کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خط لکھنا اور اس پر مہر لگانا
عَنْ سَلْمَانَ - يَعْنِي الْفَارِسِيَّ - قَالَ : مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْظَمَ حُرْمَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ أَصْحَابُهُ إِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ كِتَابًا ، كَتَبُوا : مِنْ فُلَانٍ إِلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کوئی بھی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حرمت والا نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جب آپ کے نام کوئی خط لکھتے تھے ، تو وہ یہ تحریر کرتے تھے کہ یہ فلاں شخص کی طرف سے اللہ کے رسول سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے ثوری اور شعبہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13171
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6108)»
وَعَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ : " إِذَا اجْتَمَعْنَا فَعَلِيٌّ الْأَمِيرُ ، وَإِذَا تَفَرَّقْتُمَا فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى عَمَلِهِ " . وَكَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَدَأَ بِنَفْسِهِ ، ثُمَّ لَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِ . وَكَتَبَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَدَأَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ عُمَرَ الْأَسَدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا : ” جب تم دونوں اکٹھے ہو گے ، تو علی امیر ہو گا ، اور جب تم دونوں جدا ہو گے ، تو تم دونوں میں سے ہر ایک اپنا متعلقہ کام کرے گا ۔ “ پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا جس میں آغاز میں اپنا نام کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر اعتراض نہیں کیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا تو اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پہلے کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمر اسدی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13172
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3496)»
وَعَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَدَأَ بِنَفْسِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ الْعَلَاءِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يُسَمِّهِ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْعَلَاءَ لَهُ صُحْبَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا تو پہلے اپنا ذکر کیا ( یعنی یہ ان کی طرف سے ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے ان کے بیٹے کا نام بیان نہیں کیا بظاہر یہ لگتا ہے کہ سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو بھی صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13173
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2070) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (88/18)»
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى إِنْسَانٍ ، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ ، وَإِذَا كَتَبَ فَلْيُتَرِّبْ كِتَابَهُ ، فَهُوَ أَنْجَحُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی ایک نے کسی شخص کو خط لکھنا ہو تو پہلے اپنا ذکر کرے اور جب وہ خط لکھ لے تو اپنی تحریر پر مٹی لگا لے اس طرح یہ زیادہ کامیاب ہو گی ( یعنی اس کی سیاہی نہیں مٹے گی ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13174
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتَبَ لَهُ كِتَابًا بِالْوُصَاةِ إِلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنْ وُلَاةِ الْأَمْرِ ، وَخَتَمَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسلم بن حارث تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ایک خط لکھوایا جس میں اپنے بعد کے حکمرانوں کو ان کے بارے میں تلقین کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مہر لگوا دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13175
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (434/19) اخرجه احمد فى المسند (234/4)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَرَامَةُ الْكِتَابِ خَتْمُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ الصَّغِيرُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خط کی عزت یہ ہے کہ اس پر مہر لگائی جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان سدی صغیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13176
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً