عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ أَوْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ لَا خَيْرَ فِي أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تہبند نصف پنڈلی تک ، یا ٹخنوں تک ہو گا ، اس سے نیچے میں کوئی بھلائی نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُرَى عَضَلَةَ سَاقِهِ مِنْ تَحْتِ إِزَارِهِ إِذَا ائْتَزَرَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ نَبْهَانَ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی کا پٹھہ تہبند کے نیچے سے نظر آتا تھا جب آپ نے تہبند باندھا ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبھان ہے جو توامہ کا آزاد کردہ غلام ہے وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبھان ہے جو توامہ کا آزاد کردہ غلام ہے وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ عُثْمَانَ كَانَ يَتَّزِرُ عَلَى نِصْفِ السَّاقِ وَقَالَ : هَكَذَا إِزْرَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نصف پنڈلی تک تہبند باندھتے تھے اور یہ بات ارشاد فرماتے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند بھی اس طرح ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ فَاتَكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نِعْمَ الْفَتَى سَمُرَةُ لَوْ أَخَذَ مَنْ لِمَّتِهِ وَشَمَّرَ مِنْ مِئْزَرِهِ " . فَفَعَلَ ذَلِكَ سَمُرَةُ أَخَذَ مَنْ لِمَّتِهِ وَشَمَّرَ مِنْ مِئْزَرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ يَعْمُرَ بْنِ بِشْرٍ ، وَيُقَالُ : مَشَايِخُ أَحْمَدَ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن فاتک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سمرہ اچھا نوجوان ہے اگر وہ اپنے بال چھوٹے کروا لے اور تہبند اونچا رکھے “
( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا انہوں نے بال کٹوا لیے اور وہ تہبند اونچا رکھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد یعمر بن بشر کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ یہ بات کہی گئی ہے کہ امام أحمد کے تمام مشائخ ثقہ ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا انہوں نے بال کٹوا لیے اور وہ تہبند اونچا رکھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد یعمر بن بشر کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ یہ بات کہی گئی ہے کہ امام أحمد کے تمام مشائخ ثقہ ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتَكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نِعْمَ الْفَتَى خُرَيْمٌ لَوْ قَصَّرَ مِنْ شَعْرِهِ وَرَفَعَ مِنْ إِزَارِهِ " . قَالَ : فَقَالَ خُرَيْمٌ : لَا يُجَاوِزُ شَعْرِي أُذُنِي وَلَا إِزَارِي عَقِبِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَمَدَارُهُ عَلَى الْمَسْعُودِيِّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَالرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خریم اچھا نوجوان ہے اگر وہ بال کٹوا لے اور تہبند اوپر رکھے “ راوی بیان کرتے ہیں ، تو سیدنا خریم رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی کہ اب میرے بال کان سے آگے نہیں جائیں گے ، اور تہبند ٹخنے سے نیچے نہیں جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کا مدار مسعودی نامی راوی پر ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اور جس راوی نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ میں اس سے بھی واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کا مدار مسعودی نامی راوی پر ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اور جس راوی نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ میں اس سے بھی واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ خُرَيْمٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا خُرَيْمُ بْنَ فَاتَكٍ لَوْلَا خَصْلَتَانِ فِيكَ لَكُنْتَ أَنْتَ الرَّجُلَ " فَقَالَ : وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ حَسْبِي وَاحِدَةٌ قَالَ : " تَوْفِيرُ شَعْرِكَ وَتَسْبِيلُ إِزَارِكَ " فَانْطَلَقَ خُرَيْمٌ فَجَزَّ شَعْرَهُ وَقَصَّرَ إِزَارَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِلطَّبَرَانِيِّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خریم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے خریم بن فاتک ! اگر تمہارے اندر دو خصلتیں نہ ہوں ، تو تم عمدہ آدمی ہو ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دو چیزیں کیا ہیں ؟ میرے ( ٹھیک نہ ہونے کے لئے ) تو ایک ہی کافی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بالوں کا بڑا ہونا اور تمہارے تہبند کا لٹکنا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا خریم رضی اللہ عنہ گئے ، اور انہوں نے اپنے بال چھوٹے کروائے ، اور اپنا تہبند اونچا کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے الفاظ مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہیں ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے الفاظ مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہیں ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتَزِرُوا كَمَا رَأَيْتُ الْمَلَائِكَةَ تَأْتَزِرُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ رَأَيْتَ ؟ قَالَ : " إِلَى أَنْصَافِ سُوقِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، حَتَّى قِيلَ : إِنَّهُ مَتْرُوكٌ . وَيَحْيَى بْنُ السَّكَنِ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اس طرح تہبند باندھو جس طرح میں نے فرشتوں کو تہبند باندھے ہوئے دیکھا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے کیسے دیکھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کی نصف پنڈلی تک ( ان کا تہبند ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، یہاں تک کہ یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ متروک ہے ، اور یحیی بن سکن نامی راوی انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، یہاں تک کہ یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ متروک ہے ، اور یحیی بن سکن نامی راوی انتہائی ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيَّ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : عَبْدُ اللَّهِ قَالَ : " إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ " فَرَفَعْتُ إِزَارِي إِلَى نِصْفِ السَّاقَيْنِ ، فَلَمْ تَزَلْ إِزْرَتُهُ حَتَّى مَاتَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے جسم پر تہبند تھا ، جو زمین پر گھسٹ کر آواز پیدا کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : عبداللہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اللہ کے بندے ہو ، تو اپنا تہبند اٹھا کے رکھو ! تو میں نے اپنا تہبند نصف پنڈلیوں تک اٹھا لیا ۔ راوی کہتے ہیں ان کا تہبند ان کے مرنے تک اتنا ہی رہا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّهُ يَسْتَرْخِي إِزَارِي أَحْيَانًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَسْتَ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میرا تہبند بعض اوقات نیچے ہو جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان افراد میں سے نہیں ہو ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُلَّةً مِنَ السِّيَرَاءِ أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا ، وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ فَتَقَنَّعْتُ بِهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَاتِقِي فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعِ الْإِزَارَ فَإِنَّ مَا مَسَّتِ الْأَرْضُ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ : فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . ¤ قُلْتُ : لَهُ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِبَعْضِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : لَبِسْتُ ثَوْبًا جَدِيدًا فَأَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَ حُجْرَةِ حَفْصَةَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَسَمِعَ قَعْقَعَةَ الثَّوْبِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ” سیرائی حلہ “ پہننے کے لئے دیا ، جو فیروز نے آپ کو تحفے کے طور پر دیا تھا ، میں نے تہبند پہنا ، تو وہ طوالت اور چوڑائی میں بہت بڑا تھا ، میں نے چادر لی اسے لپیٹا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا : اے عبداللہ ! تم تہبند کو اونچا رکھو ! کیونکہ ٹخنوں سے نیچے تہبند کا جو حصہ زمین کے ساتھ مس ہو ، وہ جہنم میں ہو گا ۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں : میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ، جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اہتمام کے ساتھ تہبند اونچا رکھتا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس سیاق کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” میں نے نیا لباس پہنا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس موجود تھے ، یہ ایک تاریک رات کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے کی آواز سنی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ امام أحمد کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کی نقل کردہ حدیث ، حسن ہے ، اس ( راوی ) میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” میں نے نیا لباس پہنا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس موجود تھے ، یہ ایک تاریک رات کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے کی آواز سنی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ امام أحمد کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کی نقل کردہ حدیث ، حسن ہے ، اس ( راوی ) میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو ، وہ جہنم میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس میں ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس میں ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : بَيْنَا هُوَ يَمْشِي وَقَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ ، إِذْ لَحِقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَخَذَ بِنَاصِيَةِ نَفْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ " قَالَ عَمْرٌو : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ حَمْشُ السَّاقَيْنِ ، فَقَالَ : " يَا عَمْرُو إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ، يَا عَمْرُو " وَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ مِنْ كَفِّهِ الْيُمْنَى تَحْتَ رُكْبَةِ عَمْرٍو فَقَالَ : " يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " . ثُمَّ رَفَعَهَا ، ثُمَّ ضَرَبَ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ تَحْتَ الْمَوْضِعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " . ثُمَّ رَفَعَهَا ، ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ الثَّانِيَةِ فَقَالَ : " يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن فلاں انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ چلتے ہوئے جا رہے تھے ان کا تہبند نیچے لٹک رہا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی پکڑی ہوئی تھی اور آپ یہ فرما رہے تھے : اے اللہ ! تیرا بندہ تیرے بندے کا اور تیری کنیز کا بیٹا ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں ، جس کی پنڈلیاں کمزور ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو ! اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں ہتھیلی کی چار انگلیاں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے گھٹنے پر ماریں اور فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کی جگہ ہے پھر آپ نے اسے بلند کیا پھر چار انگلیاں اس پہلے والے سے حصے ذرا نیچے ماریں ، اور فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کی جگہ ہے ، پھر آپ نے ہاتھ اٹھایا اور اسے اس سے بھی نیچے رکھا اور پھر فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کی جگہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ الشَّرِيدِ قَالَ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ قَالَ : " ارْفَعْ إِزَارَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ " قَالَ : إِنِّي أَحَنَفُ تَصْتَكُّ رُكْبَتَايَ ، قَالَ : " ارْفَعْ إِزَارَكَ فَكُلُّ خَلْقِ اللَّهِ حَسَنٌ " . قَالَ : فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ [ بَعْدُ ] إِلَّا إِزَارَهُ يُصِيبُ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ إِلَّا وَإِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تہبند لٹکا کر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اپنا تہبند اٹھا لو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اس نے عرض کی : میں ایک ایسا شخص ہوں ، جس کی ٹانگوں میں ٹیڑھا پن ہے اور میرے گھٹنے ٹکراتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا تہبند اٹھا لو ! اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق خوبصورت ہے ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد اُن صاحب کو جب بھی دیکھا گیا ، تو ان کا تہبند نصف پنڈلی تک پہنچتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ان صاحب کو جب بھی دیکھا گیا ، اُن کا تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ان صاحب کو جب بھی دیکھا گیا ، اُن کا تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ لَحِقَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ فِي حُلَّةٍ - إِزَارٌ وَرِدَاءٌ - قَدْ أَسْبَلَ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ وَيَتَوَاضَعُ لِلَّهِ وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ " حَتَّى سَمِعَهَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، فَالْتَفَتَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَمْشُ السَّاقَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَمْرُو بْنَ زُرَارَةَ إِنَّ اللَّهَ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ، يَا عَمْرُو بْنَ زُرَارَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفِّهِ تَحْتَ رُكْبَةِ نَفْسِهِ فَقَالَ : " يَا عَمْرُو بْنَ زُرَارَةَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ ذَلِكَ فَقَالَ : " يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے اسی دوران سیدنا عمرو بن زرارہ رضی اللہ عنہ ہم سے آ کے ملے انہوں نے حلہ پہنا ہوا تھا یعنی ایک تہبند تھا ، اور ایک چادر تھی وہ تہبند لٹکا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کے کنارے کو پکڑا اور اللہ تعالیٰ کے لئے ، تواضع اختیار کرنے کا کہا: اور یہ کہا: اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ، اور تیرے بندے کا بیٹا ہے ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہے ، سیدنا عمرو بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کمزور پنڈلیوں کا مالک شخص ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو بن زرارہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے اے عمرو بن زرارہ ! بے شک اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والے کو پسند نہیں کرتا ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کو اپنے گٹھنے سے نیچے رکھا اور فرمایا : اے عمرو بن زرارہ ! یہ تہبند کا مقام ہے ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنے پہلے والے حصے سے نیچے رکھا اور فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کا مقام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ٹخنوں سے نیچے جو تہبند ہو گا ، وہ جہنم میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ شَيْءٍ جَاوَزَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْيَمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تہبند میں سے ہر وہ چیز ، جو ٹخنوں سے نیچے چلی جائے ، وہ جہنم میں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یمان بن مغیرہ ہے جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یمان بن مغیرہ ہے جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
وَعَنِ الْخَيَّاطِ الَّذِي قَطَعَ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَمِيصًا قَالَ : قُلْتُ : أَجْعَلُهُ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ ؟ قَالَ : لَا ، قُلْتُ : فَأَجْعَلُهُ مِنْ أَسْفَلِ الْكَعْبَيْنِ ؟ قَالَ : مَا أَسْفَلَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَالْخَيَّاطُ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک درزی جس نے امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے لئے قمیص کاٹی تھی ، اس کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتا ہے : میں نے کہا: کیا میں اسے پاؤں کی پشت جتنا رکھ دوں ؟ تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! میں نے کہا: کیا میں ٹخنوں سے نیچے تک کر دوں ؟ امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بخنوں سے نیچے جو ہو ، وہ جہنم میں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس درزی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس درزی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ رَأَى أَعْرَابِيًّا يُصَلِّي قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ فَقَالَ : الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ فِي الصَّلَاةِ لَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَامٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک دیہاتی کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جس نے اپنے تہبند کو لٹکایا ہوا تھا ، تو یہ بات کہی : نماز کے دوران تہبند کو لٹکانے والا شخص ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حلال یا حرام میں نہیں ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ هُبَيْبِ بْنِ مُغْفِلٍ أَنَّهُ رَأَى مُحَمَّدًا الْقُرَشِيَّ قَامَ فَجَرَّ إِزَارَهُ فَقَالَ هُبَيْبٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ وَطِئَهُ خُيَلَاءَ وَطِئَهُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا أَسْلَمَ أَبَا عِمْرَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبیب بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے محمد قرشی کو دیکھا کہ وہ کھڑا ہوا ، تو اس کا تہبند گھسٹ رہا تھا ، تو سیدنا ہبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص تکبر کے طور پر اسے پاؤں کے نیچے دے گا ، وہ جہنم میں اسے پاؤں کے نیچے دے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسلم ابوعمران کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسلم ابوعمران کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ ، [ إِذَا ] قَالَ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ فَتَوَضَّأَ " قَالَ : فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ " ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ " . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ إِلَى النَّسَائِيِّ ، وَلَمْ أَجِدْ فِي نُسْخَتِي فَلَعَلَّهُ فِي الْكُبْرَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن یسار ، ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا اس نے تہبند کو لٹکایا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم جاؤ اور وضو کرو ! راوی کہتے ہیں : وہ شخص گیا وہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور وضو کرو ! پھر وہ شخص آیا تو انہوں ( یعنی راوی صحابی ) نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے کہ آپ نے اس شخص کو وضو کرنے کا حکم دیا اور پھر وہ اس بارے میں خاموش رہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شخص تہبند کو لٹکا کر نماز ادا کر رہا تھا ، اور اللہ تعلی تہبند کو لٹکانے والے بندے کی نماز قبول نہیں کرتا “ ۔ ” اطراف “ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے ، میں نے اپنے پاس موجود نسخے میں
یہ روایت نہیں پائی ، شاید یہ ” سنن نسائی کبری “ میں ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت نہیں پائی ، شاید یہ ” سنن نسائی کبری “ میں ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَخْطُرُ فِي حُلَّةٍ لَهُ فَلَمَّا قَامَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا بُرَيْدَةُ هَذَا مِمَّنْ لَا يُقِيمُ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا جو حلے میں لہراتا ہوا آ رہا تھا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑا ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بریدہ ! یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جن کے لئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن وزن قائم نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ مُجْتَمِعُونَ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ اتَّقُوا اللَّهَ ، وَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ ثَوَابٍ أَسْرَعَ مِنْ صِلَةِ الرَّحِمِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْبَغْيَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عُقُوبَةٍ أَسْرَعَ مِنْ عُقُوبَةِ بَغْيٍ ، وَإِيَّاكُمْ وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ ، فَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ عَامٍ ، وَاللَّهِ لَا يَجِدُهَا عَاقٌّ ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ ، وَلَا شَيْخٌ زَانٍ ، وَلَا جَارٌّ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ ، إِنَّمَا الْكِبْرِيَاءُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَالْكَذِبُ كُلُّهُ إِثْمٌ ، إِلَّا مَا نَفَعْتَ بِهِ مُؤْمِنًا ، وَدَفَعْتَ بِهِ عَنْ دِينٍ ، وَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا مَا يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى ، لَيْسَ فِيهَا إِلَّا الصُّوَرُ ، فَمَنْ أَحَبَّ صُورَةً مِنْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ دَخَلَ فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم لوگ اکٹھے موجود تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو صلہ رحمی کرو کیونکہ کسی بھی چیز کا ثواب صلہ رحمی سے زیادہ جلدی نہیں ملتا اور تم سرکشی سے بچ کے رہو ، کیونکہ کسی بھی چیز کی سزا سرکشی کی سزا سے زیادہ جلدی نہیں ملتی اور تم والدین کی نافرمانی سے بیچ کے رہو ، کیونکہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے ، اور اللہ کی قسم ! والدین کا نافرمان رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والا بوڑھا زانی تہبند کو تکبر کے طور پر لٹکانے والا شخص اس کو نہیں پا سکیں گے کیونکہ کبریائی اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام جہاں کا پروردگار ہے ، اور جھوٹ سارے کا سارا گناہ ہے ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے جو کسی مومن کو نفع دے ، یا تم اس کے ذریعے قرض ادا کر دو ، جنت میں بازار ہیں ، جن میں کوئی خرید و فروخت نہیں ہو گی ، اس میں صرف تصویریں ہوں گی ، جو شخص مرد یا عورت کی جس بھی تصویر کو پسند کرے گا ، اُس کی وہ شکل بن جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
وَعَنْ كُرَيْبٍ قَالَ : كُنْتُ أَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ فِي زُقَاقِ أَبِي لَهَبٍ فَقَالَ : يَا كُرَيْبُ بَلَغْنَا مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ؟ قُلْتُ : أَنْتَ عِنْدَهُ الْآنَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْمَوْضِعِ ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ بُرْدَيْنِ ، وَيَنْظُرُ إِلَى عِطْفَيْهِ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ ، إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ فِي هَذَا الْمَوْطِنِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
کریب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ابولہب کی گلی سے لے کے گزر رہا تھا ، انہوں نے فرمایا : اے کریب ! کیا ہم فلاں ، فلاں جگہ تک پہنچ گئے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : آپ اس وقت وہاں ہی ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مقام پر موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا جو دو چادروں کے درمیان اتراتا ہوا چل رہا تھا ، وہ اپنی چادروں پر تکبر کر رہا تھا ، اور خود پسندی کا شکار تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اُسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک اُس میں دھنستا رہے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَيْنَا رَجُلٌ فِيمَا كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَ فِي بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ يَخْتَالُ فِيهِمَا ، أَمَرَ اللَّهُ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے کے زمانے میں ایک شخص دو سبز چادریں پہن کر نکلا اور وہ تکبر کر رہا تھا ، اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا ، تو زمین نے اسے پکڑ لیا ، اور وہ قیامت کے دن تک اُس میں دھنستا رہے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَيْنَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَ فِي بُرْدَيْنِ فَاخْتَالَ فِيهِمَا ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النُّمَيْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے کے زمانے میں ایک شخص دو چادریں پہن کر نکلا وہ ان پر تکبر کر رہا تھا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا زمین نے اسے پکڑ لیا تو وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا رہے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن عبداللہ نمیری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یہ کہا: ہے : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن عبداللہ نمیری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یہ کہا: ہے : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - : " أَنْ رَجُلًا كَانَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ فَتَبَخْتَرَ وَاخْتَالَ فِيهَا فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا ، اور وہ اس میں تکبر کرتے ہوئے اترا کے چل رہا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک اس میں دھنستا رہے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَنْظُرُ فِي عِطْفَيْهِ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ إِذْ تَجَلْجَلَتْ بِهِ الْأَرْضُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ : بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ . زَادَ النَّسَائِيُّ : مِنَ الْخُيَلَاءِ إِذْ خُسِفَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ ایک شخص اپنے لباس کو دیکھ کر خود پسندی کا شکار تھا تو وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا رہے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام بخاری رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ان صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ایک شخص اپنے تہبند کون لٹکا کر چل رہا تھا “ امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : تکبر کے طور پر وہ ایسا کر رہا تھا ، تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف أحمد بن محمد بن ابوبکر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف أحمد بن محمد بن ابوبکر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، وَلَيْسَ عَلَيْهِ حَرَجٌ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن کا تہبند نصف پنڈلی تک ہو گا وہاں سے لے کر ٹخنوں تک کے درمیان میں اس پر کوئی حرج نہیں ہے ، لیکن جو اس سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ كَانَ عَلَى اللَّهِ كَرِيمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اپنے کپڑے کو تکبر کے طور پر لٹکائے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا ، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : رَأَيْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتَزِرُونَ عَلَى أَنْصَافِ سُوقِهِمْ فَذَكَرَ ابْنَ عُمَرَ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے بعض حضرات کو دیکھا کہ ان کے تہبند نصف پنڈلی تک ہوتے تھے ، اس کے بعد راوی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اور سیدنا براء بن عازت رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ( کہ ان حضرات کا یہ عالم ہوتا تھا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔