حدیث نمبر: 8521
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُلَّةً مِنَ السِّيَرَاءِ أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا ، وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ فَتَقَنَّعْتُ بِهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَاتِقِي فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعِ الْإِزَارَ فَإِنَّ مَا مَسَّتِ الْأَرْضُ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ : فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . ¤ قُلْتُ : لَهُ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِبَعْضِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : لَبِسْتُ ثَوْبًا جَدِيدًا فَأَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَ حُجْرَةِ حَفْصَةَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَسَمِعَ قَعْقَعَةَ الثَّوْبِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ” سیرائی حلہ “ پہننے کے لئے دیا ، جو فیروز نے آپ کو تحفے کے طور پر دیا تھا ، میں نے تہبند پہنا ، تو وہ طوالت اور چوڑائی میں بہت بڑا تھا ، میں نے چادر لی اسے لپیٹا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا : اے عبداللہ ! تم تہبند کو اونچا رکھو ! کیونکہ ٹخنوں سے نیچے تہبند کا جو حصہ زمین کے ساتھ مس ہو ، وہ جہنم میں ہو گا ۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں : میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ، جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اہتمام کے ساتھ تہبند اونچا رکھتا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس سیاق کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” میں نے نیا لباس پہنا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس موجود تھے ، یہ ایک تاریک رات کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے کی آواز سنی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ امام أحمد کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کی نقل کردہ حدیث ، حسن ہے ، اس ( راوی ) میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8521
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابر بعلي فى المسند (5714) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 13176 ) اخرجه أحمد فى المسند (5713)»