کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نیک عورت اور اس کے علاوہ ( یعنی بری عورت ) کا بیان
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ ، مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ : الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ وَالْمَسْكَنُ الصَّالِحُ وَالْمَرْكَبُ الصَّالِحُ . وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ : الْمَرْأَةُ السُّوءُ وَالْمَسْكَنُ السُّوءُ وَالْمَرْكَبُ السُّوءُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انسان کی سعادت مندی میں تین چیزیں شامل ہیں ، اور انسان کی بدنصیبی میں تین چیزیں شامل ہیں ، انسان کی سعادت مندی میں نیک بیوی ، اچھا گھر اور اچھی سواری شامل ہیں ، اور انسان کی بدنصیبی میں بری بیوی ، برا گھر اور بری سواری شامل ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7432
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1412) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (329) اخرجه احمد فى المسند (1445)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثٌ قَاصِمَاتُ الظَّهْرِ : زَوْجُ سُوءٍ يَأْمَنُهَا صَاحِبُهَا وَتَخُونُهُ ، وَإِمَامٌ يُسْخِطُ اللَّهَ وَيُرْضِي النَّاسَ ، وَإِنَّ مَثَلَ عَمَلِ الْمَرْأَةِ الْمُؤْمِنَةِ كَمَثَلِ سَبْعِينَ صِدِّيقًا ، وَإِنَّ عَمَلَ الْمَرْأَةِ الْفَاجِرَةِ كَفُجُورِ أَلْفِ فَاجِرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ - وَقَالَ : ذَهَبَتْ عَنِّي وَاحِدَةٌ . قُلْتُ : وَقَدْ مَرَّتْ بِي - " وَجَارُ سُوءٍ إِنْ رَأَى خَيْرًا دَفَنَهُ ، وَإِنْ رَأَى شَرًّا أَذَاعَهُ " . وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں کمر توڑ دیتی ہیں ، برا شوہر جس کی بیوی اس سے بے خوف ہو اور اس کے ساتھ خیانت کرے ، ایسا حکمران ، جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرے اور لوگوں کو راضی کر دے ، مومن عورت کے عمل کی مثال ستر صدیقوں کی مانند ہے ، اور بری عورت کے عمل کی مثال ایک ہزار فاجر لوگوں کے فجور کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ایک بات میں بھول گیا ہوں ۔ میں یہ کہتا ہوں : وہ روایت میرے سامنے سے گزری ہے : ( اس میں یہ الفاظ ہیں : ) ” اور برا ہمسایہ اگر کوئی بھلائی دیکھے گا ، تو اسے دفن کر دے گا اور اگر کوئی برائی دیکھے گا ، تو اُسے پھیلا دے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7433
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1414)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ رَزَقَهُ اللَّهُ امْرَأَةً صَالِحَةً ، فَقَدْ أَعَانَهُ عَلَى شَطْرِ دِينِهِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي الشَّطْرِ الثَّانِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسٍ ، وَعَنْهُ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَيَكُونُ إِسْنَادُهُ مُنْقَطِعًا ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے نیک بیوی عطا کی ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے نصف دین کے بارے میں ، اس کی مدد کر دی ، تو باقی نصف کے بارے میں ، اُسے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، یہ عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور ان سے زہیر بن محمد نے
یہ روایت نقل کی ہے ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، البتہ اگر یہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہیں ، تو پھر ان کی اس روایت کی سند منقطع ہے ، اور اگر یہ ان کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں ان سے واقف نہیں ہوں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7434
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (976)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَفَادَ عَبْدٌ بَعْدَ الْإِسْلَامِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ مُؤْمِنَةٍ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام کے بعد ، بندے کو کوئی ایسی چیز نصیب نہیں ہوئی ، جو اس کے لئے مومن بیوی سے زیادہ بہتر ہو ، کہ جب آدمی اس عورت کی طرف دیکھے ، تو وہ اسے اچھی لگے ، اور جب آدمی عورت کے پاس موجود نہ ہو ، تو وہ اپنی ذات اور اپنے شوہر کے مال کے بارے میں اُس کی حفاظت کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7435
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2136)»
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَشَدُّ حَسَرَاتِ بَنِي آدَمَ ثَلَاثٌ : رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ تُسْقَى وَلَهُ سَانِيَةٌ يَسْقِي عَلَيْهَا أَرْضَهُ فَلَمَّا اشْتَدَّ ظَمَأُ أَرْضِهِ وَأَخْرَجَتْ ثَمَرَهَا مَاتَتْ سَانِيَتُهُ فَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى سَانِيَتِهِ الَّتِي قَدْ عَلِمَ أَنَّهُ لَا يَجِدُ مِثْلَهَا وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى ثَمَرَةِ أَرْضِهِ الَّتِي تَفْسَدُ قَبْلَ أَنْ يَحْتَالَ حِيلَةً . ¤ وَرَجُلٌ لَهُ فَرَسٌ جَوَادٌ فَلَقِيَ جَمْعًا مِنَ الْكُفَّارِ فَلَمَّا دَنَا بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ انْهَزَمَ أَعْدَاءُ اللَّهِ فَسَبَقَ الرَّجُلُ عَلَى فَرَسِهِ فَلَمَّا كَادَ أَنْ يَلْحَقَ انْكَسَرَتْ يَدُ فَرَسِهِ فَنَزَلَ عِنْدَهُ يَجِدُ حَسْرَةً عَلَى فَرَسِهِ أَنْ لَا يَجِدَ مِثْلَهُ وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى مَا فَاتَهُ مِنَ الظَّفَرِ الَّذِي كَانَ أَشْرَفَ عَلَيْهِ . ¤ وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ قَدْ رَضِيَ هَيْأَتَهَا وَدِينَهَا فَنَفَسَتْ غُلَامًا فَمَاتَتْ بِنِفَاسِهَا فَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى امْرَأَتِهِ يَظُنُّ أَنَّهُ لَنْ يُصَادِفَ مِثْلَهَا وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى وَلَدِهِ يَخْشَى ضَيْعَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِدَ مَنْ يُرْضِعُهُ " . قَالَ : " فَهَذِهِ أَكْبَرُ هَؤُلَاءِ الْحَسَرَاتِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ لَيْسَ فِيهِ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” انسان کی حسرت تین چیزوں کے بارے میں زیادہ شدید ہوتی ہے ، ایک وہ شخص جس کی زمین ہو ، جسے سیراب کیا جاتا ہو ، اور اس شخص کی ایک اونٹنی ہو جس پر پانی لا کر وہ اپنی زمین کو سیراب کرتا ہو ، جب اس کی زمین کو پانی کی شدید ضرورت ہو اور وہ اپنا پھل نکالنے والی ہو ، اس وقت اس کی اونٹنی مر جائے ، تو وہ اپنی اونٹنی پر حسرت کو پائے گا ، وہ یہ بات جانتا ہو گا کہ اب اسے اس طرح کی اونٹنی نہیں ملے گی ، اور اسے اپنی زمین کے پھل کے حوالے سے بھی حسرت ہو گی کہ کوئی اور ذریعہ اختیار کرنے سے پہلے وہ خراب ہو جائے گا ۔ ایک وہ شخص ، جو کسی عمدہ گھوڑے پر سوار ہو اور کفار کا سامنا کرے ، جب دونوں فریق ایک دوسرے کے مدمقابل آ جائیں اور اللہ کا دشمن پسپا ہو جائے ، تو وہ شخص اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کے پاس پہنچنے والا ہو ، تو اس کے گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ جائے ، وہ اپنے گھوڑے سے نیچے اترے ، اس وقت اس کو حسرت محسوس ہو گی کہ اسے اس طرح کا گھوڑا بھی نہیں ملے گا اور اس چیز پر بھی حسرت محسوس ہو گی کہ اس نے جو کامیابی حاصل کرنی تھی ، وہ رہ گئی ہے ، جو اُس کے سامنے آ چکی تھی ۔ اور ایک وہ شخص ، جس کے پاس بیوی موجود ہو ، جس کی ظاہری شکل و صورت اور اس کے دین ، دونوں سے وہ راضی ہو ، وہ بیوی بچے کو جنم دے ، اور پھر وہ نفاس کے دوران انتقال کر جائے ، تو اس شخص کو اپنی بیوی کے حوالے سے حسرت محسوس ہوتی ہے ، وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اُسے اس جیسی بیوی نہیں ملے گی ، اور وہ اپنے بچے کے حوالے سے بھی حسرت کو پاتا ہے ، اُسے اس بچے کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ، اس سے پہلے کہ اسے کوئی دودھ پلانے والی ملے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : یہ ان حسرتوں میں سب سے بڑی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، سعید بن بشیر کے علاوہ اس میں کوئی اور ( ضعیف ) راوی نہیں ہے ، ایک جماعت نے اس کی توثیق کی ہے ۔ سی روایت امام بزار تے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور نجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے سعید بن بشیر کے علاوہ اس میں کوئی اور ( ضعیف ) راوی نہیں ہے ایک جماعت نے اس کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1415 و 1416) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7084,6879)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعٌ مَنْ أُعْطِيَهُنَّ ، فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ : قَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا وَبَدَنًا عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرًا وَزَوْجَةً لَا تَبْغِيهِ خَوْنًا فِي نَفْسِهَا ، وَلَا مَالِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار چیزیں جس شخص کو دے دی گئیں ، اُسے دنیا اور آخرت کی بھلائی دے دی گئی ، شکر کرنے والا دل ، ذکر کرنے والی زبان ، آزمائش پر صبر کرنے والا جسم ، اور ایسی عورت ، جو اپنی ذات اور آدمی کے مال کے حوالے سے ، خیانت کی خواہش مند نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم اوسط کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7437
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (7351) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11275)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : " يَا مُعَاذُ ، وَقَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا وَزَوْجَةً صَالِحَةً تُعِينُكَ عَلَى أَمْرِ دُنْيَاكَ وَدِينِكَ خَيْرُ مَا اكْتَسَبَهُ النَّاسُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے معاذ ! شکر کرنے والا دل ، ذکر کرنے والی زبان ، نیک بیوی ، تمہاری دنیا اور تمہارے دین کے معاملات میں تمہاری مدد کرتے ہیں ، اور یہ اس میں سب سے بہتر ہیں ، جسے لوگ حاصل کرتے ہیں “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7438
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7828)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ النِّسَاءِ تَسُرُّكَ إِذَا أَبْصَرْتَ وَتُطِيعُكَ إِذَا أَمَرْتَ وَتَحْفَظُ غَيْبَتَكَ فِي نَفْسِهَا وَمَالِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زُرَيْكُ بْنُ أَبِي زُرَيْكٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین میں سب سے بہتر وہ ہے کہ جب تم ( اس کو دیکھو ، تو وہ تمہیں اچھی لگے ، جب تم ( اسے ) حکم دو ، تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور وہ تمہاری غیر موجودگی میں ، اپنی ذات اور تمہارے مال کی حفاظت کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زریک بن ابوزریک ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7439
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ فِي النِّسَاءِ كَمَثَلِ الْغُرَابِ الْأَعْصَمِ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْغُرَابُ الْأَعْصَمُ ؟ قَالَ : " الَّذِي إِحْدَى رِجْلَيْهِ بَيْضَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُطَّرِحُ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ مَجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین میں ، نیک عورت کی مثال اعصم کوے کی مانند ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اعصم کوا کون سا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس کی دو ٹانگوں میں سے ایک سفید ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطرح بن یزید ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7440
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7817)»
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَلَمَّا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ إِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا وَاضِعَةٌ يَدَهَا عَلَى هَوْدَجِهَا فَلَمَّا نَزَلَ دَخَلَ الشِّعْبَ وَدَخَلْنَا مَعَهُ فَقَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْمَكَانِ فَإِذْ نَحْنُ بِغِرْبَانٍ كَثِيرٍ ، وَإِذَا بِغُرَابٍ أَعْصَمِ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلِ فَقَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا كَقَدْرِ الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ " . ¤ قَالَ أَبُو عُمَرَ : الْأَعْصَمُ : الْأَحْمَرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمارہ بن خزیمہ بن عمرو بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک حج یا عمرہ کے موقع پر موجود تھے ، جب ہم ” مر الظہران “ کے مقام پر پہنچے ، تو وہاں ایک عورت ہودج میں موجود تھی ، جس نے اپنا ہاتھ ہودج پر رکھا ہوا تھا ، جب وہ نیچے کی طرف اتر رہے تھے ، تو وہ ایک گھاٹی میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ ہم بھی داخل ہو گئے ، انہوں نے یہ بتایا : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مقام پر موجود تھے ، تو یہاں بہت سے کوے تھے اور ان میں ایک ایسا کوا بھی تھا ، جس کی چونچ اور ٹانگیں اعظم تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورتوں میں سے جنت میں صرف اتنی عورتیں داخل ہوں گی ، جس طرح ان کووں میں یہ کوا ہے ۔ ابوعمر کہتے ہیں : اعصم سے مراد سرخ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7441
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ الْمَرْأَةِ الْمُؤْمِنَةِ كَمَثَلِ الْغُرَابِ الْأَبْلَقِ فِي غِرْبَانٍ سُودٍ لَا ثَانِيَةَ لَهَا ، وَلَا شَبَهَ لَهَا . وَمَثَلُ الْمَرْأَةِ السُّوءِ كَمَثَلِ بَيْتٍ مُزَوَّقٍ ظَهْرُهُ ، خَرِبٍ جَوْفُهُ ، كَظُلَّةٍ لَا نُورَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَى أَنْ لَا تَقُومَ امْرَأَةٌ عَنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا مُجَانِبَةً لَهُ إِلَّا هِيَ عَاصِيَةٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن عورت کی مثال ، کالے کووں میں ، ابلق کوے کی مانند ہے ، جس کا کوئی ثانی نہیں ہوتا ، اور جس کے کوئی مشابہہ نہیں ہوتا ، اور بری عورت کی مثال ایسے گھر کی مانند ہے ، جس کی پشت ( یعنی ظاہر ) آراستہ ہو ، اور جس کا اندرونی حصہ خراب ہو ، اور ایسے بادل کی مانند ہے ، جس کا قیامت کے دن نور نہیں ہو گا ، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جو عورت شوہر سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے ، اس کے بستر سے اُٹھ جاتی ہے ، وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمان شمار ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7442
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ : قَالَ دَاوُدُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كُنْ لِلْيَتِيمِ كَالْأَبِ الرَّحِيمِ وَاعْلَمْ أَنَّكَ كَمَا تَزْرَعُ تَحْصُدُ ، وَمَثَلُ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ لِبَعْلِهَا كَالْمَلِكِ الْمُتَوَّجِ بِالْمُخَوَّصِ بِالذَّهَبِ كُلَمَّا رَآهَا قَرَّتْ بِهَا عَيْنَاهُ وَمَثَلُ الْمَرْأَةِ السُّوءِ لِبَعْلِهَا كَالْحِمْلِ الثَّقِيلِ عَلَى الشَّيْخِ الْكَبِيرِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ فِي الْمَوَاعِظِ بِتَمَامِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا داؤد نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : ” تم یتیم کے لیے ، اس طرح ہو جاؤ ! جیسے رحیم باپ ہوتا ہے ، اور تم یہ بات جان لو ! کہ تم جو بوؤ گے ، وہی کاٹو گے ، اور شوہر کے لئے نیک عورت کی مثال ، اس طرح ہے جیسے کسی بادشاہ نے تاج پہنا ہوا ہو ، جو سونے سے آراستہ ہو ، جب کبھی بھی وہ اسے دیکھے تو اس کی آنکھوں میں ٹھنڈک آئے ، اور بری عورت کی مثال اپنے شوہر کے لئے اس طرح ہے ، جس طرح کسی بوڑھے آدمی پر بہت سا بوجھ لاد دیا گیا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ ” مواعظ “ سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7443
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح