عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكْرَمَ أَمِيرًا مُسْلِمًا فَإِنَّمَا يُكْرِمُ اللَّهَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مسلمان حکمران کی عزت افزائی کرتا ہے تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کا احترام کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کثیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کثیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَفَعَهُ - قَالَ : " إِذَا أَكْرَمَ الرَّجُلُ أَخَاهُ فَإِنَّمَا يُكْرِمُ رَبَّهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَمُصْعَبُ بْنُ سَلَامٍ وَهُمَا ضَعِيفَانِ وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
وَيَأْتِي فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ فِي حَقِّ الْمُسْلِمِ وَرَحْمَةِ النَّاسِ .
وَيَأْتِي فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ فِي حَقِّ الْمُسْلِمِ وَرَحْمَةِ النَّاسِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جب کوئی شخص اپنے بھائی کی عزت افزائی کرتا ہے تو وہ اپنے پروردگار کا احترام کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ اور ایک راوی مصعب بن سلام ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ آگے چل کر نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں مسلمان کے حق اور لوگوں کے لئے مہربانی سے متعلق روایات آئیں گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ اور ایک راوی مصعب بن سلام ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ آگے چل کر نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں مسلمان کے حق اور لوگوں کے لئے مہربانی سے متعلق روایات آئیں گی ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَمْسَكَ بِرِكَابِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ لَا يَرْجُوهُ وَلَا يَخَافُهُ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَازِنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَازِنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی رکاب تھامے ، جس سے اسے کوئی توقع نہ ہو ، اور اس سے کوئی خوف نہ ہو ( یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایسا کرے ) تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی مغفرت کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر مازنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر مازنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔