حدیث نمبر: 8525
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ لَحِقَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ فِي حُلَّةٍ - إِزَارٌ وَرِدَاءٌ - قَدْ أَسْبَلَ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ وَيَتَوَاضَعُ لِلَّهِ وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ " حَتَّى سَمِعَهَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، فَالْتَفَتَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَمْشُ السَّاقَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَمْرُو بْنَ زُرَارَةَ إِنَّ اللَّهَ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ، يَا عَمْرُو بْنَ زُرَارَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفِّهِ تَحْتَ رُكْبَةِ نَفْسِهِ فَقَالَ : " يَا عَمْرُو بْنَ زُرَارَةَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ ذَلِكَ فَقَالَ : " يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے اسی دوران سیدنا عمرو بن زرارہ رضی اللہ عنہ ہم سے آ کے ملے انہوں نے حلہ پہنا ہوا تھا یعنی ایک تہبند تھا ، اور ایک چادر تھی وہ تہبند لٹکا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کے کنارے کو پکڑا اور اللہ تعالیٰ کے لئے ، تواضع اختیار کرنے کا کہا: اور یہ کہا: اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ، اور تیرے بندے کا بیٹا ہے ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہے ، سیدنا عمرو بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کمزور پنڈلیوں کا مالک شخص ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو بن زرارہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے اے عمرو بن زرارہ ! بے شک اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والے کو پسند نہیں کرتا ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کو اپنے گٹھنے سے نیچے رکھا اور فرمایا : اے عمرو بن زرارہ ! یہ تہبند کا مقام ہے ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنے پہلے والے حصے سے نیچے رکھا اور فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کا مقام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8525
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7909)»