کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: معزز خاندان کی خواتین
حدیث نمبر: 7430
عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ : دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَسَارَّهُ ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَجَاءَ الصُّفَّةَ فَوَجَدَ الْعَبَّاسَ وَعَقِيلًا وَالْحُسَيْنَ فَشَاوَرَهُمْ فِي تَزْوِيجِ عُمَرَ أُمَّ كُلْثُومٍ فَغَضِبَ عَقِيلٌ وَقَالَ : يَا عَلِيُّ مَا تَزِيدُكَ الْأَيَّامُ وَالشُّهُورُ وَالسُّنُونَ إِلَّا الْعَمَى فِي أَمْرِكَ ، وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ لَيَكُونَنَّ وَلَيَكُونَنَّ لِأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا . وَمَضَى يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْعَبَّاسِ : وَاللَّهِ مَا ذَلِكَ مِنْهُ نَصِيحَةٌ ، وَلَكِنَّ دِرَّةَ عُمَرَ أَحْرَجَتْهُ إِلَى مَا تَرَى ، أَمَا وَاللَّهِ مَا ذَاكَ رَغْبَةٌ فِيكَ يَا عَقِيلُ ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي " . فَضَحِكَ عَمَرُ وَقَالَ : وَيْحَ عَقِيلٍ سَفِيهٌ أَحْمَقُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اسلم ، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھے اور صفہ کے چبوترے پر آ گئے وہاں ۔ انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو موجود پایا ، انہوں نے ان حضرات کے ساتھ اس بارے میں مشورہ لیا کہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شادی کروا دیں ، تو سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے : اے علی ! دن ، مہینے ، سال تمہارے اندھے پن میں اضافہ ہی کرتے رہیں گے ، اللہ کی قسم ! اگر تم نے ایسا کیا ، تو یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا ، انہوں نے متعدد چیزیں شمار کروا دیں ، پھر وہ اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے تشریف لے گئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ اس شخص کی طرف سے خیرخواہی نہیں ہے ، بلکہ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درے نے اسے حرج میں مبتلا کر کے وہاں تک پہنچا دیا ہے ، جو آپ نے دیکھا ہے ، اللہ کی قسم ! اے عقیل ! یہ تمہارے بارے میں رغبت نہیں ہے ، بلکہ عمر بن خطاب نے مجھے یہ بتایا ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ، ہر سبب اور ہر نسب منقطع ہو جائے ، صرف میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ ( جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں پتہ چلا ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور بولے : عقیل بہت ہی بے وقوف اور احمق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7431
قَالَ : إِنَّهَا لَصَغِيرَةٌ عَنْ ذَلِكَ . - قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ - فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : زَوِّجَا عَمَّكُمَا . فَقَالَا : هِيَ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ تَخْتَارُ لِنَفْسِهَا . فَقَامَ عَلِيٌّ ، وَهُوَ مُغْضَبٌ فَأَمْسَكَ الْحَسَنُ بِثَوْبِهِ وَقَالَ : لَا صَبْرَ عَلَى هُجْرَانِكَ يَا أَبَتَاهُ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ عَقِيلٍ . ¤ وَفِي الْمَنَاقِبِ أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے منجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تو ابھی بہت کمسن ہے ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم دونوں اپنے چچا کی شادی کروا دو ! تو ان دونوں حضرات نے عرض کی : وہ ایک خاتون ہیں ، وہ اپنی ذات کے لئے جو چاہیں اختیار کر سکتی ہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان کا کپڑا پکڑ لیا اور بولے : اے ابا جان ! آپ سے لاتعلقی برداشت نہیں ہو سکتی ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے ۔ مناقب سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7431