کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو مظلوم کی مدد کرنے یا منکر کے انکار پر قدرت رکھتا ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ رَبُّكَ - جَلَّ وَعَزَّ - : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَأَنْتَقِمَنَّ مِنَ الظَّالِمِ فِي عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ ، وَلَأَنْتَقِمَنَّ مِمَّنْ رَأَى مَظْلُومًا فَقَدَرَ أَنْ يَنْصُرَهُ فَلَمْ يَفْعَلْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا پروردگار یہ ارشاد فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ میں ظالم سے ضرور بدلہ لوں گا ، خواہ جلدی لوں یا تاخیر سے لوں ، اور میں اس شخص سے بھی ضرور بدلہ لوں گا ، جو کسی مظلوم کو دیکھے اور وہ اُس کی مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور پھر بھی وہ ایسا نہ کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أُذِلَّ عِنْدَهُ مُؤْمِنٌ فَلَمْ يَنْصُرْهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَنْصُرَهُ أَذَلَّهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کے پاس کسی مومن کو ذلیل کیا جا رہا ہو ، اور وہ اُس کی مدد نہ کرے ، جبکہ وہ اس کی مدد کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ حَدَّثَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : ثَنَا مَوْلًى لَنَا أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّى يَرَوُا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ، وَهُمْ قَادِرُونَ عَلَى أَنْ يُنْكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوهُ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَذَّبَ اللَّهُ الْخَاصَّةَ وَالْعَامَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، إِحْدَاهَا هَذِهِ ، وَالْأُخْرَى عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ حَدَّثَنِي مَوْلًى لَنَا وَهُوَ الصَّوَابُ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عدی بن عدی کندی نے مجاہد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میرے آقا نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے اپنے دادا کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ خواص لوگوں کے عمل کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا ، جب تک یہ صورت حال نہ ہو کہ وہ ( یعنی خواص ) لوگ اپنے درمیان منکر کو دیکھیں اور وہ اس کا انکار کرنے کی قدرت رکھتے ہوں ، لیکن پھر بھی اس کا انکار نہ کریں ، جب وہ لوگ یہ کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ خاص و عام ( سب کو ) عذاب دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک حوالہ یہ ہے اور دوسری روایت عدی بن عدی کے حوالے سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھے میرے آقا نے یہ حدیث بیان کی ہے اور یہی درست ہے ، امام طبرانی نے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک حوالہ یہ ہے اور دوسری روایت عدی بن عدی کے حوالے سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھے میرے آقا نے یہ حدیث بیان کی ہے اور یہی درست ہے ، امام طبرانی نے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ وَأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنِ امْرِئٍ يَخْذُلُ مُسْلِمًا فِي مَوْطِنٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ . وَمَا مِنِ امْرِئٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْطِنٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ " . قُلْتُ : حَدِيثُ جَابِرٍ وَحْدَهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی شخص کسی مسلمان کو کسی ایسے مقام پر رسوائی کا شکار کرے ، جہاں اس کی عزت میں کمی کی جا رہی ہو اور اس کی حرمت پامال کی جا رہی ہو ، تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کو ایسے مقام پر رسوائی کا شکار کرے گا ، جہاں وہ شخص اللہ تعالیٰ کی مدد چاہتا ہو گا اور جو بھی شخص کسی مسلمان کی ایسے مقام پر مدد کرے ، جہاں اس کی عزت میں کمی کی جا رہی ہو ، یا اس کی حرمت پامال کی جا رہی ہو ، تو اللہ تعالیٰ ایسے مقام پر اس کی مدد کرے گا ، جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی مدد چاہ رہا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے صرف سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ نَصَرَ أَخَاهُ بِالْغَيْبِ وَهُوَ يَسْتَطِيعُ نَصْرَهُ نَصَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُهَا مَوْقُوفٌ عَلَى عِمْرَانَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْمَرْفُوعِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اُس کی مدد کرتا ہے اور وہ شخص اس کی مدد کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دنیا اور آخرت میں مدد کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، یہ مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہے جن میں سے ایک روایت سیدنا عمران رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اور مرفوع کی مخلف اسانید میں سے ایک کے رجال صیح کے جال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، یہ مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہے جن میں سے ایک روایت سیدنا عمران رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اور مرفوع کی مخلف اسانید میں سے ایک کے رجال صیح کے جال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أُدْخِلَ رَجُلٌ فِي قَبْرِهِ ، فَأَتَاهُ مَلَكَانِ فَقَالَا لَهُ : إِنَّا ضَارِبُوكَ ضَرْبَةً . فَقَالَ لَهُمَا : عَلَى مَا تَضْرِبَانِي ؟ فَضَرَبَاهُ ضَرْبَةً امْتَلَأَ قَبْرُهُ مِنْهَا نَارًا ، ثُمَّ تَرَكَاهُ حَتَّى أَفَاقَ وَذَهَبَ عَنْهُ الرُّعْبُ ، فَقَالَ لَهُمَا : عَلَى مَا ضَرَبْتُمَانِي ؟ فَقَالَا : إِنَّكَ صَلَّيْتَ صَلَاةً وَأَنْتَ عَلَى غَيْرِ طَهُورٍ ، وَمَرَرْتَ بِرَجُلٍ مَظْلُومٍ فَلَمْ تَنْصُرْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ایک شخص کو قبر میں اتارا گیا ، دو فرشتے اس کے پاس آئے ، ان دونوں نے اس سے کہا: ہم تم پر ایسی ضرب لگائیں گے ، تو اس شخص نے ان سے دریافت کیا : تم دونوں کیوں مجھ پر ضرب لگاؤ گے ؟ ان دونوں نے اس پر ضرب لگائی جس کی وجہ سے اس کی قبر آگ سے بھر گئی ، پھر ان دونوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب اسے افاقہ ہوا اور اس کا رعب ختم ہوا تو اس نے ان دونوں سے کہا: تم دونوں نے مجھے کیوں ضرب لگائی ہے ؟ تو دونوں فرشتوں نے کہا: تم نماز پڑھتے تھے جبکہ تم بے وضو ہوتے تھے ( یا مکمل طور پر پاک نہیں ہوتے تھے ) اور تم ایک مظلوم شخص کے پاس سے گزرے تھے اور تم نے اُس کی مدد نہیں کی تھی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔