مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَقْلِ وَالْعُقَلَاءِ باب: عقل اور عقل مندوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْعَقْلَ قَالَ لَهُ : أَقْبِلْ . فَأَقْبَلَ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : أَدْبِرْ . فَأَدْبَرَ ، فَقَالَ : وَعِزَّتِي مَا خَلَقْتُ خَلْقًا أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْكَ ، بِكَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي ، وَبِكَ الثَّوَابُ وَعَلَيْكَ الْعِقَابُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو اس سے فرمایا : آگے آؤ ، وہ آگے آ گئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پیچھے چلی جاؤ ، وہ پیچھے چلی گئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مجھے اپنی عزت کی قسم ہے ، میں نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی ، جو میرے نزدیک تم سے زیادہ پسندیدہ ہو ، تمہاری بنیاد پر میں گرفت کروں گا ، تمہارے ذریعے میں عطا کروں گا ، تمہاری وجہ سے ثواب دوں گا ، اور تم پر ہی عتاب ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوصالح ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔