مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَقْلِ وَالْعُقَلَاءِ باب: عقل اور عقل مندوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12721
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَلَغَهُ عَنْ رَجُلٍ شِدَّةَ عِبَادَةٍ ، سَأَلَ عَنْ عَقْلِهِ ، فَإِنْ قَالُوا : حَسَنٌ قَالَ : " أَرْجُو لَهُ " . وَإِنْ قَالُوا غَيْرَ ذَلِكَ قَالَ : " لَا يَبْلُغُ صَاحِبُكُمْ حَيْثُ تَظُنُّونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں یہ پتہ چلتا کہ وہ شدت سے عبادت کرتا ہے ، تو آپ اس کی عقل کے بارے میں دریافت کرتے تھے ، اگر لوگ بتاتے تھے کہ اچھی حالت ہے ، تو آپ فرماتے تھے : مجھے اس کے حق میں اچھائی کی امید ہے ، اور اگر لوگ اس کے علاوہ بات کرتے تھے تو آپ فرماتے تھے : تمہارے ساتھی کا وہ مقام نہیں ہے ، جو تم گمان کر رہے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ متروک ہے ۔