حدیث نمبر: 13172
وَعَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ : " إِذَا اجْتَمَعْنَا فَعَلِيٌّ الْأَمِيرُ ، وَإِذَا تَفَرَّقْتُمَا فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى عَمَلِهِ " . وَكَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَدَأَ بِنَفْسِهِ ، ثُمَّ لَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِ . وَكَتَبَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَدَأَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ عُمَرَ الْأَسَدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا : ” جب تم دونوں اکٹھے ہو گے ، تو علی امیر ہو گا ، اور جب تم دونوں جدا ہو گے ، تو تم دونوں میں سے ہر ایک اپنا متعلقہ کام کرے گا ۔ “ پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا جس میں آغاز میں اپنا نام کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر اعتراض نہیں کیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا تو اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پہلے کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمر اسدی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13172
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3496)»