مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَقْلِ وَالْعُقَلَاءِ باب: عقل اور عقل مندوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا الشَّاهِدُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ - وَجَلَّ أَنْ لَا يَعْثُرَ عَاقِلٌ إِلَّا رَفَعَهُ ، ثُمَّ لَا يَعْثُرُ إِلَّا رَفَعَهُ ، ثُمَّ لَا يَعْثُرُ إِلَّا رَفَعَهُ ، حَتَّى يُصَيِّرَهُ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا گواہ ہوں کہ عقل مند شخص جب بھی ٹھوکر کھاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے ، پھر جب وہ ٹھوکر کھاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے ، پھر جب وہ ٹھوکر کھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں بھیج دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر بن رومی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔