حدیث نمبر: 12715
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْعَقْلَ قَالَ لَهُ : قُمْ . فَقَامَ ، فَقَالَ لَهُ : أَدْبِرْ [ خَلْفَكَ ] . فَأَدْبَرَ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : اقْعُدْ . فَقَعَدَ ، فَقَالَ لَهُ : وَعِزَّتِي مَا خَلَقَتُ خَلْقًا خَيْرًا مِنْكَ ، وَلَا أَكْرَمَ مِنْكَ ، وَلَا أَفْضَلَ مِنْكَ وَلَا أَحْسَنَ ، بِكَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي وَبِكَ أُعْرَفُ ، وَبِكَ الثَّوَابُ وَعَلَيْكَ الْعِقَابُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو اسے فرمایا : اٹھ جاؤ ، تو وہ اٹھ گئی ، اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : پیچھے چلی جاؤ ، تو وہ پیچھے چلی گئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : کہ بیٹھ جاؤ ، تو وہ بیٹھ گئی ، اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : مجھے اپنی عزت کی قسم ہے میں نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی ، جو تم سے زیادہ بہتر ہو ، اور تم سے زیادہ معزز ہو ، اور تم سے زیادہ فضیلت والی ہو ، اور تم سے زیادہ اچھی ہو ، میں تمہاری بنیاد پر گرفت کروں گا ، تمہاری بنیاد پر عطا کروں گا ، تمہاری بنیاد پر میری معرفت حاصل کی جائے گی ، تمہارے ذریعے ثواب عطا کیا جائے گا ، اور تم پر ہی عتاب ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12715
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً