حدیث نمبر: 7436
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَشَدُّ حَسَرَاتِ بَنِي آدَمَ ثَلَاثٌ : رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ تُسْقَى وَلَهُ سَانِيَةٌ يَسْقِي عَلَيْهَا أَرْضَهُ فَلَمَّا اشْتَدَّ ظَمَأُ أَرْضِهِ وَأَخْرَجَتْ ثَمَرَهَا مَاتَتْ سَانِيَتُهُ فَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى سَانِيَتِهِ الَّتِي قَدْ عَلِمَ أَنَّهُ لَا يَجِدُ مِثْلَهَا وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى ثَمَرَةِ أَرْضِهِ الَّتِي تَفْسَدُ قَبْلَ أَنْ يَحْتَالَ حِيلَةً . ¤ وَرَجُلٌ لَهُ فَرَسٌ جَوَادٌ فَلَقِيَ جَمْعًا مِنَ الْكُفَّارِ فَلَمَّا دَنَا بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ انْهَزَمَ أَعْدَاءُ اللَّهِ فَسَبَقَ الرَّجُلُ عَلَى فَرَسِهِ فَلَمَّا كَادَ أَنْ يَلْحَقَ انْكَسَرَتْ يَدُ فَرَسِهِ فَنَزَلَ عِنْدَهُ يَجِدُ حَسْرَةً عَلَى فَرَسِهِ أَنْ لَا يَجِدَ مِثْلَهُ وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى مَا فَاتَهُ مِنَ الظَّفَرِ الَّذِي كَانَ أَشْرَفَ عَلَيْهِ . ¤ وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ قَدْ رَضِيَ هَيْأَتَهَا وَدِينَهَا فَنَفَسَتْ غُلَامًا فَمَاتَتْ بِنِفَاسِهَا فَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى امْرَأَتِهِ يَظُنُّ أَنَّهُ لَنْ يُصَادِفَ مِثْلَهَا وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى وَلَدِهِ يَخْشَى ضَيْعَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِدَ مَنْ يُرْضِعُهُ " . قَالَ : " فَهَذِهِ أَكْبَرُ هَؤُلَاءِ الْحَسَرَاتِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ لَيْسَ فِيهِ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” انسان کی حسرت تین چیزوں کے بارے میں زیادہ شدید ہوتی ہے ، ایک وہ شخص جس کی زمین ہو ، جسے سیراب کیا جاتا ہو ، اور اس شخص کی ایک اونٹنی ہو جس پر پانی لا کر وہ اپنی زمین کو سیراب کرتا ہو ، جب اس کی زمین کو پانی کی شدید ضرورت ہو اور وہ اپنا پھل نکالنے والی ہو ، اس وقت اس کی اونٹنی مر جائے ، تو وہ اپنی اونٹنی پر حسرت کو پائے گا ، وہ یہ بات جانتا ہو گا کہ اب اسے اس طرح کی اونٹنی نہیں ملے گی ، اور اسے اپنی زمین کے پھل کے حوالے سے بھی حسرت ہو گی کہ کوئی اور ذریعہ اختیار کرنے سے پہلے وہ خراب ہو جائے گا ۔ ایک وہ شخص ، جو کسی عمدہ گھوڑے پر سوار ہو اور کفار کا سامنا کرے ، جب دونوں فریق ایک دوسرے کے مدمقابل آ جائیں اور اللہ کا دشمن پسپا ہو جائے ، تو وہ شخص اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کے پاس پہنچنے والا ہو ، تو اس کے گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ جائے ، وہ اپنے گھوڑے سے نیچے اترے ، اس وقت اس کو حسرت محسوس ہو گی کہ اسے اس طرح کا گھوڑا بھی نہیں ملے گا اور اس چیز پر بھی حسرت محسوس ہو گی کہ اس نے جو کامیابی حاصل کرنی تھی ، وہ رہ گئی ہے ، جو اُس کے سامنے آ چکی تھی ۔ اور ایک وہ شخص ، جس کے پاس بیوی موجود ہو ، جس کی ظاہری شکل و صورت اور اس کے دین ، دونوں سے وہ راضی ہو ، وہ بیوی بچے کو جنم دے ، اور پھر وہ نفاس کے دوران انتقال کر جائے ، تو اس شخص کو اپنی بیوی کے حوالے سے حسرت محسوس ہوتی ہے ، وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اُسے اس جیسی بیوی نہیں ملے گی ، اور وہ اپنے بچے کے حوالے سے بھی حسرت کو پاتا ہے ، اُسے اس بچے کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ، اس سے پہلے کہ اسے کوئی دودھ پلانے والی ملے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : یہ ان حسرتوں میں سب سے بڑی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، سعید بن بشیر کے علاوہ اس میں کوئی اور ( ضعیف ) راوی نہیں ہے ، ایک جماعت نے اس کی توثیق کی ہے ۔ سی روایت امام بزار تے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور نجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے سعید بن بشیر کے علاوہ اس میں کوئی اور ( ضعیف ) راوی نہیں ہے ایک جماعت نے اس کی توثیق کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1415 و 1416) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7084,6879)»