مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِزْرَارِ وَمَوْضِعِهِ . باب: تہبند کا بیان اور اس کی جگہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَنْظُرُ فِي عِطْفَيْهِ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ إِذْ تَجَلْجَلَتْ بِهِ الْأَرْضُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ : بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ . زَادَ النَّسَائِيُّ : مِنَ الْخُيَلَاءِ إِذْ خُسِفَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ ایک شخص اپنے لباس کو دیکھ کر خود پسندی کا شکار تھا تو وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا رہے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام بخاری رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ان صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ایک شخص اپنے تہبند کون لٹکا کر چل رہا تھا “ امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : تکبر کے طور پر وہ ایسا کر رہا تھا ، تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف أحمد بن محمد بن ابوبکر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔