عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي بَيْتٍ مَدْحُوسٍ [ مِنَ النَّاسِ ] ، فَقَامَ بِالْبَابِ ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمِينًا وَشِمَالًا فَلَمْ يَرَ مَوْضِعًا ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِدَاءَهُ ، فَلَفَّهُ ثُمَّ رَمَى بِهِ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " اجْلِسْ عَلَيْهِ " . فَأَخَذَهُ جَرِيرٌ ، فَضَمَّهُ ثُمَّ قَبَّلَهُ ، ثُمَّ رَدَّهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : أَكْرَمَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمَا أَكْرَمْتَنِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسے گھر میں موجود تھے جو لوگوں سے بھرا ہوا تھا ۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں بائیں دیکھا لیکن آپ کو کوئی جگہ نظر نہیں آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر لی اسے لپیٹا اور پھر اسے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کی طرف پھینک دیا اور فرمایا : تم اس پر بیٹھ جاؤ ۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے اسے لیا ، اسے اپنے ساتھ لگایا ، پھر اس کو بوسہ دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس کر دی ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کی بھی عزت افزائی کرے ، جس طرح آپ نے میری عزت افزائی کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی قوم کا معزز فرد تمہارے پاس آئے ، تو اس کی عزت افزائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں عون بن عمرو قیسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں عون بن عمرو قیسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْهُ قَالَ : لَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي : " يَا جَرِيرُ ، لِأَيِّ شَيْءٍ جِئْتَنَا ؟ " . قُلْتُ : لِأُسْلِمَ عَلَى يَدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَلْقَى إِلَيَّ كِسَاءَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے جریر تم کس لئے ہمارے پاس آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کے لئے آیا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر میری طرف بڑھائی اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : جب کسی قوم کا معزز فرد تمہارے پاس آئے ، تو اس کی عزت افزائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ الْبَيْتَ وَهُوَ مَمْلُوءٌ ، فَلَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا ، فَرَمَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِزَارِهِ أَوْ بِرِدَائِهِ وَقَالَ : " اجْلِسْ عَلَى هَذَا " . فَأَخَذَهُ ، فَقَبَّلَهُ وَضَمَّهُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ : أَكْرَمَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا أَكْرَمْتَنِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے جو لوگوں سے بھرا ہوا تھا ، انہیں بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ملی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان کی طرف پھینکی اور فرمایا : اس پر بیٹھ جاؤ ، انہوں نے اسے لیا اس کو بوسہ دیا ، اسے اپنے ساتھ لگایا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو عزت دے ، جس طرح آپ نے میری عزت افزائی کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی قوم کا معزز فرد تمہارے پاس آئے تو تم اس کی عزت افزائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا ، وَلَا يَكُونُ الْمُؤْمِنُ مُؤْمِنًا حَتَّى يُحِبَّ لِلْمُؤْمِنِينَ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ ضُمَيْرَةَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ضمیرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹے پر مہربانی نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کے حق کو پہچانتا نہیں ہے ، اور وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمیں دھوکہ دیتا ہے ، اور مومن اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک وہ مومنین کے لئے وہی چیز پسند نہیں کرتا جو وہ اپنے لے پسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ نامی راوی کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ نامی راوی کذاب ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ عُيَيْنَةُ بْنُ يَقْظَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَكَذَلِكَ مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی قوم کا کوئی معزز فرد تمہارے پاس آئے ، تو تم اس کی عزت افزائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی عبید بن یقطان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے مالک بن حسن بن مالک بن حویرث کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، ان دونوں راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ، معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی عبید بن یقطان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے مالک بن حسن بن مالک بن حویرث کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، ان دونوں راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ، معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ [ بَدْرٍ ، وَ ] حِصْنٌ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَهُمْ جُلُوسٌ جَمِيعًا عَلَى الْأَرْضِ ، فَدَعَا لِعُيَيْنَةَ بِنُمْرُقَةٍ ، فَأَجْلَسَهُ عَلَيْهَا ، وَقَالَ : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عیینہ بن بدر اور حصن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے اور سب لوگ زمین پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیینہ کے لئے ایک تکیہ منگوایا اور اس کو اس کے ساتھ بٹھایا اور فرمایا : جب کسی قوم کا معزز شخص تمہارے پاس آئے ، تو تم اس کی عزت افزائی کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ : شَيْخٌ صَالِحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی قوم کا معزز فرد تمہارے پاس آئے تو اس کی عزت افزائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، عیسیٰ بن یونس کہتے ہیں : یہ ایک نیک بزرگ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، عیسیٰ بن یونس کہتے ہیں : یہ ایک نیک بزرگ ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَاكُمْ كَبِيرُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَشَهْرٌ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی قوم کا معزز فرد تمہارے پاس آئے ، تو اس کی عزت افزائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، شہر نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور عبداللہ بن خراش نامی راوی ضعیف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، شہر نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور عبداللہ بن خراش نامی راوی ضعیف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ۔