مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَقْلِ وَالْعُقَلَاءِ باب: عقل اور عقل مندوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَالْجِهَادِ ، حَتَّى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ ، وَمَا يُجْزَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا بِقَدْرِ عَقْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَسَقَطَ مِنَ الْإِسْنَادِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک کوئی شخص نماز پڑھنے والوں ، زکوۃ دینے والوں ، حج ، عمرہ اور جہاد کرنے والوں میں ہوتا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھلائی کے تمام حصوں کا ذکر کیا ) لیکن اسے قیامت کے دن اس کی عقل کے حساب سے جزاء دی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منصور بن صقیر ہے ۔ یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ، اور سند میں سے اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ نامی راوی ساقط ہے اور وہ متروک ہے ۔