیا ہو گا ، وہ حکمت کے مطابق بات چیت کریں گے ، بردباری سے پیش آئیں گے ، میں انہیں ان کی امت کے سب سے بہترین خاندان قریش میں پیدا کروں گا ، اور پھر میں انہیں قریش کے منتخب خاندان بنو ہاشم میں پیدا کروں گا ، تو وہ ایک بھلائی سے دوسری بھلائی کی طرف منتقل ہوتے رہیں گے ، اور ان کی امت بھی بھلائی کی طرف منتقل ہوتی رہے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔