حدیث نمبر: 12149
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ " وَحَلَّقَ تِسْعِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ، اور بے شک ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، عربوں کے لئے اس برائی کے حوالے سے بربادی ہے ، جو قریب آ چکی ہے ، یا جوج اور ماجوج کی دیوار کا اتنا حصہ کھل گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا حلقہ بنا کر یہ بات ارشاد فرمائی ، میں نے عرض کی : کیا ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ؟ جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجود ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب برائی کثرت سے ہو گی ( تو ایسا ہی ہو گا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12149
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح