مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ ، وَغَيْرِهَا . باب: نیک عورت اور اس کے علاوہ ( یعنی بری عورت ) کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثٌ قَاصِمَاتُ الظَّهْرِ : زَوْجُ سُوءٍ يَأْمَنُهَا صَاحِبُهَا وَتَخُونُهُ ، وَإِمَامٌ يُسْخِطُ اللَّهَ وَيُرْضِي النَّاسَ ، وَإِنَّ مَثَلَ عَمَلِ الْمَرْأَةِ الْمُؤْمِنَةِ كَمَثَلِ سَبْعِينَ صِدِّيقًا ، وَإِنَّ عَمَلَ الْمَرْأَةِ الْفَاجِرَةِ كَفُجُورِ أَلْفِ فَاجِرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ - وَقَالَ : ذَهَبَتْ عَنِّي وَاحِدَةٌ . قُلْتُ : وَقَدْ مَرَّتْ بِي - " وَجَارُ سُوءٍ إِنْ رَأَى خَيْرًا دَفَنَهُ ، وَإِنْ رَأَى شَرًّا أَذَاعَهُ " . وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں کمر توڑ دیتی ہیں ، برا شوہر جس کی بیوی اس سے بے خوف ہو اور اس کے ساتھ خیانت کرے ، ایسا حکمران ، جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرے اور لوگوں کو راضی کر دے ، مومن عورت کے عمل کی مثال ستر صدیقوں کی مانند ہے ، اور بری عورت کے عمل کی مثال ایک ہزار فاجر لوگوں کے فجور کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ایک بات میں بھول گیا ہوں ۔ میں یہ کہتا ہوں : وہ روایت میرے سامنے سے گزری ہے : ( اس میں یہ الفاظ ہیں : ) ” اور برا ہمسایہ اگر کوئی بھلائی دیکھے گا ، تو اسے دفن کر دے گا اور اگر کوئی برائی دیکھے گا ، تو اُسے پھیلا دے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے اور وہ متروک ہے ۔