مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي ظُهُورِ الْمَعَاصِي . باب: گناہوں کا ظاہر ہونا
حدیث نمبر: 12150
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ إِلَّا كَانَ الْقَتْلُ بَيْنَهُمْ ، وَلَا ظَهَرَتْ فَاحِشَةٌ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ ، وَلَا مَنَعَ قَوْمٌ قَطُّ الزَّكَاةَ إِلَّا حَبَسَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَجَاءِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کوئی قوم عہدشکنی کرتی ہے ، تو ان کے درمیان قتل و غارت گری شروع ہو جاتی ہے ، اور جب بھی کسی قوم کے درمیان فحاشی غالب ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کر دیتا ہے ، اور جب بھی کوئی قوم زکوۃ دینے سے انکار کرتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف رجاء بن محمد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔