مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي ظُهُورِ الْمَعَاصِي . باب: گناہوں کا ظاہر ہونا
حدیث نمبر: 12142
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ بِمَعَاصِي اللَّهِ فِيهِمْ ، وَهُمْ أَكْثَرُ مِنْهُ وَأَعَزُّ ، ثُمَّ يَدَّهِنُونَ فِي شَأْنِهِ إِلَّا عَاقَبَهُمُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی شخص ایسی قوم میں موجود ہو کہ وہ ان لوگوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ گناہوں پر عمل کرتا ہو اور دوسرے لوگ اس سے زیادہ تعداد میں ہوں اور غلبہ بھی رکھتے ہوں ، اور پھر بھی وہ اس شخص کے بارے میں کوتاہی کا اظہار کریں ، تو اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو عذاب دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔