حدیث نمبر: 12620
وَعَنْهُ قَالَ : لَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي : " يَا جَرِيرُ ، لِأَيِّ شَيْءٍ جِئْتَنَا ؟ " . قُلْتُ : لِأُسْلِمَ عَلَى يَدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَلْقَى إِلَيَّ كِسَاءَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے جریر تم کس لئے ہمارے پاس آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کے لئے آیا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر میری طرف بڑھائی اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : جب کسی قوم کا معزز فرد تمہارے پاس آئے ، تو اس کی عزت افزائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12620
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2358 و 2266)»