حدیث نمبر: 8523
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : بَيْنَا هُوَ يَمْشِي وَقَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ ، إِذْ لَحِقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَخَذَ بِنَاصِيَةِ نَفْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ " قَالَ عَمْرٌو : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ حَمْشُ السَّاقَيْنِ ، فَقَالَ : " يَا عَمْرُو إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ، يَا عَمْرُو " وَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ مِنْ كَفِّهِ الْيُمْنَى تَحْتَ رُكْبَةِ عَمْرٍو فَقَالَ : " يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " . ثُمَّ رَفَعَهَا ، ثُمَّ ضَرَبَ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ تَحْتَ الْمَوْضِعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " . ثُمَّ رَفَعَهَا ، ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ الثَّانِيَةِ فَقَالَ : " يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن فلاں انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ چلتے ہوئے جا رہے تھے ان کا تہبند نیچے لٹک رہا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی پکڑی ہوئی تھی اور آپ یہ فرما رہے تھے : اے اللہ ! تیرا بندہ تیرے بندے کا اور تیری کنیز کا بیٹا ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں ، جس کی پنڈلیاں کمزور ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو ! اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں ہتھیلی کی چار انگلیاں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے گھٹنے پر ماریں اور فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کی جگہ ہے پھر آپ نے اسے بلند کیا پھر چار انگلیاں اس پہلے والے سے حصے ذرا نیچے ماریں ، اور فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کی جگہ ہے ، پھر آپ نے ہاتھ اٹھایا اور اسے اس سے بھی نیچے رکھا اور پھر فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کی جگہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8523
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (17797)»