حدیث نمبر: 12711
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى : إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں نے پہلے انبیاء کے کلام میں سے جو چیز پائی ہے ۔ اس میں یہ بات بھی ہے کہ جب تم حیاء نہیں کرتے تو پھر تم جو چاہو کرو ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2028) اخرجه احمد فى المسند (383/5)»
حدیث نمبر: 12712
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنَّ آخِرَ مَا تَعَلَّقَ بِهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” پہلے انبیاء کے کلام میں سے زمانہ جاہلیت کے لوگ جس آخری بات کے ساتھ متعلق تھے ( وہ یہ ہے : ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12712
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (405/5)»
حدیث نمبر: 12713
وَعَنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ يُقَالُ : إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ : إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ بات کہی جاتی ہے کہ لوگوں نے نبوت کے کلام میں سے جو چیز پائی ہے ( اس میں ایک یہ بات بھی ہے ) کہ جب تم حیاء نہیں کرتے تو تم جو چاہو کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12713
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12714
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ أَنَّهُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَهُ ، وَفِتْيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ حَلُّوا أُزُرَهُمْ فَجَعَلُوهَا مَخَارِيقَ ، يَجْتَلِدُونَ بِهَا وَهُمْ عُرَاةٌ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَمَّا مَرَرْنَا بِهِمْ قَالُوا : إِنَّ هَؤُلَاءِ قِسِّيسُونَ فَدَعُوهُمْ . ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا أَبْصَرُوهُ تَبَدَّدُوا ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُغْضَبًا حَتَّى دَخَلَ ، وَكُنْتُ وَرَاءَ الْحُجْرَةِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، لَا مِنَ اللَّهِ اسْتَحْيَوْا ، وَلَا مِنْ رَسُولِهِ اسْتَتَرُوا " . وَأُمُّ أَيْمَنَ عِنْدَهُ تَقُولُ : اسْتَغْفِرْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبِلَأْيٍ مَا اسْتَغْفَرَ لَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - : فَبِأَبِي مَا اسْتَغْفَرَ لَهُمْ . ¤ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ اور ان کے ساتھی گزرے ، قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوانوں نے اپنے تہبند اتارے ہوئے تھے اور ان کے کوڑے بنائے ہوئے تھے اور وہ ایک دوسرے کو مار رہے تھے ، اور وہ لوگ برہنہ تھے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب ہم ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: یہ نیک لوگ ہیں ، انہیں رہنے دو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس سے گزرے ، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پردہ نہیں کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس تشریف لائے ، تو آپ غصے کے عالم میں تھے ، آپ اندر داخل ہوئے ، میں حجرے کے باہر ہی تھا ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ان لوگوں نے نہ اللہ سے حیاء کی ہے اور نہ اس کے رسول سے پردہ کیا ۔ “ اس وقت سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں اور یہ کہہ رہی تھیں یا رسول اللہ ! آپ ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعائے مغفرت نہیں کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے باپ کی قسم ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعائے مغفرت نہیں کی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اور امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12714
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3029) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1540) اخرجه احمد فى المسند (191/4)»