مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي ظُهُورِ الْمَعَاصِي . باب: گناہوں کا ظاہر ہونا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُهْلَكُ الْقَرْيَةُ فِيهِمُ الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَقِيلَ : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِشَهَادَتِهِمْ وَسُكُوتِهِمْ عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا ایسی بستی بھی ہلاکت کا شکار ہو جائے گی ، جس میں نیک لوگ موجود ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ وہ لوگ موجود تھے اور پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کے معاصی کے حوالے سے خاموش رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام بزار نے
یہ روایت اسی طرح اس کی مانند نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسے نقل کیا ہے ۔