کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: گناہوں کا ظاہر ہونا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا خَفِيَتِ الْخَطِيئَةُ لَمْ تَضُرَّ إِلَّا صَاحِبَهَا ، وَإِذَا ظَهَرَتْ فَلَمْ تُغَيَّرْ ضَرَّتِ الْعَامَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الْغِفَارِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب برائی پوشیدہ ہو ، تو وہ صرف متعلقہ فرد کو نقصان دیتی ہے اور جب وہ ظاہر ہو جائے اور اُسے مٹایا نہ جائے ، تو وہ عمومی لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم غفاری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12141
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ بِمَعَاصِي اللَّهِ فِيهِمْ ، وَهُمْ أَكْثَرُ مِنْهُ وَأَعَزُّ ، ثُمَّ يَدَّهِنُونَ فِي شَأْنِهِ إِلَّا عَاقَبَهُمُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی شخص ایسی قوم میں موجود ہو کہ وہ ان لوگوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ گناہوں پر عمل کرتا ہو اور دوسرے لوگ اس سے زیادہ تعداد میں ہوں اور غلبہ بھی رکھتے ہوں ، اور پھر بھی وہ اس شخص کے بارے میں کوتاہی کا اظہار کریں ، تو اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو عذاب دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12142
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (10512)»
وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّى تَعْمَلَ الْخَاصَّةُ بِعَمَلٍ تَقْدِرُ الْعَامَّةُ أَنْ تُغَيِّرَهُ وَلَا تَغَيُّرُهُ ، فَذَاكَ حِينَ يَأْذَنُ اللَّهُ فِي هَلَاكِ الْعَامَّةِ وَالْخَاصَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ مخصوص لوگوں کے عمل کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا ، جب مخصوص لوگ کوئی عمل کریں اور عام لوگ اسے ختم کرنے کی قدرت رکھتے ہوں اور پھر اسے ختم نہ کریں ، تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ عام اور خاص ( سب کو ) ہلاک کرنے کا حکم دیدیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (138/17)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُهْلَكُ الْقَرْيَةُ فِيهِمُ الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَقِيلَ : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِشَهَادَتِهِمْ وَسُكُوتِهِمْ عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا ایسی بستی بھی ہلاکت کا شکار ہو جائے گی ، جس میں نیک لوگ موجود ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ وہ لوگ موجود تھے اور پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کے معاصی کے حوالے سے خاموش رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام بزار نے
یہ روایت اسی طرح اس کی مانند نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسے نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12144
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3300) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (11702)»
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَاصِي فِي أُمَّتِي عَمَّهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا فِيهِمْ صَالِحُونَ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قُلْتُ : فَكَيْفَ يُصْنَعُ بِأُولَئِكَ ؟ قَالَ : " يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب میری امت میں معاصی ظاہر ہو جائیں گے ، تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان سب کو عمومی عذاب دے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ان میں نیک لوگ نہیں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ہوں گے ، میں نے عرض کی : تو پھر ان لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو چیز ان ( گناہگار ) لوگوں کو لاحق ہو گی وہ ان ( نیک لوگوں ) کو بھی لاحق ہو گی ، اور پھر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضامندی کی طرف چلے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (29/4)»
وَعَنْ عَائِشَةَ تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي أَرْضٍ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِأَهْلِ الْأَرْضِ بِأَسْهُ " . قَالَتْ : وَفِيهَا أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ امْرَأَةٌ لَمْ تُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہیں اس بات کا پتہ چلا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب زمین میں برائی غالب ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ تمام اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : زمین میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے بھی تو ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پھر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف چلے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک خاتون ایسی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (41/6)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ، ثُمَّ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - عَلَى أَعْمَالِهِمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو وہ عذاب ان کے درمیان سب کو لاحق ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کے حساب سے اُن لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12147
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (110/2)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ذُكِرَ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَسْفٌ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُخْسَفُ بِأَرْضٍ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا كَانَ أَكْثَرُ أَهْلِهَا الْخَبَثَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ بات پتہ چلی کہ مشرق کی سمت میں کوئی جگہ زمین میں دھنس گئی ہے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک ایسی زمین دھنس گئی ہے ، جس میں مسلمان بھی موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! ایسا اُس وقت ہوتا ہے ، جب وہاں کے رہنے والے زیادہ تر لوگ برائیوں میں مبتلا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12148
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (107) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1862)»
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " وَحَلَّقَ تِسْعِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ، اور بے شک ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، عربوں کے لئے اس برائی کے حوالے سے بربادی ہے ، جو قریب آ چکی ہے ، یا جوج اور ماجوج کی دیوار کا اتنا حصہ کھل گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا حلقہ بنا کر یہ بات ارشاد فرمائی ، میں نے عرض کی : کیا ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ؟ جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجود ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب برائی کثرت سے ہو گی ( تو ایسا ہی ہو گا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12149
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ إِلَّا كَانَ الْقَتْلُ بَيْنَهُمْ ، وَلَا ظَهَرَتْ فَاحِشَةٌ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ ، وَلَا مَنَعَ قَوْمٌ قَطُّ الزَّكَاةَ إِلَّا حَبَسَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَجَاءِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کوئی قوم عہدشکنی کرتی ہے ، تو ان کے درمیان قتل و غارت گری شروع ہو جاتی ہے ، اور جب بھی کسی قوم کے درمیان فحاشی غالب ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کر دیتا ہے ، اور جب بھی کوئی قوم زکوۃ دینے سے انکار کرتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف رجاء بن محمد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3299)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ قَالَ : " الطَّابَعُ مُعَلَّقٌ بِقَائِمَةِ الْعَرْشِ ، فَإِذَا اشْتَكَتِ الرَّحِمُ وَعُمِلَ بِالْمَعَاصِي وَاجْتُرِئَ عَلَى اللَّهِ بَعَثَ اللَّهُ الطَّابِعَ فَيَطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ فَلَا يَعْقِلُ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَشَّابُ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” ایک مہر عرش کے پائے کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے ، جب رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے اور گناہوں پر عمل کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے خلاف جرأت کا اظہار کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس مہر کو بھیجتا ہے اور وہ مہر آدمی کے دل پر مہر لگا دیتی ہے ، اس کے بعد اُس ( آدمی ) کو کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن مسلم خشاب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12151
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3298)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ عَمِلَ بِالْمَعَاصِي بَيْنَ ظَهْرَانَيْ قَوْمٍ هُو مِنْهُمْ لَمْ يَمْنَعُوهُمْ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يُغَيِّرُوا الْمُنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کچھ لوگوں کے درمیان گناہوں پر عمل کیا جائے اور وہ لوگ اس سے منع نہ کریں اور برائی کو ختم نہ کریں ، تو ان سے اللہ کا ذمہ ختم ہو جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12152
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7767)»