مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي ظُهُورِ الْمَعَاصِي . باب: گناہوں کا ظاہر ہونا
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَاصِي فِي أُمَّتِي عَمَّهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا فِيهِمْ صَالِحُونَ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قُلْتُ : فَكَيْفَ يُصْنَعُ بِأُولَئِكَ ؟ قَالَ : " يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب میری امت میں معاصی ظاہر ہو جائیں گے ، تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان سب کو عمومی عذاب دے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ان میں نیک لوگ نہیں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ہوں گے ، میں نے عرض کی : تو پھر ان لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو چیز ان ( گناہگار ) لوگوں کو لاحق ہو گی وہ ان ( نیک لوگوں ) کو بھی لاحق ہو گی ، اور پھر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضامندی کی طرف چلے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔