عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْعَقْلَ قَالَ لَهُ : قُمْ . فَقَامَ ، فَقَالَ لَهُ : أَدْبِرْ [ خَلْفَكَ ] . فَأَدْبَرَ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : اقْعُدْ . فَقَعَدَ ، فَقَالَ لَهُ : وَعِزَّتِي مَا خَلَقَتُ خَلْقًا خَيْرًا مِنْكَ ، وَلَا أَكْرَمَ مِنْكَ ، وَلَا أَفْضَلَ مِنْكَ وَلَا أَحْسَنَ ، بِكَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي وَبِكَ أُعْرَفُ ، وَبِكَ الثَّوَابُ وَعَلَيْكَ الْعِقَابُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو اسے فرمایا : اٹھ جاؤ ، تو وہ اٹھ گئی ، اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : پیچھے چلی جاؤ ، تو وہ پیچھے چلی گئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : کہ بیٹھ جاؤ ، تو وہ بیٹھ گئی ، اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : مجھے اپنی عزت کی قسم ہے میں نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی ، جو تم سے زیادہ بہتر ہو ، اور تم سے زیادہ معزز ہو ، اور تم سے زیادہ فضیلت والی ہو ، اور تم سے زیادہ اچھی ہو ، میں تمہاری بنیاد پر گرفت کروں گا ، تمہاری بنیاد پر عطا کروں گا ، تمہاری بنیاد پر میری معرفت حاصل کی جائے گی ، تمہارے ذریعے ثواب عطا کیا جائے گا ، اور تم پر ہی عتاب ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْعَقْلَ قَالَ لَهُ : أَقْبِلْ . فَأَقْبَلَ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : أَدْبِرْ . فَأَدْبَرَ ، فَقَالَ : وَعِزَّتِي مَا خَلَقْتُ خَلْقًا أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْكَ ، بِكَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي ، وَبِكَ الثَّوَابُ وَعَلَيْكَ الْعِقَابُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو اس سے فرمایا : آگے آؤ ، وہ آگے آ گئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پیچھے چلی جاؤ ، وہ پیچھے چلی گئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مجھے اپنی عزت کی قسم ہے ، میں نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی ، جو میرے نزدیک تم سے زیادہ پسندیدہ ہو ، تمہاری بنیاد پر میں گرفت کروں گا ، تمہارے ذریعے میں عطا کروں گا ، تمہاری وجہ سے ثواب دوں گا ، اور تم پر ہی عتاب ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوصالح ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوصالح ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأْسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ التَّحَبُّبُ إِلَى النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کے بعد سب سے بڑی عقل مندی لوگوں کے ساتھ محبت رکھنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ ، التَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَوِ ابْنُ عُمَرَ الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثٌ فِي التَّوَدُّدِ إِلَى النَّاسِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کے بعد سب سے بڑی عقلمندی لوگوں کے ساتھ محبت رکھنا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمرو یا عبیداللہ بن عمر قیسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے لوگوں کے ساتھ محبت رکھنے کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمرو یا عبیداللہ بن عمر قیسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے لوگوں کے ساتھ محبت رکھنے کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَالْجِهَادِ ، حَتَّى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ ، وَمَا يُجْزَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا بِقَدْرِ عَقْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَسَقَطَ مِنَ الْإِسْنَادِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک کوئی شخص نماز پڑھنے والوں ، زکوۃ دینے والوں ، حج ، عمرہ اور جہاد کرنے والوں میں ہوتا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھلائی کے تمام حصوں کا ذکر کیا ) لیکن اسے قیامت کے دن اس کی عقل کے حساب سے جزاء دی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منصور بن صقیر ہے ۔ یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ، اور سند میں سے اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ نامی راوی ساقط ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منصور بن صقیر ہے ۔ یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ، اور سند میں سے اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ نامی راوی ساقط ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ يَتَوَجَّهُ الرَّجُلَانِ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُهُمَا وَصَلَاتُهُ أَفْضَلُ مِنَ الْآخَرِ ، إِذَا كَانَ أَفْضَلَهُمَا عَقْلًا ، وَيَنْصَرِفُ الْآخَرُ وَصَلَاتُهُ لَا تَعْدِلُ [ مِثْقَالَ ] ذَرَّةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ السَّخْتِيَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو آدمی مسجد کی طرف آتے ہیں ، ان میں سے ایک واپس جاتا ہے ، حالانکہ اس کی نماز دوسرے سے زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے ، جب کہ وہ عقل کے اعتبار سے ان دونوں میں زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور جب دوسرا شخص واپس جاتا ہے ، تو اس کی نماز ذرے کے وزن کے برابر بھی نہیں ہوتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رجاء سختیانی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رجاء سختیانی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَلَغَهُ عَنْ رَجُلٍ شِدَّةَ عِبَادَةٍ ، سَأَلَ عَنْ عَقْلِهِ ، فَإِنْ قَالُوا : حَسَنٌ قَالَ : " أَرْجُو لَهُ " . وَإِنْ قَالُوا غَيْرَ ذَلِكَ قَالَ : " لَا يَبْلُغُ صَاحِبُكُمْ حَيْثُ تَظُنُّونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں یہ پتہ چلتا کہ وہ شدت سے عبادت کرتا ہے ، تو آپ اس کی عقل کے بارے میں دریافت کرتے تھے ، اگر لوگ بتاتے تھے کہ اچھی حالت ہے ، تو آپ فرماتے تھے : مجھے اس کے حق میں اچھائی کی امید ہے ، اور اگر لوگ اس کے علاوہ بات کرتے تھے تو آپ فرماتے تھے : تمہارے ساتھی کا وہ مقام نہیں ہے ، جو تم گمان کر رہے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا الشَّاهِدُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ - وَجَلَّ أَنْ لَا يَعْثُرَ عَاقِلٌ إِلَّا رَفَعَهُ ، ثُمَّ لَا يَعْثُرُ إِلَّا رَفَعَهُ ، ثُمَّ لَا يَعْثُرُ إِلَّا رَفَعَهُ ، حَتَّى يُصَيِّرَهُ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا گواہ ہوں کہ عقل مند شخص جب بھی ٹھوکر کھاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے ، پھر جب وہ ٹھوکر کھاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے ، پھر جب وہ ٹھوکر کھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں بھیج دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر بن رومی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر بن رومی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔