حدیث نمبر: 8517
وَعَنْ خُرَيْمٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا خُرَيْمُ بْنَ فَاتَكٍ لَوْلَا خَصْلَتَانِ فِيكَ لَكُنْتَ أَنْتَ الرَّجُلَ " فَقَالَ : وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ حَسْبِي وَاحِدَةٌ قَالَ : " تَوْفِيرُ شَعْرِكَ وَتَسْبِيلُ إِزَارِكَ " فَانْطَلَقَ خُرَيْمٌ فَجَزَّ شَعْرَهُ وَقَصَّرَ إِزَارَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِلطَّبَرَانِيِّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا خریم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے خریم بن فاتک ! اگر تمہارے اندر دو خصلتیں نہ ہوں ، تو تم عمدہ آدمی ہو ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دو چیزیں کیا ہیں ؟ میرے ( ٹھیک نہ ہونے کے لئے ) تو ایک ہی کافی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بالوں کا بڑا ہونا اور تمہارے تہبند کا لٹکنا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا خریم رضی اللہ عنہ گئے ، اور انہوں نے اپنے بال چھوٹے کروائے ، اور اپنا تہبند اونچا کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے الفاظ مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہیں ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8517
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4159) اخرجه احمد فى المسند (322/4)»