حدیث نمبر: 13823
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : إِنَّا لَقُعُودٌ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّتِ امْرَأَةٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : هَذِهِ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّ مَثَلَ مُحَمَّدٍ فِي بَنِي هَاشِمٍ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ فِي وَسَطِ النَّتَنِ . فَانْطَلَقَتِ الْمَرْأَةُ فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، ثُمَّ قَامَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَالٍ تَبْلُغُنِي عَنْ أَقْوَامٍ ؟ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ سَبْعًا فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَسَكَنَهَا ، وَأَسْكَنَ سَمَاوَاتِهِ مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ ، [ وَخَلَقَ الْأَرْضَ سَبْعًا فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَأَسْكَنَهَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ ] وَخَلَقَ الْخَلْقَ فَاخْتَارَ مِنَ الْخَلْقِ بَنِي آدَمَ ، وَاخْتَارَ مِنْ بَنِي آدَمَ الْعَرَبَ ، وَاخْتَارَ مِنَ الْعَرَبِ مُضَرَ ، وَاخْتَارَ مِنْ مُضَرَ قُرَيْشًا ، وَاخْتَارَ مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ ، وَاخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، فَأَنَا مِنْ خِيَارٍ إِلَى خِيَارٍ ، فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَلِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَلِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ " . وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ يُعْتَبَرُ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک خاتون وہاں سے گزری ، حاضرین میں سے کسی نے کہا: یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں ، تو حاضرین میں سے ایک شخص بولا: بنو ہاشم میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال اس طرح ہے ، جس طرح ریحانہ ( نامی پھول ) گندگی کے درمیان میں موجود ہو ، وہ خاتون گئیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار نمایاں تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” ان اقوال کا کیا معاملہ ہے ؟ جو کچھ لوگوں کے حوالے سے مجھ تک پہنچے ہیں ، بے شک اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو پیدا کیا اور ان میں سے سب سے اوپر والے کو اختیار کیا ، پھر اس نے ان آسمانوں میں اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہا ، وہاں رہائش دی ، اس نے سات زمینیں پیدا کیں اور اس نے سب سے اوپر والی ( زمین ) کو منتخب کر کے ان میں جس مخلوق کو چاہا ، وہاں رہنے دیا ، اس نے مخلوق کو پیدا کیا اور تمام مخلوق میں اولاد آدم کو منتخب کیا اور اولاد آدم میں عربوں کو منتخب کیا ، اور عربوں میں مضر قبیلے کے لوگوں کو منتخب کیا اور مضر میں قریش کو منتخب کیا اور قریش میں بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا ، تو میں بہترین لوگوں سے بہترین لوگوں کی طرف سے منتقل ہوتا رہا ، جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا ، وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص عربوں سے بغض رکھے گا ، وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ، ان کے ساتھ بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا ، تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص عربوں سے بغض رکھے گا وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی حماد بن واقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی روایت کا اعتبار کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13823
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13650)»