حدیث نمبر: 8533
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ مُجْتَمِعُونَ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ اتَّقُوا اللَّهَ ، وَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ ثَوَابٍ أَسْرَعَ مِنْ صِلَةِ الرَّحِمِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْبَغْيَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عُقُوبَةٍ أَسْرَعَ مِنْ عُقُوبَةِ بَغْيٍ ، وَإِيَّاكُمْ وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ ، فَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ عَامٍ ، وَاللَّهِ لَا يَجِدُهَا عَاقٌّ ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ ، وَلَا شَيْخٌ زَانٍ ، وَلَا جَارٌّ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ ، إِنَّمَا الْكِبْرِيَاءُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَالْكَذِبُ كُلُّهُ إِثْمٌ ، إِلَّا مَا نَفَعْتَ بِهِ مُؤْمِنًا ، وَدَفَعْتَ بِهِ عَنْ دِينٍ ، وَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا مَا يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى ، لَيْسَ فِيهَا إِلَّا الصُّوَرُ ، فَمَنْ أَحَبَّ صُورَةً مِنْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ دَخَلَ فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم لوگ اکٹھے موجود تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو صلہ رحمی کرو کیونکہ کسی بھی چیز کا ثواب صلہ رحمی سے زیادہ جلدی نہیں ملتا اور تم سرکشی سے بچ کے رہو ، کیونکہ کسی بھی چیز کی سزا سرکشی کی سزا سے زیادہ جلدی نہیں ملتی اور تم والدین کی نافرمانی سے بیچ کے رہو ، کیونکہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے ، اور اللہ کی قسم ! والدین کا نافرمان رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والا بوڑھا زانی تہبند کو تکبر کے طور پر لٹکانے والا شخص اس کو نہیں پا سکیں گے کیونکہ کبریائی اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام جہاں کا پروردگار ہے ، اور جھوٹ سارے کا سارا گناہ ہے ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے جو کسی مومن کو نفع دے ، یا تم اس کے ذریعے قرض ادا کر دو ، جنت میں بازار ہیں ، جن میں کوئی خرید و فروخت نہیں ہو گی ، اس میں صرف تصویریں ہوں گی ، جو شخص مرد یا عورت کی جس بھی تصویر کو پسند کرے گا ، اُس کی وہ شکل بن جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8533
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً